ایوان صحافت کشمیر کے اولین انتخابات

سرینگر // سوموار کو کشمیری صحافتی برادری کے اولین مکالمہ گھر’ایوان صحافت کشمیر‘کے عہدیداروں یامرکزی باڈی کاانتخاب عمل میں لایا گیا جس میںشجاع الحق صدر، اشفاق تانترے جنرل سیکریٹری، محمد معظم نائب صدر اور فاروق جاوید خزانچی منتخب ہوئے ۔پریس کلب سرینگر میں الیکشن کمشنر منظور انجم کی سربراہی میں 15جولائی کو ووٹنگ کا عمل انجام پایا۔صدر،نائب صدر،جنرل سیکریٹری ،خزانچی اور7ایگزیکٹوممبران کومنتخب کرنے کیلئے صبح10بجے سے پولنگ کاعمل شروع ہوا۔جو شام پانچ بجے تک جاری رہا۔ 251ووٹوں میں سے کل 231ووٹ ڈالے گئے جن میں سے  11رائے دہندگان نے بذریعہ آن لائن اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔ کشمیر ایڈیٹرس گلڈ کے ہارون رشید شاہ نے 91ووٹ حاصل کئے جبکہ شجاع الحق نے 92ووٹ حاصل کرکے ایک ووٹ سے جیت اپنے نام درج کر دی ۔ اس مقابلے میں ذوالفقارماجد 46  ووٹوں پر ہی اٹکے رہے۔ اس عہدے کیلئے 2 ووٹ مسترد ہوئے ۔انجمن اُردو صحافت کے صدر ریاض ملک جنرل سیکریٹری کے عہدے کیلئے الیکشن لڑ رہے تھے ۔انہوں نے 95 ووٹ حاصل کئے جبکہ حکیم عرفان رشید نے 28 اور اشفاق تانترے 102ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار پائے۔  اس عہدے کیلئے ڈالے گئے 6ووٹ رد ہوئے ۔ نائب صدر کے عہدے کیلئے محمد معظم نے 130ووٹ حاصل کئے اور کامیاب قرار پائے۔نائب صدر عہدے کے دیگر امیدواروں میں سے وسیم خالد 24 اور سید تجمل اسلام 75ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 2ووٹ رد ہوئے ۔خزانچی کیلئے فاروق جاوید نے شاندار جیت درج کرتے ہوئے 178ووٹ حاصل کئے جبکہ ارشد حسین صرف 44ووٹ ہی حاصل کر پائے۔ممبران میں سے حبیب نقاش نے سب سے زیادہ 150ووٹ حاصل کئے جبکہ ارشد حسین شاہ نے 122،شفاعت کیرا نے105 ،الطاف بابا نے 86 ،نثار احمد بٹ نے 122،گوہر گیلانی نے 106 اور عاقب جاوید نے 99ووٹ حاصل کر کے جیت اپنے نام درج کی ۔سوموارکوعلی الصبح سے ہی ایوان صحافت کشمیرواقع پولوویومیں خاصی گہماگہمی نظرآئی کیونکہ بیشتراْمیدوار،اْنکے ساتھی وحامی صحافی بشمول مدیرانِ اعلی ،مدیران معاون،نامہ نگار،مختلف نیوزچینلوں کے کشمیرمیں تعینات بیوروچیف ،رپورٹر،ویڈیوگرافراورفوٹوجرنلسٹ باری باری ٹولیوں کی صورت میں یہاں پہنچناشروع ہوئے۔ایوان صحافت کشمیرکے مین گیٹ پرپولیس اہلکارتعینات کئے گئے تھے جوصرف اْن لوگوں کواندرجانے کی اجازت دے رہے تھے جوایوان صحافت کشمیرکے مستندیعنی رجسٹرڈممبر ہیں یاجن صحافیوں کے حق میں نامہ نگاری کیلئے خصوصی اجازت نامے بصورت عارضی شناختی کارڈاجراء کئے گئے تھے۔دن بھرووٹ ڈالنے کاعمل جاری رہا۔آخری ووٹرکے بطورعادل اسماعیل نے اپنے حق رائے دہی کااستعمال کیا۔