عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//اپنی پارٹی سربراہ سید الطاف بخاری نے کہا ہے کہ این سی کی قیادت کبھی بھی جموں و کشمیر کے عوام کے حقیقی مسائل کے بارے میں سنجیدہ نہیں رہی ہے، بلکہ اس نے ہمیشہ جھوٹے وعدوں اور گمراہ کن نعروں کے ذریعے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔انہوں نے یہ بات سرینگر میں پارٹی صدر دفتر پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی کے لیے دہلی میں حکمران این سی کی جانب سے مجوزہ دھرنا محض ایک سیاسی ڈرامہ ہے، جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور انہیں دھوکہ دینا ہے۔انہوں نے مزید کہا، حقیقت یہ ہے کہ این سی کی قیادت کبھی بھی جموں و کشمیر کے حقیقی مسائل کے بارے میں سنجیدہ نہیں رہی، اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت اسکی قیادت نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ یہاں رائے شماری کرائی جائے گی، لیکن یہ وعدہ جھوٹا ثابت ہوا۔ بعد میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کی اٹانومی بحال کرائیں گے، لیکن یہ وعدہ بھی گمراہ کن ثابت ہوا۔انہوں نے مزید کہا، 5 اگست 2019 کے واقعات کے بعد اس جماعت اور اس کی قیادت نے عوام کو یہ کہہ کر گمراہ کیا کہ وہ منسوخ شدہ آرٹیکل 370 کو واپس لائیں گے۔ ایک بار پھر یہ دعویٰ بھی محض ایک کھلا جھوٹ ثابت ہوا، جس کا مقصد سیاسی اور انتخابی فائدے حاصل کرنا تھا۔دہلی میں این سی کے مجوزہ دھرنے کی سنجیدگی پر بخاری نے اسے عوام کو دھوکہ دینے کی ایک اور کوشش قرار دیا۔انہوں نے کہا، اب این سی کی قیادت ریاستی درجے کے نام پر عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دہلی میں دھرنا دے کر وہ ریاستی درجے کی بحالی یقینی بنائیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اس مطالبے کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر نئی دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کے لیے کوشش کرنی چاہیے، بخاری نے کہا، اگر وہ واقعی سنجیدہ ہوتے تو اس معاملے پر متحدہ کوشش کے لیے اپنی پارٹی کی تجویز کا مثبت جواب دیتے۔ ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے لیے نئی دہلی کے سامنے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی تجویز سب سے پہلے اپنی پارٹی نے دی تھی۔ تاہم اس وقت این سی کا موقف یہ تھا کہ ریاستی درجہ کوئی مسئلہ ہی نہیں، کیونکہ نئی دہلی خود ہی اسے بحال کر دے گی۔انہوں نے مزید کہا، ان کا مجوزہ دھرنا ریاستی درجے کی بحالی کے لیے ایک سنجیدہ کوشش کے بجائے محض ایک کھوکھلا اقدام ہے۔