کولگام //دمحال ہانجی پورہ کولگام کے ایک دور افتاد گائوں میں ایک خونریز جھڑپ کے دوران 3 عدم شناخت جنگجو جاں بحق جبکہ فوج کے 2 اہلکار زخمی ہوئے۔فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک مکان تباہ ہوا۔ پولیس کی جانب سے مہلوک جنگجوئوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ۔گائوں میں رات دیر گئے تک تلاشیاں جاری تھیں۔پولیس نے بتایا کہ انہیں ضلع کولگام کے تحصیل دمحال ہانجی پورہ کے آخری گائوں، ژمر میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کے بعد 9آر آر اور 18بٹالین سی آر پی ایف کی بھی خدمات حاصل کی گئیں اور ژمر گائوں کے آستان محلہ کو محاصرے میں لیا گیا۔بدھ کی صبح ساڑھے 10بجے محاصرہ شروع ہوتے ہی یہاں موجود جنگجوئوں نے فورسز کی تلاشی پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیان گولیوں کا زوردار تبادلہ شروع ہوا جو کچھ دیر تک جاری رہا۔اس دوران جنگجوئوں نے محاصرہ توڑنے کی دو بار کوشش کی لیکن دونوں بار وہ ناکام رہے اور گولیوں کے تبادلے میں 2جنگجو جاں بحق ہوئے۔دو جنگجوئوں کی ہلاکت کے بعد فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا لیکن گائوں کی ناکہ بندی جاری رہی اور اس دوران سہ پہر قریب 5بجے طرفین کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا جس میں مزید ایک جنگجو جاں بحق ہوا۔بتایا جاتا ہے کہ اس دوران ایک مکان تباہ ہوا جبکہ دو فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر سرینگر منتقل کردیا گیا۔رات دیر گئے تک یہاں تلاشی کارروائی جاری تھی۔رات دیر گئے فوج کے15ویں کور کی جانب سے ایک ٹیوٹ کیا گیا جس میں اس جھڑپ کے بارے میں تفصیلات دی گئیں۔ ٹویٹ میں کہا گیا’’ ژمر کولگام میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران 3 عدم شناخت جنگجو جاں بحق ہوئے اور انکی تحویل سے ایک رائفل اسکے دو میگزین دو پستول ، انکے دو میگزین اور تین گرینیڈ شامل ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مہلوک جنگجوئوں میں مبینہ طور پر ایک شہری بھی شامل ہے تاہم پولیس کی جانب سے اسکی کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔رات دیر گئے تھے اس آپریشن کے بارے میں پولیس کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔