این سی کے اعتراضات اور تجاویز کو حد بندی کمیشن نے نظر انداز کیا: عمر عبدا ﷲ

سری نگر// نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبدا ﷲ کا کہنا ہے کہ این سی نے حد بندی کمیشن کی پہلی اور دوسری رپورٹ مسترد کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس نے جو اعتراضات ، تحفظات اور تجاویز پیش کئے تھے اُنہیں مکمل طورپر نظر انداز کیا گیا۔ان باتوں کو اظہارموصوف نے نیشنل کانفرنس کے صوبے کشمیر کے ایک خصوصی ورچول اجلاس سے خطاب کے دوران کیا ۔
 
یو این آئی اردو کو موصولہ بیان کے مطابق نیشنل کانفرنس کا ایک خصوصی اجلاس نائب صدر عمر عبدا ﷲ کی سربراہی میں منعقد وہو ا جس میں کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، لوگوں کے مسائل و مشکلات اور موجودہ حالات کے بارے میں تبادلہ خیالات کیا گیا۔
 
اس کے علاوہ شرکاءنے اجلاس کو نئی حدبندی سے اپنے اپنے علاقوں پر پڑے مضر اثرات کے بارے بھی اجلاس کو جانکاری دی اور ساتھ ہی پارٹی کے اراکین پارلیمان کو حدبندی کمیشن میں اپنا جواب داخل کرنے کیلئے معلوما ت بھی پیش کیں۔
 
6 گھنٹے تک جاری رہے ورچول اجلاس میں تمام شرکاءنے اپنے اپنے تاثرات بیان کئے اور نائب صدر نے سبھی شرکاء کو اطمینان سُنا۔
 
عمر عبداللہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمان حد بندی کمیشن میں حدبندی رپورٹ سے متعلق اپنے اعتراضات اور تحفظات پر مبنی مفصل رپورٹ تیار کرکے کمیشن و پیش کریں گے۔
 
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کمیشن کی پہلی رپورٹ بھی مسترد کی تھی اور دوسری رپورٹ بھی مسترد کرتی ہے۔ ہمارے ممبران نے کمیشن کے سامنے اعتراضات ، تحفظات اور تجاویز پیش کئے گئے تھے انہیں مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔
 
اُن کے مطابق نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے جذبات وا حساسات کی بات کی ہے ۔انہوں نے پارٹی لیڈران پر زور دیا کہ وہ لوگوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور پارٹی کی مضبوطی کیلئے کام کریں۔