عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//ہندوستانی طلبا کی پہلی کھیپ ایران سے روانہ ہوگئی ہے ۔ مشرق وسطی میں جاری جنگ کے دوران وطن واپسی کا عمل مرحلہ وار شروع ہوا ہے۔ ان طلبا کو جنگ زدہ ایران سے آرمینیا اور آذربائیجان کی سرحدوں کے ذریعے وطن واپس لایا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق ایران کی مختلف میڈیکل یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہندوستانی طلبا نے آرمینیا اور آذربائیجان کے ساتھ سرحدی مقامات کی طرف بسوں کے ذریعے سفر شروع کر دیا ہے جہاں سے انہیں واپس ہندوستان لے جایا جائے گا۔پہلی کھیپ میں شاہد بہشتی یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز ، تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور ایران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے طلبا شامل ہیں، جنہیں قبل ازیں حفاظتی اور لاجسٹک انتظامات کے لیے شہر قم منتقل کیا گیا تھا۔
ارمیا یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں زیر تعلیم طلبا کے ایک اور گروپ نے بھی آرمینیا کی سرحد کی طرف اپنا سفر شروع کر دیا ہے۔وطن واپسی کے عمل سے واقف عہدیداروں نے کہا کہ تہران میں ہندوستانی سفارت خانہ آرمینیا اور آذربائیجان کے راستوں سے طلبا کی مرحلہ وار نقل و حرکت کو قریب سے مربوط کر رہا ہے تاکہ ہندوستان میں ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔بدھ کے روز طلبا میں خوف و ہراس پھیل گیا جب ان میں سے کچھ کو اطلاعات موصول ہوئیں کہ آرمینیا سے ان کی طے شدہ پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ڈاکٹر محمد مومن خان، جو حکام اور طلبا کے ساتھ رابطہ کاری میں معاونت کر رہے ہیں، نے انہیں یقین دلایا کہ پروازوں کا شیڈول ری شیڈول کر دیا گیا ہے اور وہ آپریشنل ہو جائیں گی۔طلبا کے 15 مارچ کو نئی دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے کی توقع ہے، جبکہ ایک چھوٹا گروپ ایک دن پہلے، 14 مارچ کو ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے کا امکان ہے۔