اپنی بات کو مختصر الفاظ میں آپ کے گوش گذار کرنا چاہوں گا ۔ ہماری سوسائٹی یاہمارے گھروں میں اگر والدین یا خاص کر صرف والد دینی تعلیم اور اسلامی احکامات سے واقف ہوتا یا ہوکر اگر وہ اپنے آپ کو ،اپنے گھر کو ،اپنی فیملی کو اُسی سانچے میں ڈالتا ،بچوں کے لئے وہی ماحول فراہم کرتا تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی بچی یا بچیوں کو بھی غیر اسلامی طرز تعلیم و تربیت سے روشناس کرانے کی بجائے اُس طرز تعلیم سے ہمکنار کرنے کی سعی کرتا، جس کے پیرا میٹر اسلام نے طے کرکھے ہیں اور فی المثل اگر بیٹی کو ڈاکٹر ہی بنانا منشاء و مقصد ہوتا تو اُس کے لئے ویسا ہی موافق و مرغوب (Conducive and congenial)ماحول ہونا لازمی ہے ۔ہر معاشرے میں لیڈی ڈاکٹر کی اہمیت و ضرورت ہوتی ہے ،اُس میں کوئی بُرائی نہیں ہے ،تو میرے عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب لڑکی اور وہ بھی آج کل کے زمانے میں بیشتر لڑکیاں کالج اور یونیورسٹی سے پڑھ کر آتی ہیں ، تو انہوں نے ایک آزاد اور بے فکرے ماحول میں دن گزارے ہوتے ہیں ۔والدین کے پیسے پر خوب گلچھڑے اُڑائے ہوتے ہیں ، پھر جب وہ ایک فیملی میں وہاں کی دُلہن بن کر آجاتی ہے اور اتفاق سے اگر وہاں بزرگ ساس سسر ہوئے تو اُن کے طریقہ کار اور طرز زندگی کو وہ تنگ نظر اور قدامت پسند (consrevative)مان کر اُلجھ جاتی ہیں ۔وہ ساس سسر کی ہدایات ،رہنے سہنے کا ڈھنگ ،طرز تکلم ،بس اوقات پردہ داری ،مہمانوں ،رشتہ داروں کا عزت سمان،حیا ،عبور و مرور ،پہناوا اور ایسے ہی دیگر معاملات کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرپاتی اور اس طرح سے ساس سسر کی ہر بات میں اختلاف کرنے لگتی ہے ۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر کا ماحول بگڑ جاتا ہے ۔اکثر حالات میں لڑکا بھی اپنی بیوی کو درست اور اپنے والدین کو پرانے طرز(Old Fahioned) کا مان کر بیوی کو ہی سپورٹ کرتا ہے کیونکہ وہ بھی تو اُسی تعلیمی ماحول کا پروردہ ہوتا ہے ۔اس طرح سے والدین کی بے عزتی ہوتی رہتی ہے بلکہ دونوں میاں بیوی یکجا مل کر کرتے ہیں اور ایک دن پھر اس طرح کے غیر مانوس اور آزاردہ ماحول سے اپنے آپ کو الگ کرنے کے لئے دونوں میاں بیوی ایک الگ گھر بسانے کی فکر کرنے لگتے ہیں۔جو اسی باہمی مناقشت یا نابرابری کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے ۔
تعلیمی اداروں میں مروجہ نصابی تعلیم بچوں کی کردا سازی میں کوئی رول ادا کرنے سے قاصر ہے ۔اس کے علاوہ مسلمانوں کے واسطے خصوصی طور پر مغربی ممالک یاغیر مسلم جن کے سرخیل یہودؔ ہیں،کی سوچ یہ ہے کہ مسلمان کسی بھی حربے سے زیر نہیں ہوگا کیونکہ اُس میں موجود اسلامی تعلیم و اقدار اور ایمانی قوتیں ہر َبلا اور ہر وار کا مقابلہ آسانی سے کرلیتی ہیں۔مسلمان کو گرانا ہو اُس پر غلبہ پانا ہو تو اُس کا برین واش ہونا لازمی ہے اور وہی پالیسی لے کر یہودؔ موجودہ زمانے میں بہت سا پیسہ خرچ کرکے مسلمان کے سامنے ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے مغرب اخلاق پروگرام ،بلیو فلمیں ،اخبار ،کتاب ،مالی معاونت ،بالوں کا سٹایل،کلائیوںمیں الابلا کی چیزیں ،پیتل ،تانبا اور لوہے کے کڑے ،کانوں میں ٹاپس اور مندریاں کپڑوں کے ڈیزاین ،نشہ ،ڈرگ ،کلب ،ڈانس ،پب،ڈسکو ، بار ،لحم الحرام سے آلودہ بیسیوں خوردنی اشیاء،چہروں کی کریم ،دانتوں کا پیسٹ وغیرہ کے حربے ڈال کر ،کھلاکر ،دکھاکر ،سناکر اور عام کرکے ہماری پود کو دین سے بے راہرو کرکے ایک بھانگڑو ٹایپ کا انسان بناتے ہیں ،جس کے لئے دین مذہب،سماجی و انسانی اقدار بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں۔اب تو خیر سے یہودؔ سے دوستی کی پاداش میں حرمت والے شہر وں میں بھی سینما کھل گئے ہیں ۔یہاں اپنے وطن عزیز کشمیر میں کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں اُسی پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر کچھ عیسائی اور کچھ یہود بن چکے ہیںاور یہ کوئی نئی بات نہیں جو میں آپ کوسنا رہا ہوں۔اس لئے جب ہمارے نوجوان کا ذہن ہی رسانہ ہو ،جب اُس کے وجود میں خلجان اور انتشار (Intelectual dissipation)ہو تو وہ والدین سے خاص کر کیسے اور کیونکر حُسنِ سلوک کرسکتا ہے یا دینی ہدایت کے مطابق والدین کی اہمیت اور اُن کا درجہ سمجھ سکتا ہے ؟ان حالات میں گھروں میں کیسے امن و چین کی فضا قائم رہ سکتی ہے۔
ہمارے آس پاس سماج میں ایک اور بھی مسئلہ ہے وہ یہ کہ اگر کسی گھر خانوادے نے پڑھی لکھی لڑکی کے ساتھ ساتھ نوکری یا برسر روزگار دلہن چاہی جیساکہ آج کل عام حالات میں ہوتا رہتا ہے ۔پڑھی لکھی ہونا معیار نہیں بلکہ برسرِروزگار ہونا معیار ہے ۔اگر ایسا تقاضا نہ ہوتا تو ایک سروے کے مطابق صرف شہر سرینگر میں ایسی پندرہ ہزار لڑکیاں بغیر نکاح کے نہ ہوتیں جن کی عمر چالیس سال سے تجاوز کرچکی ہے اور دوسرے جھگڑا بیشتر گھرانوں میں بہو کی تنخواہ سے شروع ہوتا ہے ۔میرے مرحوم اُستاد کی ایم اے بی ایڈ سرکاری سکول ٹیچر اور دو بچوں کی ماں۔۔۔بیٹی کا طلاق اس لئے ہوا کہ سسر جی اُس سے پائی پائی تنخواہ وصول کرنے پر مُصر تھا ۔میرے خیال سے نوکری والی بہو جس گھر میں ہوئی، اُن کو بہو سے تنخواہ طلب نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اول تو بہو کے اپنے خرچے آون جاون وغیرہ تو لگا ہی ہے اور دوسرے عورت کی کمائی موجودہ صورتوں میں جہاں مرد وزن کا اختلاط ہوتا ہے حتیٰ کہ ٹھیٹ گرلز سکولوں کے علاوہ بائز سکولوں ،کالجوں ،شفا خانوں ،دفاعی اداروں بلکہ ہر جگہ سٹاف مشترکہ ہوتا ہے ،تو ایسی صورت حال میں ایسی کمائی کا شرعاً جوازہے ، اس کا فیصلہ علمائے دین ہی کرسکتے ہیں، البتہ میں یہ بتانے میں عار نہیں سمجھتا ہوں کہ دین کو ہم نے پکوڑے بناکر چباڈالا ہے اور اُسی وجہ سے غیر مسلم ہمارے سر پر سوار اور سینے پر مونگ دل کر مزہ لیتے ہیں ۔بہر حال اس شعر کے ساتھ رخصت ہوتا ہوں۔ ـ؎
تعلیم دختراں کی ضروری تو ہے مگر
خاتونِ خانہ ہو وہ سبھا کی پری نہ ہو
اکبر ؔالہ آبادی
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او رینگر-190001،کشمیر
موبائل نمبر:-9419475995