آہ !مولانا جمیل احمد صاحب سکروڈوی

 13  مارچ ۲۰۱۹ بروزاتوار اذان ِ مغرب بلند ہوئی تو ملک الموت نے ایک عظیم دینی علمی و دعوتی شخصیت حضرت مولانا جمیل احمد صاحب سکروڈوی اللہ کو پیار ی ہوگئی ۔ مرحوم شارحِ کتب کثیرہ اور دارالعلوم دیوبند ہونے کے موقر استاذ حدیث وفقہ طویل علالت کے بعد اللہ کی جوارِ رحمت میں چلے گئے ۔
آپ کے وصال ابدی سے بالخصوص دینی حلقوں ، اساتذہ اور طلبائے مدارس اسلامیہ کے چہروں پر مردنی چھاگئی ، آنکھیں نم اور دل غم ز دہ ہوگئے ، سب کی زبانوں پر حضرت کے حق میں دعائے جاری تھی ۔ مغفرت مولانا جمیل احمد صاحب سکروڈوی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، ان کی شخصیت سے ایک دنیا متاثر تھی ، آپ کا رنگ الگ اور آہنگ جدا گانہ تھا ،آپ حلم و کرم کے پیکر صادق تھے ۔ حضرت والا اپنے عہد کے ان بہترین صاحبِ قلم تھے جن کے خامہ حق سے کئی کتابیں معرض وجود میں آئیں اور خراجِ تحسین وصول کرگئیں ۔ آپ کا زندگی بھر لوح و قلم سے رشتہ مستحکم رہا ، آپ کی مشہور کتاب " فقہ کی مشہور زمانہ اور معرکۃ  ا لآراء کتاب " الہدایہ " کی خوبصورت شرح بعنوان : اشرف الہدایہ " ہے ، جس میں آپ نے اپنی علمی دسترس کا بھرپور ثبوت پیش کیا ہے ، کاتب الحروف اس سے مستفید ہوا ، فن کی مفید اور جامع شرح ہے ، حضرت کی خصوصیت سے قابل ذکر کتابیں یہ ہیں : " الہدایہ کی شرح اشرف الہدایہ ‘ مختصرالمعانی کی شرح تکمیل الامانی ، نورالانوار کی شرح قوت الاخیار ، اصول الشاشی کی شرح اجمل الحواشی، اور حسامی کی شرح فیض سبحانی ‘‘ آپ کی شہرت و مقبولیت کی وجہ آپ کی لکھی شروحات ہی ہیں جو علماء و طلبائے مدارس میں مقبول ہوئیں ۔ حضرت مولانا جمیل احمد صاحب سکروڈوی علیہ الرحمہ سے کاتب الحروف کی بالمشافہ ملاقات ۲۰۱۱ء سفر حج میں قیام مدینہ منورہ کے دوران ہوئی تھی ۔ہوا یوں کہ ایک روز بعد نماز عشاء روضہ رسول ؐ پر حاضری دے کر ہم اپنی قیام گاہ لوٹ رہے تھے ، چند ہمدم بھی ہمراہ تھے ، مسجد نبوی ؐ کے صحن سے گزرتے ہوئے اچانک دور سے نظر پڑی سفید رنگ کا لباس زیب تن اور سر پر گرم ٹوپی لکیر دار پہنے ہوئے ہماری جانب بڑھ رہے تھے ۔ ہمارے ایک ہمراہی جو دارالعلوم دیوبند کے طالب علم تھے ، نے اس عاجز کو بتایا کہ مولانا جمیل احمد صاحب سکروڈوی ’’شارح ہدایہ‘‘ آ رہے ہیں ۔ یہ سن کر دل باغ باغ ہوگیا ، اہم بات یہ کہ مولانا جمیل احمد صاحب سکروڈوی حضرت الاستاذ محسن قوم و ملت مولانا غلام قادر صاحب دامت برکاتہم بانی و مہتمم جامعہ ضیاء العلوم پونچھ جموں و کشمیر کے ہمعصر تھے ، حضرت والا کی زبانی ان کا ذکر جمیل کئی بار سن چکے تھے ، حضرت آپ کی صلاحیتوں کے مداح ہیں ، بایں وجہ شوق ِدید تو پہلے سے ہی دل میں تھا ، راستے کے ایک طرف ہم سراپا انتظار کھڑے ہوگئے ، جب نزدیک ہوئے تو سلام کرکے بندے نے مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھا دیئے ، مصافحہ کے بعد علیک سلیک ہوئی ، حضرت نے معانقہ بھی فرمایا ، مولانا سکندر صاحب نے میرا  تعارف کرایا ۔ یہ باب جبریل کے سامنے ہماری بالمشافہ پہلی ملاقات کا منظر تھا اور آخری بھی ۔ اس کے بعد حضرت نے جب گفتگو کا آغاز کیا تو آغاز ہی میں آپ کا تبسم دلنواز تھا، فرمایا ! آپ مولانا غلام قادر صاحب کشمیری کے ادارے کے استاذ ہو ؟ جی ہاں ، فرمایا ! وہ تو زبردست قسم کے وقفی ہیں ، یہ بات میری فہم سے بالاتر تھی ۔ بعد میں ایک نجی مجلس میں ایک ہمدم نے بتایا کہ حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند کے دور اہتمام میں پیش آمدہ قضیہ نا مرضیہ کے بعد جو شخصیات دارالعلوم دیوبند سے الگ ہوئیں تھیں ، ان میں مولانا جمیل احمد صاحب سکروڈوی علیہ الرحمہ بھی تھے ، لگ بھگ اٹھارہ برس وہ دارالعلوم وقف دیوبند میں استاذ بھی رہے ، حضرت والا کا شمار حکیم الاسلام کے زبردست حامیوں میں ہوتا تھا ۔ ممکن ہے اس وجہ سے (وقفی) فرمایا ہو ۔ پھر فرمایا کہ حج سے واپسی پر ان ایام کی تنخواہ ملے گی یا نہیں ؟ میں نے قدرے توقف سے صرف اتنا کہا : خدامعلوم ! فرمایا :اگر مل گئی تو فبہا اور اگر نہیں تو حضرت مہتمم صاحب سے میرا کہئے گا کہ انہوں نے بتایا کہ دارالعلوم دیوبند کا قانون ہے کہ جومدرس پہلی بار حج کو جائے اس کو تنخواہ پوری ملتی ہے بلکہ خانگی خرچہ بھی ۔ پھر کچھ اور باتیں بھی ہوئیں ۔خیر یہ ہماری پہلی ملاقات تھی ۔ اس ملاقات نے ہی یہ اشارہ دے دیا کہ مولانائے مرحوم ایک جاذب نظر شخصیت کے مالک ہیں ۔  اس مختصر کالم میں حضرت والا کی کن کن خوبیوں کا تذکرہ کیا جائے ؟ مولانائے مرحوم باکمال مدرس ، استاذ با اخلاق اور باکردار شخصیت کے مالک تھے ۔ ان کی دائمی جدائی کا خلا علمی دُنیا مدتوں محسوس کرے گی ۔ ان کے تعلق سے طلبہ میں یہ بات بہت مشہورتھی کہ وہ کتاب نہیں فن پڑھاتے تھے ۔ حضرت والا دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ اور استاذ حدیث تھے ۔ سرزمین دیوبند کو مولائے بر و بحر، بادشاہ کون و مکاں اور خالق این و آں نے یہ شرف بخشا ہے کہ یہاں ہر عہد میں کچھ نہ کچھ ہستیاں ایسی شخصیت ساز رہی ہیں کہ جن سے افادہ و استفادہ کا ایک عظیم سلسلہ جاری رہا ہے ، اور آگے بھی رہے گا ،ان شاء اللہ۔ حضرت اقدس مولانا جمیل احمد صاحب سکروڈوی علیہ الرحمہ بالواسطہ اور بلاواسطہ ہزاروں تشنگانِ علم کے اُستاذ تھے ، یقینا ان کے تلامذہ اپنے استاذ گرامی قدر کی دل پذیر زندگی کے مختلف گوشوں کے فیضان کو اپنے اپنے میدان عمل میں بانٹیںگے ، جس سے مستقبل کے نوواردانِ علم کے سامنے اس شجر پر بہار کی گوناں گوں خصوصیات کا تذکرہ عملاً ہوتا رہے گا ۔ مولانائے مرحوم کے لیے جامعہ ضایاالعلوم میں دعاؤں اور مسنون ایصال ثواب کا عمل جاری ہے   ؎ 
  مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو تیرا 
  نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تیرا
 رابطہ نمبر : 9682327107/9596664228
E-mail.-  [email protected]
