ایک مکالماتی نظم

میرے اندر ایک عجب سی اُداسی چھائی ہے بیٹی
جیسے ایک ہُو کا عالم ہے اور میں ریزہ ریزہ ہو رہی ہوں
میرے ہونٹوں پر اگی پیاس کسی دریا کے کنارے دم توڑتی ہو
اور موت جیسے سر پر کھڑی ہے میری بیٹی
ہر پہر ُدکھ کی گھڑی ہے میری بیٹی
سورج زمین پر آگ کی مانند قہر برسا رہا ہے
خدا بھی مہربان نہیں رہا میری بیٹی
تم سچ کہتی ہو ماں
یہ ہمارا شہر نہیں کوئی گھنا جنگل ہے ماں
جہاں ہر طرف اندھیرا رہتا ہے
ہر پل چیخنے رونے کی آوازیں آتی ہیں
یہاںبس گدھ اور لومڑیوں کا راج ہے ماں
دہشت گردی ختم کرنے والے ہی دہشت گرد ہیں ماں
میری پیاری بیٹی
بس نہ رو
نہ غم کر
بس صبر کر میری بیٹی
میں تیری دمساز تیرے ساتھ ہوں میری بیٹی
جانتی ہوں نازک ہے تیرا پھول جیسا بدن اور یہ بوٹ ہیں بھاری
کیسے بتاؤں تجھے
ان بوٹوں تلے تیرا معصوم بدن نہیں میرا کلبوت ہے بیٹی
ہائے
تجھے کیسے بچاؤں
اب کسے پکاروں
یہاں سارے ’’ مرحب ‘‘ ہیں میری بیٹی
کہنے کو بہادر اور سرکار ہیں یہ لوگ
پر ہیں سب اسلحہ پوش اور اسلحہ فروش
یاد رکھنا
یہ سب سفاک اور جلاد ہیں میری بیٹی
صدحیف !!!
یوں لگتا ہے جیسے اپنے سر تن سے جدا کرنے کا موسم آگیا میری بیٹی
کوئی نہیں رہا جو سچ کے لئے امن کے لئے انصاف کے لئے ذُوالفقار (تلوار) کو لہرائے
مرحب کو للکارے
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہے
میں وہ ہوں کہ
میری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا ہے
میں کچھار کے شیر کی طرح ہیبت ناک ہوں
اور پھر
دشمن کو ایک ہی ضرب سے ڈھیر کر دے
ہائے !!!
سب گونگے بہرے ہو گئے ہو جیسے
ان کے ضمیر ہماری قسمت سو گئی ہو جیسے
مرے ہوؤں کو اب نہ پکار میری پیاری بیٹی
اس بوٹ کے بوجھ کو اپنا مقدر سمجھ لے بیٹیؔ