آخری سہارا!

اکیس دسمبر کا دن تھا۔چلۂ کلان جوانی کے جوش میں مخمور اپنی بانہیں پھیلا رہا تھا۔ کڑاکے کی سردی اور آسمان پرچھائے ہوئے گہرے کالے بادل برف باری میں شدت کا اشارہ دے رہے تھے۔ ۔لوگ ٹھنڈ کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں ہی آگ کی بخاریوں کے اردگرد بڑے ہی اطمینان سے بیٹھے تھے۔کس کا بھی من نہیں کرتا تھاکہ وہ ایسی کڑاکے کی سردی میں باہر نکلے۔
رات کی ہلکی ہلکی برف باری کی وجہ سے سڑکوں پر پھسلن پیدا ہوگئی تھی۔نہ کہیں کوئی گاڑی نہ کوئی رکشہ۔اس پھسلن نے توگاڑیوں کی آمد ورفت کا پورا نظام ہی ٹھپ کر کے رکھ دیا تھا۔ لوگ مجبور۱ً پیدل ہی سڑک پر پھسل کر گرتے اُٹھتے اپنی منزلوں کی اور بڑھتے جارہے تھے۔میں بھی  بازار  میں کچھ گھریلوچیزیں خریدنے کے لیےجارہا تھا۔کچھ ہی فیصلہ کی دُوری پرمیرے آگے ایک بُزرگ، جو ایک ہاتھ میں عصا اور دوسرے ہاتھ میں کمّبل لئے ہوئے ڈگمگاتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔
میں دیکھ کرحیران ہوگیا کہ اتنی قہر والی برف اور سردی میں یہ بُزرگ بے چارہ نہ جانے کہاں جارہا ہے؟
کیا یہ گھر میں سے کسی اور نہیں بھیج سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔،؟
بار بار میرے ذہین میں یہ سوالات رقصّ کر رہے تھے۔۔۔،!!!
جُوں ہی میں اس کے قریب پہنچااُس نے سردی سے کانپتے ہوے نگاہیں اُٹھاکرمیری طرف دیکھ کر انکساری  سے کہا۔بیٹے کہاں جارہے ہو۔۔۔؟
میں نے کہا ” بابا میں بازار جا رہا ہوں“ آپ کہاں جارہے ہیں”میں ہسپتال جا رہا ہوں“اُس نے کہا 
اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوے مُجھے کہا؟
کیا آپ میر کمّبل وہاں تک اٹھاسکتے ہو؟
میں تھک چکا ہوں،۔۔۔۔؟
یہ کہتے کہتے اس کی آنکھوں سے آنسوں کے گرنے ہی والےتھے کہ میں نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنی انگلیوں سے اس کے آنسوں پوچھتے ہوے کہا۔بابا تم کیوں نم دیدہ ہوگئےہو۔۔۔۔؟
آخر وجہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟
اُس نے کہا:- بیٹا کچھ نہیں!اس نے دبے لفظوں میں جواب دیا۔ میں نے اصرار کرتے ہوئے پوچھا
مُجھے بھی بتایئے نا۔۔۔۔۔۔۔؟
اس برف اور کڑاکے کی سردی میں ہسپتال؟
خیریت ہی تو ہے نا،تمہارے ساتھ اور کون ہے۔
میں نے کمّبل ہاتھ میں لیتے ہوے پوچھا۔
اتنی سردی میں تُوبہ تُوبہ تُوبہ!
لایئے ہاتھ میرے ہاتھ میں دیجئے، کہیں گر جائوگے بہت پھسلن ہے۔۔۔؟
اس ہاتھ کاپکڑ کر میں نے راستے میں چلتے چلتےیکے بعد دگرے سوالات پوچھےاور میرے کافی اصرار کرنے پر اس نے لمبی سانس لی!
اورکہا کیا کرو گےمیری آپ بیتی سن کر؟
کوئی حل نہیں میری اس آپ بیتی کا۔۔۔۔،
میں نے کہا:-میں سسُنا چاہتا ہوں۔آپ اس قدر کیوں پریشان ہو۔آخر وجہ کیا ہے۔۔۔۔؟
میرے پاپا کہتے تھے کبھی کبھی بُزرگوں کی باتیں سن لیا کرو۔ اس سے اُنکے مَن کا بُوجھ ہوجاتا ہے اور ان کو ایک سہارا سا ملتا ہے۔۔۔،
ہاں بیٹے سچ کہا ہے تیرے باپ نے۔ آج کے اس دُور میں بُزرگوں کی سنتا ہی کون ہے۔ بُزرگوں کو بُوجھ سمجھا جاتا ہے۔جوماں باپ بچّوں کوپڑھانے لکھانے میں اپنی جوانی، سکھ وآرام یہاں تک دین ودنیا برباد کر دیتے ہیں وہی بچےّباتیں کرنا تو دور کی بات اپنے ساتھ رکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔۔۔۔۔،
بات بات پر غصّہ کرتے ہیں،کوستے ہیں۔۔۔،
یہاں تک کہ ناسمجھی اور کم عقلی کے طعنے بھی دے دیتے ہیں ۔۔۔،
میرے بیٹے میرےساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔کیا سناوں اپنی آپ بیّتی۔میرے اللّہ نے مُجھ دو بیٹے دئے،مُفلسی اور غربت کی حالت میں۔ میں نے لوگوں کے ہاں مزدوری کرکے اور لکڑیاں بیچ بیچ کر بڑے ہی جتن سے اُنکی پرورش کی اور اُن کو پڑھا لکھا کر بڑے بڑے عہدوں پر تعینات کروایا۔ اُن کی زندگی بناتے بناتے میں نےاپنی زندگی دائو پر لگادی۔دن کا آرام اور راتوں کا سکون تک کھودیا۔تا کہ ان کی زندگی سنور جاےاور میں بھی غربت کے اس پھندے سے چھٹکارہ پا کر راحت کی سانس لےسکوں۔بڑے خواب دیکھےتھے میں نےلیکن قسمت میں لکھے کو کوئی کیا کرے۔ایک نے شادی کرتے ہی معمّولی سی بات کا بہانہ بناکرہم سےدُوری اختیار کر لی۔اب وہ ہم سے دُور شہر میں اپنی بیوی بچّوں کے ساتھ پچاس لاکھ والے مکان رہ رہا ہےاوردس پندرہ لاکھ کی گاڑی اسکی سواری ہے۔ٹھاٹ بھاٹ اور مزے سے زندگی بسر کرہا ہے۔۔۔۔۔،
دوسرااسی سال ہمیں بنا بتائے بُزرگی کی اس حالت میں ہمیں چھوڑ کر ڈاکٹری کرنے ولایت چلا گیا۔۔۔۔۔۔،
اب میں اپنی گھر والی یعنی” بیوی“ کے ساتھ اُسی ٹوٹے ہوے بُوسیدہ مکان میں مصیبت کے لمحات کاٹ رہاہوں۔وہ مکان، جس میں کبھی چہل پہل ہوا کرتی تھی، خُوشیاں ہوا کرتی تھیں،اب شام ہوتے ہی اُسکی دیواریں ہم کو کھانے لگتی ہیں۔ہم دونوں میّاں بیوی مسکینوں کی طرح ایک کونے پڑے رہتے ہیں۔ دم گھٹتا ہے ہمارا وہاںاور اُنکی ایسی لیاقت کہ اب وہ کبھی فون کرکے حال چال بھی نہیں پُوچھتے۔کیا فائدہ ہےایسی اولاد کا۔کیا بگاڑا تھامیں نےاُن کا،یہی بُرا کیا کہ ان کو پڑھا لکھاکر بڑے بڑے عہدّوں پہ تعینات کروایا، کیا یہی قصّور تھا میرا۔۔۔۔۔؟
کاش اگرایک بیٹی بھی ہوتی تو کم از کم وہ کبھی اس حالت میں ہمیں چھوڑ کر نہ جاتی۔۔۔؟
اب جس کے سہارے میں زندگی کا دن دن گزار  رہا تھا.وہ بھی کل رات اچانک ان ہی بد بختوں کی پریشانیاں لے لے کر بیمارہوگئی۔ اب ہسپتال میں زندگی اور مُوت کی کشمکش میں ہے۔ یہ کمّبل اُسی کے لئے لے کر جا رہا ہوں اورہمارے سرکاری ہسپتالوں کا یہ حال ہے کہ وہاں اتنی ٹھنڈ ہے کہ اچھی صحت والا بندہ بھی ٹھنڈ کی زد میں آکر مر سکتا ہے پھر مریض بیچارے تو پہلے ہی کمّزور ہوتے ہیں۔
بیچاری کوٹھنڈ لگتی ہوگی۔خُدا نخواستہ اگراُس کو کچھ ہوگیاپھر کون بنے گامیرا۔۔۔۔۔؟
کون میرے ساتھ باتیں کر کے میرے اکیلے پن کو دور کرے گا۔۔۔۔؟
کون کھلائے گا پکا کر مُجھے۔۔۔۔۔؟
یہی باتیں کرتے کرتے پتا ہی نہیں چلا ہم ہسپتال کے صحن تک پہنچ گے۔وہاں پہنچ کر مُجھ سے رہا نہیں گیا۔ میں اُس بوڑھی امّاں کی عیادت کرنے کےلیے ہسپتال میں چلاگیا۔ واقعی وہ موت اور زندگی کی کشمّکش میں تھی۔وہ حسرت بھری نگاہوں سے مُجھے دیکھ رہی تھی!کچھ کہنا چاہتی تھی ؟لیکن کچھ کہہ نہیں پا رہی تھی۔یونکہ اس کوآکیسجن کی پائپ(pipe) لگائی ہوئی تھی۔
بابے نے میرے سے ہاتھ کمّبل لے کر اس پر ڈال دی ۔اُس کی حالت دیکھ کر بابے کی آنکھیں نم ہوگیں.میں نے دلاسا دیتے ہوئے اُسے کینٹین لے جا کر چائے  پلائی۔۔۔،اور ہمت دیتے کہا ،ان شاء اللّہ بابا امّاں ٹھیک ہوجاے گی، تو فکر نہ لے۔۔۔۔۔۔،!
ہمت اور حوصلہ رکھ۔۔۔۔۔!
لیکن بابا بےچارہ اب ٹوٹ چکا تھا۔۔۔۔۔۔،
تھک ہارکر چور چور ہو چکا تھا۔۔۔،
جُوں ہی میں وہاں سے نکلا اُسکی آنکھیں نم ہوگیں۔ یہ دیکھ کر میرا کلیّجہ چھلنی ہوگیا۔ کیسی آولاد ہے جنہوں نے ماں باپ کے ساتھ ایسا سلوک کیا۔۔۔۔،؟
جس ماں باپ نے ان کو پڑھا لکھا کر بڑے بڑے عہدوں پر تعینات کروایا وہی اولاد آج اُن کوبےبسی کی حالت میں چھوڑ کر بھاگ گئی۔۔۔۔؟
بد قمتی سےمیرے ماں باپ میرے بچپن میں ہی گزر چکے تھے۔۔۔،
کاش وہ زندہ ہوتے میں تو کبھی ایسا نہ کرتا
مجھے تو اُن کے قدم چُھونے کا موقعہ ہی نصیب نہیں ہوا۔۔۔۔،
کاش وہ زندہ ہوتے میں تو کبھی اُن سےالگ نہ ہوتا۔۔۔۔،
اب بار بار یہی خیالات میرے ذہن میں اُمڈ اُمڈکر آرہے ہیں۔۔۔،
ہاے کیا کرے گابےچارہ بابا۔۔۔؟
کیا بیتے گی اُس پر۔۔۔۔،
کیا ہوگااُس بے چارے کا۔۔۔؟
کون بنے گا اب اُس کا آخری سہارا۔۔۔؟
 
���
کیلر، شوپیان،موبائل نمبر؛7006816440