۔ 5ہزارسے زائد بنکروں کی تجویز حکومت کو ارسال،جلدمنظوری ملنے کیلئے پُر امید: ڈی سی پونچھ
عشرت حسین بٹ
پونچھ// آپریشن سندور کو ایک سال مکمل ہونے کے باوجود ضلع پونچھ کے سرحدی علاقوں میں عوام کے تحفظ کے لیے زمیندوز بنکروں کی تعمیر نہ ہونے پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ سرکاری دعوؤں کے برعکس زمینی سطح پر اب تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ خود ہی اپنے تحفظ کے انتظامات کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق متعدد دیہاتوں میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بینکوں سے قرض لے کر بنکروں کی تعمیر کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی یا جنگی صورتحال میں اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان بچا سکیں۔
ضلع پونچھ کے سرحدی علاقہ جھلاس سے تعلق رکھنے والے ستپال شرما ولد لکشمی چند اس کی ایک واضح مثال ہیں، جنہوں نے مالی مشکلات کے باوجود قرض لے کر اپنے گھر کے قریب بنکر تعمیر کیا۔ستپال شرما کے مطابق وہ جھلاس کے وارڈ نمبر ایک میں سرحد کے قریب رہتے ہیں اور ایک چھوٹی سی چائے کی دکان چلا کر اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال سات مئی کو ہند-پاک کشیدگی کے دوران شدید گولہ باری ہوئی تھی، جس میں پونچھ شہر اور ملحقہ سرحدی علاقوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس صورتحال نے انہیں مجبور کیا کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچاؤ کے لیے خود ہی بنکر تعمیر کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے بنکروں کی تعمیر کے کئی اعلانات کیے گئے، تاہم ابھی تک ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔انہوں نے کہاکہ ’ہمارے پاس انتظار کرنے کا وقت نہیں تھا، اس لیے ہم نے قرض لے کر اپنی حفاظت کا بندوبست کیا‘۔مقامی نمائندوں اور سابق سرپنچ نے بھی حکومت سے اپیل کی ہے کہ سرحدی علاقوں میں کمیونٹی اور نجی بنکروں کی تعمیر کو ترجیح دی جائے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔اس حوالے سے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ اشوک کمار شرما نے بتایا کہ ضلع میں 5000 سے زائد بنکروں کی تعمیر کا منصوبہ حکومت کو بھیجا جا چکا ہے، تاہم ابھی تک اس پر کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جیسے ہی حکومت کی جانب سے منظوری ملے گی، بنکروں کی تعمیر کا کام فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے افراد ہر وقت غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرتے ہیں، اس لیے ان کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔