آہ !حضرت مولانا محمد سالم قاسمی رحمہ اللہ

  یہ جانکاہ خبر سن کر صدمے سے ہر مسلمانان ِ وطن سمیت دنیائے اسلام کے ہر صاحب ایمان پر سکتہ سا طاری ہوا کہ دارلعلوم دیوبند کے مایہ ناز شاہ گرد بھی اور محترم ومکرم استاد مولانا محمد سالم قاسمی صاحب ہم سب کو داغ مفارقت دے گئے ہیں ۔یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ مرحوم گونا گوں صفات عا لیہ سے متصف تھے ، علامہ اقبال سے مستعار الفاظ میں مرحوم کی نگہ بلند ، سخن دل نوا ، جان پُر سوز تھی۔ مرحوم کامختصر سوانحی خاکہ یہ ہے: نام محمد سالم تھا، حکیم الاسلام قاری محمد طیب رحمہ اللہ کے فرزند تھے، جائے پیدائش دیوبند، سہارنپور انڈیا تھی اورتاریخ پیدائش ۲۲جمادی الثانی ۱۳۴۴ھ مطابق ۸ جنوری ۱۹۲۶ء ہے۔ابتدائی تعلیم مختلف اساتذہ سے انفرادی طور پر حاصل کی ۔ثانوی تعلیم اور سند فراغت دار العلوم دیوبند سے ملی ۔ مرحوم قبل از وصال ابدی سرپرست دار العلوم وقف، نائب صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ تھے۔شیخ الاسلام قاری محمد طیب رحمہ اللہ کا فرزندارجمند ہونے کے ناطے ان کا قرآن وسنت کےمبلغ ومناد ہونا قابل فہم ہے ۔ اب علم وعمل کے یہ دونوں منارے تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں ۔ مرحوم مولانا محمد سالم اس علمی خانوادے کے امانت داراور نسلی وارث تھےجس نے 1857ء میں مسلمانانِ ہند کی سیاسی پسپائی و شکست خوردگی کے بعدانہیں ازسرِ نواٹھنے، آگےبڑھنے اور لڑنے کا مثالی حوصلہ دیاتھا۔ راقم السطور نے جب مولانامحمد سالم قاسمی کو پہلی بار دیکھاتو وہ جسمانی اعتبارسے نحیف و نزار لگتے تھے،البتہ ذہن غیر معمولی طوربیدارتھا ۔ ان کا سراپا نسبی نجابت،اخلاقی شرافت اور علمی وجاہت کا آئینہ دار تھا،ہمیشہ خنداں وفرحاں دِکھتے، لبوںپر جمال انگیزمسکراہٹ چھائی رہتی ،ان کی پر رونق کلاہ مخصوص قسم کی ہوتی،غالباً میں نے کسی تصویر میں اُن کے والد گرامی حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کو بھی ایسی ہی ٹوپی میں دیکھاہے ۔آپ کی ایک تقریر سے اقتباس ان کی شخصیت کی جھلک دکھاتا ہے ، فرمایا:’’رسولؐ اور صحابہؓ نے دین کی دعوت دی،تابعینؒ کے زمانے میں مسلک کی تبلیغ ہونے لگی، پھرتبع تابعینؒ کے زمانے میں مشرب کو ترجیح دی جانے لگی اور آج کل لوگ اپنے اپنے ذوق کی اشاعت کررہے ہیں۔ لوگو!آؤمسلک،مشرب اور ذوق کی بجائے دین کی دعوت دو ‘‘آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ ثانی سیّدنا ابو بکر صدیقؓ تک پہنچتا ہے۔ اس خانوادے کی ہندوستان آمد کے متعلق ’’الامام الاکبر ‘‘کے مصنف ڈاکٹر محمد اویس صدیقی نانوتوی فرماتے ہیں:’’سب سے پہلے اس خاندان کے جس فرد نے ہندوستان کا رُخ کیا وہ قاضی مظہر الدین ہیں، جو نویں صدی ہجری کے اواخر میں سکندر لودھی کے زمانے میں اس کی دعوت پر ہندوستان تشریف لائے، اسی زمانہ میں نانوتہ و اطراف میں جاٹوں نے سر اٹھایا، جن کی سر کوبی کے لئے سکندر لودھی نے قاضی مظہر الدین کے فرزند قاضی میراں کی قیادت میں ایک لشکر بھیجا، لشکر کی کامیابی پر خوش ہو کر سکندر لودھی نے یہ علاقہ اس خاندان کے نام کر دیا، اس کے بعد سے اس خاندان نے نانوتہ میں بود و باش اختیار کی، پھر دار العلوم دیوبند کے قیام کے بعد مولانا قاسم نانوتوی اور ان کے اہل خانہ دیوبند کے ہو کے رہ گئے۔مولانا کے والد ماجد حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کی ذاتِ گرامی سے کون واقف نہیں ؟آپ علم و کمال، حکمت و بصیرت، فہم وفراست، اخلاق و عمل، پاکیزگی وتقدس کی ایک خوبصورت تصویر، مسلکِ حق کے ترجمان اور ملّت کے صالحین کی سیرت و کردار کے عکسِ جمیل تھے، آپ کی بھی ولادت باسعادت دیوبند ہی میں ہوئی، سات سال کی عمر میں تعلیم کی ابتداء کی، حصولِ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے دار العلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دینا شروع کیا اور مختلف علوم و فنون کی اہم کتابیں پڑھائیں، ۱۳۴۱ھ تا ۱۳۴۸ھ تک آپ دار العلوم دیوبند کے نائب مہتمم کے منصب پر فائز رہے، پھر آپ کو مہتمم منتخب کیا گیا، اس عہدے پر آپ تقریباً تا حیات فائز رہے۔ یوں تو حضرت قاری صاحب پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اورآئندہ بھی لکھا جاتا رہے گا، اس وقت اپنے استاذِ محترم، ندوۃ العلماء کے ناظم جناب مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؔ دامت برکاتہم کی ایک تحریر کا اقتباس پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ’’حکیم الاسلام کی شخصیت اپنے عہد کی بڑی مایہ ناز علمی و ادبی شخصیت تھی، علم دین اور حکمت و دانش کے بلند پایہ حامل تھے، انھوں نے اپنے عظیم مورث اور علومِ دینیہ میں مقام بلند رکھنے والے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ سے علمی گیرائی اور وسعت کی وراثت پائی تھی، اس کو ان کی تقریروں تحریروں اور دروس میں محسوس کیا جاتا رہا ہے۔انھوں نے اس بلند علمی مقام کے ساتھ ساتھ دارا لعلوم دیوبند جیسی عظیم درسگاہ کو جو اُن کے اسلاف کی کوشش کا مرکز رہی تھی، اپنے آغاز جوانی میں سنبھالا، اور اس کی خدمت میں اپنی پوری عمر لگا دی، ان کی کوششوں کا مظہر صرف دار العلوم دیوبند کی ترقی اور مضبوطی ہی میں نمایاں اور محدود نہیں تھا، بلکہ اس کے نمائندۂ خاص ہونے کے تعلق سے ہندوستانی مسلمانوں کی دینی رہنمائی کا فریضہ بھی اثر پذیری کے ساتھ انجام دیا، مسلمانوں میں جو دینی انحراف یا عقائد کی خرابی پائی جاتی تھی اس کے ازالہ میں بھی خصوصی حصہ لیا۔وہ ایک دلنواز اسلوب کے حامل خطیب تھے، ان کی شخصیت بھی دل نواز تھی، وہ اپنی باطنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ دل نواز طرزو انداز کے بھی مالک تھے، طبیعت میں نرم مزاجی اور خوش اخلاقی تھی، ان سے مل کر مسرّت حاصل ہوتی تھی اور طبیعت ان کی طرف مائل ہوتی تھی، گفتگو اور انداز کلام دل کو متأثر کرنے والا اور ذہنوں کو مطمئن کرنے والا تھا، اپنی بات کو علمی و تاریخی حوالوں اور مثالوں سے واضح کرتے تھے، بعض اہم ترین موقعوں پر علماء کی طرف سے ان کی نمائندگی بڑی مؤثر ثابت ہوئی، اس طریقہ سے در اصل دیوبند جو علوم دینیہ کا ایک مؤثر ترین ادارہ رہا ہے اور ہے، اس کی صحیح نمائندگی کا مولانا نے حق ادا کیا، اور اس کے مہتمم کے منصب پر فائز رہے، اور جو ذمہ داری ان پر عائد ہوتی تھی اس کو بھی ادا کیا‘‘، شوال ۱۴۰۳ھ مطابق ۱۹۸۳ء کو آپ کی وفات ہوئی۔ (حیات طیب ج:۱، ص:۲۲-۲۳)
مولانا سالم صاحب مرحوم نے اپنے والد حضرت حکیم الاسلام کی نگرانی و تربیت میں پرورش پائی، ۱۳۵۱ھ میں تعلیم کا آغازکیا، ناظرہ و حفظ قرآن کریم کی تکمیل جناب پیر جی شریف صاحب گنگوہی کے یہاں ہوئی۔اس کے بعد ۱۳۶۲ھ میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی زبانِ مبارک سے میزان پڑھی، یہ عظیم سعادت اس وقت پوری دنیا میں آپ کو ہی حاصل ہے، آپ کے علاوہ حکیم الامت سے باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے والوں میں اب کوئی موجود نہیں ہے۔ آپ نے ۱۳۶۷ھ مطابق ۱۹۴۸ء میں فراغت حاصل کی، آپ کے دورۂ حدیث شریف کے اساتذہ میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحبؒ، جامع المعقول و المنقول حضرت مولانا ابراہیم صاحب بلیاویؒ اور حضرت مولانا سید فخر الحسن صاحبؒ وغیرہ ہیں۔ (الشیخ محمد سالم القاسمی)ذاتی صلاحیت، علمی پختگی اور خطابی قابلیت کا نتیجہ تھا کہ تعلیمی مراحل سے فراغت کے فوراً بعد ہی دار العلوم دیوبند میں بحیثیت مدرس مقر ر ہوئے اور ابتداء ً نورالایضاح اور ترجمۂ قرآن کریم کا درس آپ سے متعلق رہا، پھر بعد میں بخاری شریف، ابوداؤد شریف، مشکوٰۃ شریف، ہدایہ، شرح عقائد وغیرہ کتابیں آپ سے متعلق رہیں، اور اس وقت بخاری شریف میں آپ سے استفادہ جاری ہے۔آپ جملہ علوم و فنون میں ممتاز صلاحیتوں کے مالک، بالغ نظر، بلند فکر کے حامل ہیں، علوم قاسمی کی تشریح و تفہیم میں حکیم الاسلامؒ کے بعد شاید ہی آپ کا کوئی ہم  پلّہ ہو، ہمیشہ علمی کاموں کے منہمک رہے، زمانۂ تدریس میں دار العلوم دیوبند میں ایک تحقیقی شعبہ مرکز المعارف کا قیام عمل میں آیااور اس کے ذمہ دار بنائے گئے۔ ۱۹۹۶ء میں مراسلاتی طریقۂ تعلیم کی بنیاد پر اسلامی علوم و معارف کو جدید جامعات میں مصروفِ تعلیم طلباء و طالبات کے لئے آسان و قابلِ حصول بنانے کی غرض سے جامعہ دینیات دیوبند قائم فرمایاجو اُس دور کا خوبصورت ترین طریقۂ تعلیم تھا۔ آپ نے قرآن کریم پر ایک خاص حیثیت سے کام کا آغاز کیا۔ افسوس کہ یہ عظیم فاضلانہ علمی کام شورش ِدار العلوم کی نذر ہو گیا۔آپ کے عالمانہ و حکیمانہ خطاب کا شہرہ عہدِ شباب ہی میں ملک کی سرحدوں کو پار کر چکا تھا، علم میں گہرائی، فکر میں گیرائی، مطالعہ میں وسعت، مزاج میں شرافت اور باقاعدگی، زبان سے نکلا ہوا ہر جملہ فکر و بصیرت سے منور، حکمت وفلسفہ کے رنگ میں کتاب وسنت کی بے مثال تشریح و تفہیم کا ملکہ، مدلّل اسلوبِ گفتگو و صاحب الرائے، یہ وہ امتیازی کمالات ہیں جن سے آپ کی ذات مرصع و مزین ہے۔ ۱۴۰۳ھ مطابق ۱۹۸۲ء میں دار العلوم میں پیدا ہوئے اختلاف کے بعد آپ نے اپنے رفقاء کے تعاون سے دار العلوم وقف کے نام سے دوسرا دار العلوم قائم کر لیا، جس کے شروع سے مہتمم اور اب سرپرست ہیں، ساتھ ہی بخاری شریف کی تدریسی خدمات کا فریضہ بھی انجام دے رہے ہیں۔
عہدے و مناصب:(۱) مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ماضی میں رکن مجلس عاملہ اور اب نائب صدر۔(۲) سرپرست دار العلوم وقف دیوبند۔(۳) صدر مجلس مشاورت(۴) رکن مجلس انتظامیہ و شوریٰ ندوۃ العلماء(۵) رکن مجلسِ شوریٰ مظاہر العلوم وقف۔(۶) مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے کورٹ کے رکن(۷) سرپرست کل ہند رابطۂ مساجد(۸) سرپرست اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا۔
انعامات و اعزازات:(۱) مصری حکومت کی طرف سے برِّصغیر کے ممتاز عالم کا نشانِ امتیاز(۲) مولانا قاسم نانوتوی ایوارڈ (۳) حضرت شاہ ولی اللہؒ ایوارڈاور بہت سے انعامات و اعزازات سے آپ کو نوازا گیا ہے ۔
اللہ تبارک  و تعالیٰ نے مولانا کو گوناگوں خصوصیات اور بے شمار امتیازی صفات سے نوازا، لیکن مولانا کی ایک اہم خصوصیت جس کا ہر ایک کو اعتراف ہے وہ امت اور ملّت کی فکر میں اپنا سب کچھ قربان کر دینا ہے، اسی کا نتیجہ ہے اب بھی جبکہ مولانا کی عمر ہجری تقویم کے اعتبار سے ۹۲ سال سے تجاوز کر چکی، کمزوری غالب آ چکی ہے، پھر بھی ہند و بیرونِ ہند کے اسفار کرتے رہتے ہیں، جلسوں میں شرکت کرتے ہیں، عوام سے مخاطب ہوتے ہیں، اداروں اور مدارس کی سرپرستی و نگرانی فرماتے ہیں، ہر وقت امت کی فکر میں اور اس کی خیر و صلاح کے سلسلہ میں متفکر رہتے ہیں، اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ تمام کاموں کو بحسن و خوبی انجام دیتے ہیں۔یوں تو مولانا نے مختلف طریقے پر دین کی خدمت انجام دی، لیکن مولانا کا سب سے بڑا اور اہم کارنامہ دینیات کے نصاب کا قیام اور اس کی اشاعت و ترویج ہے۔مولانا نے جب محسوس کیا کہ بچّوں اور بچّیوں کی تعلیم کے ادارے تو بہت ہیں، اور اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، لیکن بڑی عمر کے لوگوں کے لئے دینی تعلیم کا کوئی نظم نہیں ہے، اس مقصد کے پیشِ نظر ۱۹۹۶ء میں مولانا نے جامعہ دینیات کے نام سے ایک ا دارہ قائم کیا، اور اس کے ذریعہ گھر بیٹھے دینی تعلیم حاصل کرنے کا آسان طریقہ متعارف کرایا، جو آج تک آپ کی سرپرستی میں اپنا فیض جاری رکھے ہوئے ہے۔
اولاد:(۱) محمد سلمان قاسمی(۲) محمد سفیان  قاسمی (۳) محمد عدنان قاسمی(۴) حافظ محمد عاصم قاسمی(۵) اسماء اعجاز (۶) عظمیٰ ناہید
اساتذہ:مولانا نے اپنے زمانے کے ممتاز و مایہ ناز علماء و مشائخ سے استفادہ کیا، جن میں سے کچھ یہ ہیں :مولانا اشرف علی تھانویؒ،شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہویؒ،شیخ الحدیث مولانا فخر الحسن اوراپنے والد قاری محمد طیب صاحبؒاور شیخ الاسلام حسین احمد مدنیؒ سے استفادہ کیا مولانا کا ایک اہم اور نمایاں وصف خطابت ہے اور وہ خطیب الاسلام، خطیب العصر اور جانشین حکیم الاسلام جیسے القاب و خطابات سے یاد کئے جاتے ہیں،چونکہ خطابت میں روانی تھی اور حلقہ معتقدین کا، اس لئے ملک و بیرون ملک دعوتی اسفار ہوتے رہے ہیں، بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ دیوبند میں قیام اور تدریس و اہتمام کے ایّام کے مقابلے میں اسفار اور اجلاس، کانفرنس، سیمینار وغیرہ میں شرکت کے لئے دورے زیادہ ہیں، کئی جلدوں پر مشتمل ان کے خطبات کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے۔کثرتِ اسفار اور بے پناہ مشغولیات کے باوجود مولانا مضمون نویسی اور تالیف و تصنیف کے لئے کچھ وقت نکالتے ہیں، مختلف عنوانات پر بیش قیمت مقالے تحریر کئے ہیں، کتابوں کے لئے تمہیدی مقدمات اور بے شمار تقریظات لکھیں ہیں، چند کتابیں بھی طبع ہو چکی ہیں اور بہت سارا مواد منتظر طباعت ہے، مطبوعہ کتب میں ’’مبادی التربیۃ الاسلامیۃ‘‘ (عربی) ’’تاجدارِ ارضِ حرم کا پیغام‘‘، ’’ مردِ غازی‘‘ اور ایک ’’عظیم تاریخی خدمت ‘‘وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
اس سب کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے باضابطہ طور پر اگرچہ تصنیف و تحقیق کا میدان اختیار نہ کیا، لیکن ان کے تبحر علمی سے مستفید ہو کر اربابِ علم و فضل نے مختلف موضوعات پر کئی اہم کتابیں تصنیف کی ہیں، اور حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب کے خطبات، مقالات، ملفوظات اور رسائل کے مجموعے ان کی رہنمائی اور نگرانی میں شائع ہو چکے ہیں، ادھر قریبی عرصہ میں حجۃ الاسلام اکیڈمی کے ذریعہ بہت سے علمی کام انجام پائے ہیں، خصوصاً سوانحی موضوعات پر کتابیں شائع ہوئی ہیں۔فی الحال حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی بلاشبہ مکتبۂ فکر دیوبند کو امام نانوتویؒ اور تمام اکابر علمائے دیوبند کی فکر و بصیرت اور علمی وراثت سے جوڑے رکھنے والی ایک اہم کڑی تھے۔الحمد للہ علم کا وہ بحرِ بیکراں جو امام نانوتویؒ کے ہاتھوں کی انگلیوں سے جاری ہوا تھا، اور وہ تحریک جس کا مقصد ہندوستان میں اسلام کی شمع کو روشن رکھنا تھا، اسے ان کے انتہائی لائق و فائق علمی و صلبی ورثاء نے جاری و روشن رکھا، یہی وجہ بھی بنی کہ حق سبحانہ و تعالیٰ نے خانوادۂ علمیہ قاسمیہ کو خانوادۂ والی اللٰہی کا متبادل بنا کر ہندستان کے مسلمانوں کا دینی رہنمائی کے میدان پیشوائی و ناخدا ئی کا منصب عطاکیا۔ دعا ہےاللہ تعالی مونامرحوم محمد سالم قاسمیؒ کواپنی جوار رحمت میں نمایاں جگہ عطا فرمائے۔ آمین 
