’’ایک دوسرے کے قاتل نہ بنیں‘‘

دنیا کا ہر ذی شعور انسان غصے کے مضر اثرات ونتائج سے واقفیت رکھتا ہے۔تجربہ بتاتاہے کہ غصے سے جنم لینے والا ہر ایک ردعمل اپنے ساتھ خسارا اور پچھتاوا ہی لاتاہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر تعمیر سیرت کے حوالے سے قرآن مجید نے غصے کوزیر کرناپرہیزگاروں کی صفت بتایا ہے ۔ غصہ ہر ایک کو آتا ہے،غصہ آنا فطری ہے لیکن یہ اللہ نے انسان کے اندر بطور آزمائش رکھا ہوا ہے، شیطان بار بار بندے کو غصہ کے لیے اکساتا ہے۔اس طرح غصہ پر قابو پانا آسان کام نہیں اس کے لیے مستقل محنت کی ضرورت ہوتی ہے، بارہاایسادیکھنے میں آتاہے کہ انسان حتی المقدورکوشش کرتاہے کہ غصہ نہ کرے لیکن حالات اس کے اندراس قدر ارتعاش پیداکردیتے ہیں کہ وہ غصے پر قابو نہیں پاتا۔ بعدازاں پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔غصے کی اسی غیرمعمولی قوت کو دھیان میں رکھ کھ کر جدید سائنس نے اس ضمن میں کئی طرح کے کورسز بھی ترتیب دیے ہیں جن میں لوگوں کو غصے کے وقت اپنے حواس پر قابو رکھنا سکھایا جاتا ہے، معمولی معمولی چیزیں غصہ نہ دلائے، اس کے لیے ٹیکنیک سکھائی جاتی ہے۔بحیثیت امت مسلمہ ہمیں بھی جدید اورسائنٹفک اصولوں سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
’’ ایک دوسرے کے قاتل نہ بنیں‘‘(Lets not kill each other)غصے کوقابومیں لانے کے لئے کنیز فاطمہ کا ایک انتہائی مفید گائیڈ بک ہے۔ کنیز فاطمہ پیشے کے اعتبارسے ایک کونسلر،NextGen parenting کی بانی رکن،اور لائف کوچ کی حیثیت سے بھی اس طرح کے مسائل کاگہرا علم رکھتی ہے۔ مذکورہ کتاب کو انہوں نے آٹھ ابواب میں تقسیم کیاہے۔پہلے باب کو ’’غصہ:جاننے لائق ضروری معلومات ‘‘کے عنوان کے تحت باندھا گیاہے اور اس میں مصنفہ بتاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو خوداحتسابی کے آئینے میں ضرور دیکھیں اور پتہ لگائیں کہ کیاان کاشماران تین قسم کے لوگوں میں تو نہیں ہوتا، جن میں پہلا گروہ وہ لوگ ہیں جو بہت کم وقت میں تناؤ اور غصے کی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ دوسرا، وہ لوگ جو چیزوں کو جب اپنی منصوبہ بندی اورتدبیر کے مطابق ہوتاہوا نہ دیکھ پاتے ہیں تو غصے سے آگ بگولہ ہوجاتے ہیںاور تیسرا گروہ ان لوگوں کا جو غصہ آنے پر ماراماری ، ناشائستہ الفاظ اور گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں۔آگے مصنفہ غصے کی جذباتی کیفیت کوبیان کرتے ہوئے لکھتی ہے کہ غصہ اپنی فطرت میں ایک صحت مند جذبہ ہے، لیکن صرف اس حدتک جب تک یہ اپنے مقررہ دائرے سے باہر نہ نکلے۔ اس کے بعد وہ غصے سے جڑے دیگر اہم مسائل جیسے کہ غصے سے پیداہونے والے اثرات، غصہ دلانے والے عوامل، غصے کی مختلف کیفیات اور غصے کے مہلک بن جانے کی وجوہات پر بحث کرتی ہے ۔ مصنفہ کا یہ ماننا حقیقت پرمبنی ہے کہ غصے پرقابوپانے کے طریقے ،جس کو ہم عرف عام میں Anger Managmentکہتےہیں۔ دورجدید کی ایک اہم ضرورت اختیار کرگیاہے۔خاص کر جب مختلف تحقیقات کے ذریعے یہ ثابت ہوا کہ ہر تین میں سے ایک فرد کو اس کی ضرورت ہے۔ اس باب میں آگے مصنفہ ان توہمات کے بارے میں بات کرتی ہے جوغصے کو لے کر ہمارے سماج میں عام پائی جاتی ہے۔اور ان توہمات کی وجہ سے ایک شخص غصہ قابو پانے پر محنت نہیں کرتا۔مثال کے طور پر ایسے دعوے کہ غصہ موروثی ہوتاہے، غصہ پی جانا انسان کے لئے نقصان دہ ہوتاہے، مرد غصے کے معاملے میں ہمیشہ خواتین سے آگے ہوتے ہیں اور یہ کہ عمر کے ساتھ ساتھ انسان اور زیادہ غصیلہ ہوجاتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ باب کے آخرمیں مصنفہ نے انگریزی کے پہلے تین حروف اے،بی اور سی کی ترتیب سے غصے کی ابجد تیار کی ہے۔ جس کے تحت اے، اینگر ٹِرگر(Anger trigger) کی نمائندگی کرتاہے،یعنی وہ بنیادی وجہ جوغصہ دلانے میں  بنیادی کردار اداکرتاہے۔ بی، انسان کے Behaviourکی عکاسی کرتاہے اور سی ،غصے سے جنم لینے والے نتائج یعنی Consequencesکی علامت ہے۔ باب ختم کرنے سے پہلے کنیز فاطمہ قاری کو مشق کرانے کے لئے اسے ترغیب دیتی ہے کہ وہ کاغذقلم پکڑے اور غصے کے حوالے سے اپنے تجربات کو قلمبندکرنے کی کوشش کرے۔ 
کتاب ( گائیڈ بک) کے دوسرے باب کاعنوان ہے’’کیاغصہ ہر صورت ایک پریشان کن مسئلہ ہے؟ ‘‘مصنفہ نے اس باب کا آغاز قرآن کریم کی سورة العمران کی آیت ۴۳۱سے کیاہے۔ اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں یعنی پرہیزگاروں کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ غصے کو پی جانے والے اور درگزرسے کام لینے والے ہوتے ہیں۔ اس کے لئے مصنفہ قارئین پرزور دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہرانسان کے لئے اس بات کاپتہ لگانا نہایت ضروری ہے کہ ایسی کون سی چیزہے،جواس کوغصہ دلانے کی وجہ بنتی ہے۔ وہ کوئی شئے بھی ہوسکتی ہے، کوئی بات یاکسی کا کوئی ردعمل بھی اوراس کاصحیح ادراک کرنے کے لئے ہرفرد کو اپنی سطح پر غوروفکر سے کام لینا چاہیے ۔ مزید وہ اُن مختلف کیفیات کی وضاحت بھی کرتی ہیں،جوغصے کے وقت انسان پر طاری ہوجاتے ہیں۔مثلاً کہیں ایسا تونہیں کہ غصہ آنے کے پیچھے دراصل کسی کے تئیں محبت کے شدید جذبات کارفرما ہوں ؟یاپھر غصہ آپ کو دکھی کردیتاہو،آپ کوکسی خوف کی نفسیات میں مبتلا کردیتاہویا پھر آپ میں احساسِ برتری یادوسروں کے متعلق طنزیہ سلوک اپنانے پراُبھارتاہو؟اس کے لئے ضروری ہے کہ ہرشخص اس بات پرغورکرے کہ غصہ آتے وقت اُس کے ذہن میں کس کی تصویر گھوم رہی ہوتی ہے؟کیا وہ دفترمیں جس کے ماتحت کام کررہاہوتاہے،اس کی شکل ہوتی ہے؟ اپنے بیوی /شوہراوربچوں کی؟ یاپھراپنے دوستوں یا ہمسائیوں کی؟اس بات کو جاننے کے لئے کہ آپ کاغصہ نارمل ہے یا ابنارمل ،مصنفہ آگے آٹھ نکات پرمبنی ایک پیمائشی اصول وضع کرتی ہیں ، جس کے تحت ہرفرد اپنے غصے کی نوعیت کو ماپ سکتاہے کہ اس سلسلے میں وہ کہتی ہیں کہ گزشتہ ماہ میں آپ کوکتنی دفعہ غصہ آیا؟ہفتے میں ایک یادوبار، تین سے پانچ باریاپھر ایک باربھی نہیں؟پیمائش کے بعدیہ پتہ لگانے کے لئے کہ کسی فرد کاغصہ ، غصے کی کون سی قسم سے تعلق رکھتاہے، مصنفہ نے غصے کی دس اقسام گنوائی ہیں ۔ راقم کا ماننا ہے کہ غصے کی اقسام بیان کرتے وقت اگر ان کی کچھ مثالیں بھی شامل کردی جاتی توقاری کے سامنے بات اورزیادہ واضح ہوکر سامنے آتی۔ باب کے اختتام پر مصنفہ قارئین کو مشق کراتی ہے کہ غصہ آتے وقت وہ اپنی کیفیات کوکیساپاتے ہیں؟ کیاوہ اچھے سے بات نہیں کرتے؟پریشان رہتے ہیں؟ بھاری پن محسوس کرتے ہیں؟ وغیرہ۔ اس کیفیت سے واقف ہوناقاری کے لئے بہت ضروری ہے۔ 
’’کیا غصے پر قابو پانا ممکن ہے؟‘‘ کتاب کے چوتھے باب کاعنوان ہےاس باب کی شروعات مصنفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابوداؤد میں درج حدیث  سے  کرتی ہے جس میں رسول اللہؐ کا ارشاد ہے کہ ’’غصہ شیطان کی طرف سے ہے۔ شیطان آگ سے پیداکیاگیاہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے۔ اس لئے جب تم میں سے کسی کوغصہ آئے تو وضو کرلیناچاہیے‘‘ ۔ کنیز فاطمہ کایہ تجزیہ بہت اہم ہے کہ ہمارا یہ سوچنا کہ ہمارے اندرغصہ پیداہونے کی وجہ فلاں شخص ہے، ایک نہایت ہی غلط استدلال ہے۔ کیونکہ ہوناتویہ چاہیے کہ ایسے شخص کے بارے میں ہم اپنی رائے درست کریں اور یہ جان لے کہ فلاں شخص میرے لئے صرف منفی خیالات رکھتاہے، اسلئے ایسے شخص کی وجہ سے خود پر غصے جیسی کیفیت مسلط کردینا اپنا ہی نقصان ہے۔ اس نقطے پر پہنچ کر مصنفہ پانچ بندروں پر کی گئی ایک تحقیق پیش کرتے ہوئے لکھتی ہیں :۔۔۔۔(جاری)
(رابطہ 9906653927)