عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// ایران اور امریکہ کے درمیان مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کا مظہر ہے اور بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ اس معاہدے کو ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کا نام دیا جانا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب مغربی ایشیا کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہونے والا پاکستان اب دوبارہ علاقائی سفارت کاری میں نمایاں حیثیت حاصل کر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو یہ خطے میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہوگی، تاہم اگر فریقین اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکے تو یہ ’’مفاہمتی یادداشت‘‘ کے بجائے ’’غلط فہمی کی یادداشت‘‘ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق آئندہ ساٹھ دن اس معاہدے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔کانگریس رہنما نے کہا کہ ایران نے سخت معاشی پابندیوں اور جنگی دباؤ کے باوجود غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے اور معاہدے میں اسے کئی اہم سفارتی اور معاشی فوائد حاصل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک بھی اس معاہدے کے بعد اپنی علاقائی حکمت عملیوں کا ازسرنو جائزہ لے سکتے ہیں۔جے رام رمیش نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی اس معاہدے کا ’’بڑا سیاسی نقصان اٹھانے والا فریق‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں اور خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ان کی پالیسیوں پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی اسرائیل کے ساتھ قریبی وابستگی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غزہ، لبنان اور مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی مسلسل حمایت بھارت کے طویل مدتی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔کانگریس رہنما نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مودی حکومت امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں حد سے زیادہ نرمی اختیار کر رہی ہے، جو بھارت کے قومی مفادات کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق حالیہ مودی-ٹرمپ ملاقات کے بعد وزارت خارجہ کا بیان بھی اسی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔