اپریل کے بعد کووڈ کی نئی لہر آنے کا خدشہ

نئی دہلی // جمعہ کے روز ہندوستان میں عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے صرف 2,528 تازہ کیسز ریکارڈ کئے گئے ہیں، جبکہ 149افرادہلاک ہوئے۔ اب جب کہ ہندوستان اومی کرون (Omicron) ویرینٹ سے چلنے والی تیسری لہر سے گزر چکا ہے، لیکن کورونا کا خطرہ اب بھی منڈلا رہا ہے۔ ماہرین صحت کی جانب سے ملک کی مضبوط ویکسینیشن مہم اور کورونا کے خلاف بروقت اقدامات سے کورونا کیسوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش جاری ہے۔ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر کے تباہ کن موڑ کو روکنے اور تیسری ہر کو قبل از وقت قابو میں رکھنے کے ساتھ اب ایک اور لہر آسکتی ہے، کیونکہ دنیا کے مختلف خطوں میں انفیکشن میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ہولی تہوار کے موسم اور رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی کئی ریاستوں میں اس طرح کے پھیلاؤ کے خلاف انتباہ کرنے کیلئے مرکزی وزات صحت کے سکریٹری راجیش بھوشن نے خط لکھا ہے۔انہوں نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (UT) کے تمام ایڈیشنل چیف سکریٹریوں، پرنسپل سکریٹریوں اور صحت کے سکریٹریوں کو تحریری طور پر آگاہ کرکے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس پر مسلسل توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔ پانچ گنا حکمت عملی کے تحت ٹیسٹ، ٹریک، ٹریٹ، ویکسینیشن اور کوویڈ مناسب رویے کی پابندی پر زور دیا گیا ہے۔دریں اثنا رمضان المبارک سے قبل کووڈ۔19 کے کیسوں میں عالمی سطح پر اضافہ ظاہر کرنے والے اعداد و شمار ایک بہت بڑے مسئلے کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس کچھ ممالک ٹیسٹنگ کی شرح میں کمی کی اطلاع دے رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) ڈبلیو ایچ او نے حال ہی میں خبردار کیا  ہے کہ دنیا کے تمام ملکوں کو وائرس کے خلاف چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ ایک ماہ سے زیادہ کمی کے بعد ڈبلیو ایچ او کے مطابق گزشتہ ہفتے دنیا بھر میں کووڈ-19 کے کیسز بڑھنے لگے۔دنیا کے متعدد ممالک میں ایک نئی کووڈ لہر کا سامنا ہورہا ہے ۔ چین کے کئی شہروں میں مکمل لاک ڈائون لگادیا گیا ہے جبکہ اسرائیل اور جنوبی کوریا بھی بری طرح لپیٹ میں آچکے ہیں۔بھارت میں جون یا جولائی کے مہینوں میں ایک اور کووڈ کی لہر آنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔