آر پار تجارت کی معطلی

تقسیم ریاست کے 61سال بعد جب 2008میں پونچھ راولاکوٹ اور اوڑی سلام آباد سے تجارت کا سلسلہ بحال ہواتو اس فیصلے کو ہندوپاک کے درمیان اعتماد سازی کے ایک تاریخی اقدام کے طور پر دیکھاگیا جس سے نہ صرف دونوں ممالک میں اعتماد کی فضا بحال ہونے لگی تھی بلکہ جموں وکشمیر اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے کئی تاجروں کو بھی اپنا روزگار کمانے کاموقعہ نصیب ہوا۔ اگرچہ یہ تجارت کئی مرتبہ معطل ہوئی اور پھر بحال ہوئی جبکہ معاہدے کے تحت تجارتی لین دین میں شامل 21اشیاء میں بھی کٹوتی کردی گئی لیکن مجموعی طور پر یہ سلسلہ کسی نہ کسی طور پر جاری رہا مگر 19اپریل کو مرکزی حکومت نے اسے تاحکم ثانی معطل کرکے اپنے فیصلے کے حق میں پانچ بڑی وجوہات کی بھی وضاحت کی ۔مرکزی حکومت کا مانناہے کہ اس تجارت کی آڑ میں ملک دشمن عناصر اپنے مفادات کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں جس وجہ سے مجبوراًاسے معطل کرناپڑاہے ۔ وزارت داخلہ کی جموں وکشمیر امور کی ڈائریکٹر کی طرف سے جاری ہوئے وضاحتی بیان میں بتایاگیاہے تیسرے فریق کی اشیاء میں دراندازی، دہشت گردی کیلئے فنڈز کا چینل ،نشیلی ادویات کی تجارت، وادی میں جنگجوئوں کی مدد کیلئے ہتھیاروں کی سپلائی اور جعلی کرنسی حکومت ہندکیلئے تجارت کو معطل کرنے کی پانچ ٹھوس وجوہات ہیں۔تاہم اس فیصلے پر تجارتی اور سیاسی تنظیموں نے مرکز کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیاہے ۔جہاں اس فیصلے کواین سی لیڈر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اعتماد سازی کے ایک عہد کے دفن ہونے سے تعبیر کیا وہیں پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اسے طعنہ آمیز اور بدقسمتی پر مبنی قرار دیا ۔اس سلسلے میں جموں کی سرکردہ تجارتی تنظیم جموں چیمبرنے وزیر داخلہ کو ایک مکتوب بھیج کر فیصلے کے خلاف برہمی کا اظہار کیاہے ۔چیمبر کے صدر نے اپنے مکتوب میں لکھاہے کہ ’’ہم اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ سیکورٹی نہ صرف حکومت بلکہ ہندوستان کے ہر ایک شہری اور نامساعد حالات کے شکار جموں وکشمیر کیلئے سب سے اہم مسئلہ ہے ،لیکن ہم آپ کے نوٹس میں یہ لاناچاہتے ہیں کہ تاجروں کو بغیر اطلاع دیئے اچانک سے تجارت معطل کرنے سے تاجروں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہونے کا خدشہ ہے لہٰذا فیصلہ پر نظرثانی کی جائے‘‘۔ایسے ہی کروڑوں روپے کے مالی نقصانات کا اندیشہ کشمیر کے تاجروںنے بھی ظاہرکیا ہے جبکہ پونچھ اور اوڑی کے سینکڑوں تاجر اوران کے ساتھ اس عمل سے جڑے سینکڑوں نوجوانوں سے روزگار ہی چھن گیاہے ۔اگرچہ ریاست کے تجارتی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل ظاہر کئے جانے پر مرکزنے فیصلے پرسخت اقدامات کے بعد نظرثانی کا یقین دلایاہے لیکن فی الوقت ایسی صورتحال پائی جارہی ہے جو تاجروں کیلئے بہت بڑی پریشانی کا باعث ہے ۔ جن وجوہات کی مرکز کی طرف سے نشاندہی کی گئی ہے ، ان کے تدارک کیلئے تاجروں اور ریاستی سرکارکی طرف سے بارہا سکینر وں کی تنصیب اور دیگر اقدامات کی اپیل کی جاتی رہی ہے لیکن خود مرکزی سطح پر ہی اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیاگیا ۔ تجارت کی معطلی سے بہتر ان خدشات کودور کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت تھی جو وزارت داخلہ کی جانب سے ظاہر کئے گئے ہیں ۔امید کی جانی چاہئے کہ اعتمادسازی کے طور پر شروع کی گئی تجارت کی یہ معطلی عارضی ثابت ہوگی اور مرکزی سرکار اس پر نہ صرف نظرثانی کرے گی بلکہ اس کی بحالی کیلئے بھی فوری اقدامات کئے جائیں گے۔