’اگنو‘ کا37واں کنوکیشن | طلاب ’بھارت2047کے سچے سپاہی‘ ہندوستان نے ’سوئی ہوئی عفریت ‘ کے لیبل کوہٹا دیا : جگدیپ دھنکڑ

یواین آئی

نئی دہلی// نائب صدرجمہوریہ جگدیپ دھنکڑ نے زندگی کے تمام شعبوں میں ہندوستان کی شاندار ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اب صرف اپنی صلاحیتوں سے متعین ملک نہیں رہا، بلکہ اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرتے ہوئے اس نے خود کو مضبوطی سے قائم کیا ہے۔ آج نئی دہلی میں اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی ( اگنو ) کے 37 ویں کانووکیشن میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے طلباء￿ سے کہا کہ وہ ایک ایسے ہندوستان میں گریجویشن کی سندحاصل کر رہے ہیں جس نے ’’سوئی ہوئی عفریت ‘‘ کے لیبل کوہٹادیا ہے۔ملک میں فعال ماحولیاتی نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے طلباپر زور دیا کہ وہ ’’ اس ناقابل یقین رفتار سے استفادہ کریں، شفافیت کو بروئے کار لائیں، معاشی عروج کا فائدہ اٹھائیں اور مواقع کو ذاتی شاہکاروں میں تبدیل کر دیں۔‘‘یہ بتاتے ہوئے کہ ’’ غیر معمولی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، وسیع پیمانے پر ٹیکنالوجی کی رسائی، ڈیجیٹلائزیشن کی تیز رفتار اور شفاف اور جوابدہ حکمرانی کا عزم ‘‘ اب کوئی واہمہ نہیں ہے بلکہ زمینی حقیقت ہے۔ نائب صدر نے ہندوستان کی ’’ معاشی طاقت ‘‘ کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ’’ ہمارا لچکدار مالیاتی ماحولیاتی نظام، جو کہ ایک جامع ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام سے چل رہا ہے، ایک عالمی ماڈل بن گیا ہے۔ نہ صرف ہم اسے استعمال کرتے ہیں بلکہ اسے برآمد بھی کرتے ہیں ‘‘۔نئی دہلی میں منعقدہ جی20 کے سربراہی اجلاس کا ہندوستان کی قیادت کے ثبوت کے طور پر حوالہ دیتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے اس بات کواجاگر کیا کہ کس طرح ہندوستان کی شمولیت اور اشتراک کے عزم کی اب عالمی سطح پر گونج ہو رہی ہے۔مسٹر دھنکڑنے کہاکہ ’’ ملک بھر میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو شامل کرنے سے لے کر افریقی یونین کوجی20 کے رکن کے طور پر شامل کرنے اور گلوبل بائیو فیول الائنس کے آغاز تک ہندوستان گلوبل ساؤتھ کی آواز بن کر ابھراہے ‘‘۔طلباء کو یہ یاد دلاتے ہوئے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں جو تیزی سے تعطل انگیز ٹیکنالوجی کے نئے رجحانات سے چل رہی ہے، نائب صدرجمہوریہ نے ان پر زور دیا کہ وہ ’’ بھارت @2047 کے سچے سپاہی ‘‘ بننے کے لیے ایسی ٹیکنالوجیز کو اپنا لیں۔ ہندوستان کے متحرک اسٹارٹ اپ کلچر پر روشنی ڈالتے ہوئے جس نے عالمی سطح پرتوجہ حاصل کی ہے، مسٹر دھنکڑ نے اجاگر کیاکہ ’’ سب سے بڑی اختراعات اور کامیابیاں ایسے افراد کی طرف سے آئی ہیں جنہوں نے مختلف طریقے سے سوچنے کی ہمت کی، جنہوں نے بے خوفی سے جمود کو چیلنج کیا۔ ‘‘طلباء کو کامیابی کی ایک تنگ تعریف سے پرے دیکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے ان پر زور دیا کہ وہ ’’امکانات کے وسیع منظر نامے ‘‘ کو تلاش کریں جو ان کے سامنے ہے اور رہنما اصول کے طور پر مقابلہ پر تعاون کو ترجیح دیں۔انہوں نے زور دیکر کہا کہ ’’اپنی انفرادیت کو گلے لگائیں، اپنے جذبوں کا پیچھا کریں اور اپنی شرائط پر کامیابی کی نئی تعریف وضع کریں ‘‘۔اس موقع پر وائس چانسلر،اگنو پروفیسر ناگیشور راؤ، پرو وائس چانسلر پروفیسر اوما کن جی لال اور اگنو کے پروفیسر ستیہکم اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔