اگر کشمیری عوام کے تئیں واقعی درد رکھتے ہیں تو

     سرینگر//حریت(گ) مجلس شوریٰ کا ایک غیر معمولی اجلاس زیرِ صدارت چیئرمین سید علی گیلانی منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحریک حقِ خودارادیت کے حوالے سے ریاست جموں کشمیر کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں قرار پایا گیا کہ مسئلہ کشمیر ایک حل طلب سیاسی مسئلہ ہے جس کے لئے حریت کا یہ فورم تمام تر پُرامن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے رواں جدوجہدِ آزادی کو جاری وساری رکھنے میں بھارت کے ارباب اقتدار یا فوجی طاقت کے کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ اجلاس میں قرار پایا گیا کہ اقوامِ متحدہ کو ریاست جموں کشمیر کے عوام کی طرف سے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے پچھلے 70برسوں سے پیش کی گئی بے مثال قربانیوں کے تناظر میں اس معتبر عالمی ادارے کے سامنے تسلیم شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا آغاز کردے۔ اجلاس میں بھارتی انتظامیہ اور افواج کی طرف سے ریاستی عوام پر بلالحاظ جنس وعمر روا رکھی گئی ظلم اور قتل وغارت گری کی کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی اور ان ہلاکت خیز کارروائیوں کو انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں قرار دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے نمائندہ وفد، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور ریڈکراس جیسے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ ریاست جموں کشمیر کے ستم رسیدہ عوام کو بھارت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے نجات دلانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعال کریں۔ اجلاس میں بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA)کی طرف سے تہاڑ جیل میں مقید کئے گئے حریت رہنماؤں اور ریاست کی جیلوں میں اسیران زندان کے ساتھ روا رکھے گئے ظالمانہ سلوک کی مذمت کرتے ہوئے جملہ اسیران زندان کے صبرواستقلال کو خراج تحسین ادا کیا گیا۔ اجلاس میں حریت کانفرنس کے تنظیمی ڈھانچے کو مجلس شوریٰ میں پیش کی گئی تجاویز کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے سید علی گیلانی کو اختیار دیا گیا کہ وہ اس ضمن میں اپنے آئینی اختیارات کے مطابق حریت کے تنظیمی ڈھانچے کو تشکیل دیں۔ درج بالا قراردادوں کو باتفاق رائے منظور کئے جانے کے بعد مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے ریاست کی موجودہ صورتحال کو بد سے بدتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی موجودہ فرقہ پرست اور متعصب حکمرانوں نے اپنی پوری فوجی طاقت کو یہان کے نہتے عوام کے خلاف ایک خونین جنگ میں جھونک دیا ہے اور ریاست کے اطراف واکناف میں ہورہی خون ریزی کو روکنے کے بجائے یہاں ہر طرح کے وردی پوش اہلکاروں کو مزید مہلک ہتھیاروں سے لیس کیا جارہا ہے۔ حریت راہنما نے ریاست کے مقامی ہندنواز سیاستدانوں کی طرف سے عوام پر ڈھانے جانے والے مظالم کے حوالے سے اختیار کی گئی مجرمانہ خاموشی پر کف افسوس ملتے ہوئے کہا کہ اگر ان مقامی ہندنواز سیاسی جماعتوں کے اندر اپنے عوام کے ساتھ رتی بھر ہمدردی بھی موجود ہے تو انہیں ریاستی اسمبلی اور بھارتی پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفیٰ پیش کرکے حقِ خودارادیت کی تحریک کا ساتھ دینا چاہیے۔