آصف حسین الکشمیری
انسانی زندگی آزمائشوں، محرومیوں اور جدوجہد کا دوسرا نام ہے۔ اس دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے کبھی ناکامی، نقصان یا دکھ کا سامنا نہ کیا ہو۔ ایک طالب علم برسوں محنت کرتا ہے، راتوں کی نیند قربان کرتا ہے، اپنے مستقبل کے سنہرے خواب آنکھوں میں سجاتا ہے، مگر جب کسی بڑے امتحان میں کامیابی اس کا مقدر نہیں بنتی تو اس کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک نوجوان بہتر مستقبل کی امید میں کاروبار شروع کرتا ہے، اپنی جمع پونجی اور امیدوں کا سرمایہ اس پر لگا دیتا ہے، مگر حالات اس کا ساتھ نہیں دیتے اور اسے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک شخص ملازمت کے حصول کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے مگر اسے کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔ یہ تمام حالات بلاشبہ تکلیف دہ ہوتے ہیں، مگر ان کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ زندگی ختم ہو گئی یا آگے بڑھنے کے تمام راستے بند ہو گئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بہت سے عظیم انسانوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں ایسی ناکامیاں دیکھی ہیں جنہوں نے بظاہر ان کے تمام خواب توڑ دیے تھے، مگر انہی لوگوں نے بعد میں اپنے عزم، صبر اور استقامت سے دنیا میں نئی تاریخ رقم کی۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں کامیابی کا مفہوم انتہائی محدود کر دیا گیا ہے۔ آج اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اچھے نمبر حاصل کرنا، بڑی ملازمت پانا، دولت جمع کرنا یا معاشرتی شہرت حاصل کرنا ہی کامیابی ہے۔ جب کوئی نوجوان ان پیمانوں پر پورا نہیں اترتا تو وہ خود کو ناکام تصور کرنے لگتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ لوگ دوسروں کی خوشیاں، کامیابیاں اور آسائشیں تو دیکھتے ہیں، مگر ان کے پیچھے چھپی جدوجہد، قربانیاں، ناکامیاں اور آزمائشیں نہیں دیکھتے۔ نتیجتاً وہ اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرنے لگتے ہیں اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی احساس رفتہ رفتہ مایوسی میں اور مایوسی بعض اوقات خودکشی جیسے خطرناک انجام میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
کشمیر سمیت برصغیر کے مختلف علاقوں میں ایک اور تشویشناک رجحان آن لائن جوئے اور بیٹنگ گیمز کا سامنے آیا ہے۔ چند لمحوں میں دولت مند بننے کے خواب نے بہت سے نوجوانوں کو ایسے راستوں پر ڈال دیا جہاں نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ خصوصاً مختلف آن لائن گیمز اور بیٹنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے بعض نوجوانوں نے اپنی جمع پونجی، محنت کی کمائی بلکہ قرض کے پیسے تک داؤ پر لگا دئیے۔ جب لاکھوں روپے ضائع ہو گئے تو وہ شدید ذہنی دباؤ، خوف، شرمندگی اور احساسِ ناکامی کا شکار ہو گئے۔ افسوس کہ بعض نوجوان اس صدمے کو برداشت نہ کر سکے اور اپنی زندگی ہی ختم کر بیٹھے۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اصل نقصان دولت کا نہیں بلکہ امید کے چراغ کے بجھ جانے کا ہوتا ہے۔ اگر انسان کے دل میں امید زندہ ہو تو وہ کھوئی ہوئی دولت بھی واپس حاصل کر سکتا ہے، مگر اگر امید ہی مر جائے تو انسان خود کو بھی کھو دیتا ہے۔
خودکشی کے محرکات کا دائرہ صرف معاشی مسائل، تعلیمی ناکامیوں یا کاروباری خساروں تک محدود نہیں ہے بلکہ جذباتی اور سماجی عوامل بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نوجوانی کا زمانہ جذبات، خواہشات اور خوابوں کا زمانہ ہوتا ہے۔ اس عمر میں انسان بعض تعلقات، امیدوں اور منصوبوں کو اپنی پوری زندگی سمجھ بیٹھتا ہے۔ جب محبت میں ناکامی کا سامنا ہوتا ہے، کسی پسندیدہ رشتے میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے یا حالات انسان کی خواہشات کے مطابق نہیں چلتے تو بعض نوجوان شدید مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کسی ایک تعلق، ایک شخص یا ایک واقعے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک وسیع نعمت ہے جس کے دامن میں بے شمار امکانات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ افسوس کہ بعض نوجوان وقتی جذبات کے زیرِ اثر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اب ان کی زندگی میں خوشی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا، حالانکہ وقت کے ساتھ حالات بدلتے ہیں اور جو زخم آج ناقابلِ برداشت محسوس ہوتے ہیں وہی کل محض ایک یاد بن کر رہ جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ سے متعلق بعض غیر ضروری رسم و رواج بھی ذہنی دباؤ اور مایوسی کا سبب بنتے ہیں۔ کتنے ہی نوجوان ایسے ہیں جو مناسب عمر میں نکاح کی خواہش رکھتے ہیں مگر مختلف معاشرتی رکاوٹوں کی وجہ سے ان کے رشتے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض خاندانوں میں ذات پات، خاندان، جائیداد یا دنیاوی معیاروں کو اس قدر اہمیت دی جاتی ہے کہ مناسب رشتے بھی رد کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح جہیز جیسی لعنت نے بھی بے شمار خاندانوں کی خوشیاں چھین لی ہیں۔ کتنی ہی بیٹیاں صرف اس وجہ سے گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں کہ ان کے والدین جہیز کے مطالبات پورے کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ صورتحال بعض اوقات نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو شدید ذہنی دباؤ، احساسِ محرومی اور مایوسی میں مبتلا کر دیتی ہے، حالانکہ نکاح ایک آسان اور مبارک عمل ہے جسے ہم نے اپنی غیر ضروری رسموں اور توقعات کے بوجھ تلے دشوار بنا دیا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کا انسان بظاہر جتنا لوگوں سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے، اندر سے اتنا ہی تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے رابطوں کے ذرائع تو بڑھا دیے ہیں مگر دلوں کے فاصلے کم نہیں کیے۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہوتے ہیں مگر ایک دوسرے کے دکھ درد سے ناواقف رہتے ہیں۔ بہت سے نوجوان اپنے دل کے زخموں، ذہنی دباؤ اور اندرونی بے چینی کو خاموشی سے سہتے رہتے ہیں۔ وہ مدد مانگنے میں جھجکتے ہیں، اپنے مسائل بیان کرنے سے کتراتے ہیں اور آہستہ آہستہ ایک ایسی تنہائی میں گم ہو جاتے ہیں جہاں انہیں اپنی زندگی بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی تنہائی وہ زہر ہے جو خاموشی سے انسان کے حوصلے کو کمزور اور اس کی امیدوں کو پژمردہ کر دیتا ہے۔
معاشرے کی بھی اس حوالے سے ایک بڑی ذمہ داری بنتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو صرف کامیابی کا درس نہ دیں بلکہ ناکامی کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی دیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کو بھی سمجھیں۔ علماء، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کے اندر امید، صبر، توکل اور مثبت سوچ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ بعض اوقات ایک نرم لفظ، ایک مخلص مشورہ، ایک ہمدردانہ جملہ یا صرف کسی کی بات توجہ سے سن لینا بھی ایک انسان کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کی روشنی تک پہنچا سکتا ہے۔ بہت سی زندگیاں صرف اس لیے بچ سکتی ہیں کہ کوئی ان کے درد کو سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہو۔
اسلام نے انسانی جان کو انتہائی مقدس اور محترم قرار دیا ہے۔ انسان کی جان اس کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں خودکشی کے بارے میں نہایت سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔
درحقیقت خودکشی زندگی کے مسائل، آزمائشوں اور مشکلات سے راہِ فرار اختیار کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے، جبکہ اسلام انسان کو صبر، استقامت، دعا، توکل اور امید کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ شدید ترین مشکلات میں بھی اپنے رب کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس رب نے آزمائش دی ہے، وہی آسانی پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا اصل حسن مشکلات سے فرار میں نہیں بلکہ ان کا سامنا کرنے میں ہے۔ گر جانا ناکامی نہیں، بلکہ گر کر دوبارہ نہ اٹھنا ناکامی ہے۔ آزمائشیں انسان کو ختم کرنے کے لیے نہیں آتیں بلکہ اسے مضبوط، باحوصلہ اور پختہ بنانے کے لیے آتی ہیں۔ جو انسان صبر، دعا اور امید کا دامن تھامے رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے راستے پیدا فرما دیتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ خودکشی کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جو ایک زندگی کے ساتھ کئی زندگیوں کو غم، حسرت اور اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں امید کو فروغ دیں، نوجوانوں کو ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کا حوصلہ دیں، انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور زندگی کی وسعتوں پر یقین دلائیں اور یہ سمجھائیں کہ زندگی کی کوئی آزمائش اتنی بڑی نہیں ہوتی کہ اس کے سامنے زندگی ہی ہار دی جائے۔ کیونکہ جب تک سانس باقی ہے، تب تک امکانات باقی ہیں، امید باقی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ زندگی کا چراغ مشکلات کی آندھیوں سے نہیں بجھتا، بلکہ اس وقت بجھتا ہے جب انسان امید کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر حال میں امید کو زندہ رکھا جائے، اپنے رب پر بھروسہ قائم رکھا جائے اور یقین رکھا جائے کہ ہر اندھیری رات کے بعد ایک روشن صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔
(رابطہ۔ 9797888975)
[email protected]
�����������������