این آئی اے ٹیم کا ادھم پور میں دھماکے کی جگہ کا دورہ

جموں // قومی تحقیقاتی ایجنسی یعنی این آئی اے کے ماہرین کی ایک ٹیم نے جمعرات کو ضلع بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان ادھم پور کے سلاتھیہ چوک میں کم شدت والے دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائس (آئی ای ڈی) دھماکے کی جگہ کا دورہ کیا۔این آئی اے کی ماہر ٹیم کا دھماکے کی جگہ پر یہ دوسرا دورہ تھا جس میں کم شدت کے آئی ای ڈی دھماکے کے بعد ایک شخص ہلاک اور 8 ماہ کے بچے سمیت 16 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ "ضلع پولیس ٹیم کو آئی ای ڈی دھماکے کی تحقیقات کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ تاہم ہم این آئی اے حکام سے کچھ ماہرانہ آغاز چاہتے تھے جس کے بعد انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ سائٹ کا دورہ کیا‘‘۔ پولیس افسر نے کہا کہ "اس جگہ کو خاردار تاروں سے سیل کر دیا گیا ہے جس سے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ سڑک ایک طرف ٹریفک یا عام لوگوں کی نقل و حرکت کے لیے کھلی ہے"۔انہوںنے کہا "پولیس ٹیموں کو دھماکے کی جگہ کو محفوظ بنانے کے لیے تعینات کیا گیا تھا کیونکہ مختلف تفتیشی ایجنسیوں نے سلاتھیہ چوک کا دورہ کرنا تھا۔ این آئی اے کی ٹیم کی سربراہی ایس ایس پی رینک کا افسر کر رہا تھا‘‘۔ پولیس افسر نے کہا کہ"اس کیس کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تفتیشی ٹیم مختلف تفتیشی ایجنسیوں جیسے NIA، SIA، فوج، مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیوں وغیرہ کی مدد سے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ رہی ہے"۔پولیس افسر نے مزید بتایا "اب تک کسی مشتبہ شخص کو حراست میں نہیں لیا گیا ہے"۔ تفتیشی پولیس، این آئی اے اور دیگر ایجنسیوں نے متوفی شخص جگل کی بیوی انیتااور دیگر زخمیوںکے بیانات بھی ریکارڈ کئے۔ذرائع کے مطابق وہ ابھی بھی اپنے 8 ماہ کے بیٹے کے ساتھ ضلع اسپتال میں تھیں۔اس وقت ضلع اسپتال ادھم پور میں ذرائع کے مطابق صرف تین مریض (آئی ای ڈی دھماکے کے متاثرین) داخل ہیں جن میں انیتا، اس کا نابالغ بیٹا اور ساحل کمار شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ’’ساحل کمار کا ضلع ہسپتال ادھم پور میں آپریشن کیا گیا تھا اور وہ مستحکم ہیں اور دیگر تمام زخمیوں کو بتدریج فارغ کردیا گیا ہے‘‘۔دریں اثنا، اودھم پور ضلع میں اور خاص طور پر جموں سری نگر قومی شاہراہ پر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔پولیس افسر نے اس ضمن میںبتایا "تمام سیکورٹی ایجنسیاں ضلع کو ملک دشمن عناصر سے محفوظ رکھنے کے لیے قریبی تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ اہم مقام ہونے کی وجہ سے سیکورٹی فورسز نے ہائی وے پر بھی چیکنگ بڑھا دی ہے‘‘۔