غیر سنجیدہ ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی اورکاموں کی جلد تکمیل کی ہدایت
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی ایسٹمیٹس کمیٹی جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور ممبر اسمبلی گریز نذیر احمد خان (گریزی) کر رہے تھے،نے کل ایک میٹنگ منعقد کی جس میں روڈز اینڈ بلڈنگز (آر اینڈ بی) محکمہ کی طرف سے یونین ٹیریٹری میں چلائے جا رہے ترقیاتی کاموں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔دورانِ میٹنگ کمیٹی نے گزشتہ مالی برس کے دوران منظور کئے گئے ترقیاتی کاموںکی عمل آوری پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ اِس کے علاوہ مختلف اضلاع اور ڈویژنوں میں جاری اور زیر اِلتوا منصوبوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا بالخصوص ان منصوبوں کا جنہیں اِنتظامی منظوری ملنے کے باوجود ابھی تک شروع نہیں کیا گیا ہے۔کمیٹی نے گزشتہ دو مالی برسوں کے دوران یو ٹی کیپکس بجٹ کے تحت منظور کئے گئے متعدد ترقیاتی منصوبوں کی عمل آوری میں آر اینڈ بی محکمہ کی سست روی اور فقدان پر سخت تشویش کا اِظہار کیا۔
کمیٹی نے کاموں کی جلد تکمیل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے محکمہ کے افسران پر زور دیا کہ وہ کاموں کی رفتار کو تیز کریں اور تمام جاری منصوبوں کی کم سے کم وقت میں تکمیل کو یقینی بنائیںتاکہ عوام کو طویل تاخیر کی وجہ سے ہونے والی تکلیف سے نجات مل سکے۔کمیٹی نے غیر معمولی طور پر کم شرحوں پر ٹھیکے دینے کے طریقہ کار کا بھی سنجیدہ نوٹس لیا اور کہا کہ اِس طرح کے ٹینڈرز اکثر منصوبوں میں تاخیر اور عدم تکمیل کا باعث بنتے ہیںجس سے ترقیاتی اَقدامات کا بنیادی مقصد متاثر ہوتا ہے۔کمیٹی نے جوابدہی اور بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ غیر سنجیدہ ٹھیکیداروں کی حوصلہ شکنی کے لئے مناسب اقدامات کرے اور مقررہ ٹائم لائنز پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے۔کمیٹی نے محکمہ پر مزید زور دیا کہ نگرانی اور عمل درآمد کے طریقہ? کار کو مضبوط بنایا جائے تاکہ تمام منظور شدہ کام مؤثر انداز میں مکمل ہوں، مطلوبہ معیار برقرار رہے اور مقررہ مدت کے اندر تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔کمیٹی نے عوامی مفاد میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں شفافیت، جوابدہی اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے اَپنے عزم کا اعادہ کیا۔میٹنگ میں ممبران اسمبلی علی محمد ڈار، جاوید حسن بیگ، مشتاق گورو، اِرشاد رسول کار، سجاد شاہین، سنیل بھردواج کے علاوہ سیکرٹری جے کے ایل اے منوج کمار پنڈت، سیکرٹری قانون، اِنصاف و پارلیمانی امور اچل سیٹھی اور محکمہ فائنانس، پی ڈبلیو ڈِی (آر اینڈ بی)، پی ایم جی ایس وائی کے سینئر اَفسران موجود تھے۔