آخری آرام گاہ

انہوں  نے یہ کام ۱۱۲۸۷ روپے تین آنے یعنی سوسائٹی کے تخمینے سے ساڑھے چودہ فیصد کم پر مکمل کردینے پر آمادگی ظاہر کی۔ چنانچہ ان کا ٹینڈر منظور کرلیا گیا۔
فرم نے مجوزہ نقشے کے مطابق سنگِ مرمر کی تختیوں اور جالیوں وغیرہ کا کام اپنے کار خانے مکرانہ ہی میں کیا۔ انھوں نے جون ۱۹۵۴ء میں یہ کام شروع کیا تھا اور سب چیزیں اکتوبر ۱۹۵۴ء کے آخر تک تیار ہوگئی تھیں۔ ٹھیکے کی رُو سے انھیں چوکھنڈی ۱۰؍نومبر ۱۹۵۴ء تک مکمل کردینا چاہیے تھی، لیکن بوجوہ یہ کام دسمبر ۱۹۵۴ء میں ختم ہوا۔افسوس کہ سوسائٹی کے سرگرم صدر ڈاکٹر شانتی سروپ بھٹناگر کو اپنی مساعی کو پوری طرح بار آور دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ یکم جنوری ۱۹۵۵ء کو اچانک ان کا انتقال ہوگیا۔ اس پر ۶؍جنوری ۱۹۵۵ء کو سوسائٹی کا ایک فوری جلسہ بلایا گیا، جس میں تعزیتی قرار داد کی منظوری کے علاوہ جناب شنکر پرشاد صاحب سوسائٹی کے نئے صدر چنے گئے۔چوکھنڈی کی تعمیر کا کام غالبؔ کے یومِ وفات ۱۵؍فروری ۱۹۵۵ء سے پہلے ختم ہوگیا تھا اور اس کے افتتاح کی رسم اسی دن ادا ہوئی۔ اچھے خاصے پیمانے پر ایک جلسہ چونسٹھ کھمبے کے مشرقی طرف کے میدان میں ہوا۔ اس جلسے میں نظمیں پڑھی گئیں اور دو تین تقریریں بھی ہوئیں۔
غالبؔ کی قبر پہلے اس ہڑواڑ میں تھی، جو اُن کے خسر نواب الٰہی بخش خاں معروؔف کے خاندان کی ملکیت ہے۔ اتفاق سے یہ قبر ہڑواڑ کے احاطے کی مغربی دیوار کے پاس تھی۔ اس لیے اسے قبرستان سے الگ کرنا آسان تھا۔سوسائٹی نے مزید احتیاط سے کام لیا اور نواب صاحب لوہار و بالقابہم سے اسے الگ کرنے کی اجازت طلب کی۔ موصوف نے نہ صرف اجازت ہی دی، بلکہ ۵۰۱ روپے کا عطیہ بھی عنایت فرمایا۔ غالبؔ کے بالکل برابر میں مشرقی طرف اُن کی بیوی امراؤ بیگم کی قبر ہے۔ چنانچہ ان دونوں قبروں کو احاطے کی دوسری قبروں سے علیحدہ کرنے میں کوئی اُلجھن نہیں ہوئی۔ ایک دیوار احاطے کے بیچوں بیچ شمال سے جنوب تک کھینچ دی گئی، جس سے بقیہ احاطہ بھی جوں کا توں قائم رہا اور یہ دونوں قبریں بھی الگ ہوگئیں۔ البتہ غالبؔ کی پائینتی کی طرف مرزا زین العابدین خاں عارفؔ کی قبر سوسائٹی نے اس طرف نہیں لی اور اُسے بدستور پہلے احاطے ہی میں چھوڑ دیا۔اب ایک اور مشکل پیش آئی۔ اس سے پہلے اس احاطے کا دروازہ شمالی سڑک پر تھا، جس سے آنے جانے والے اندر داخل ہوسکتے تھے لیکن جب غالبؔ کی قبر الگ ہوگئی تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے پرانا دروازہ استعمال نہیں ہوسکتا تھا اور نئے احاطے کی سڑک والی مختصر دیوار میں کافی جگہ نہیں تھی کہ وہاں ایک اور دروازہ نصب کیا جاسکے، جس سے زائرین قبر تک آسانی سے پہنچ سکتے۔ اس کے علاوہ مزار کے ساتھ بھی ایک مناسب احاطے کا ہونا ضروری تھا۔ اس قبر کے مغرب میں ایک مکان تھا۔ پوچھ گچھ سے معلوم ہوا کہ اس کے مالک تین اشخاص ہیں۔ اُن میں سے دو پاکستان چلے گئے ہیں اور ایک ہنوز دہلی میں مقیم ہیں۔ جو صاحب ابھی تک دلی میں تھے انھوں نے بہ طیب خاطر اس کارِ خیر کے لیے اپنا حصہ سوسائٹی کے حوالے کردیا۔ بقیہ دونوں مالکوں کا حصہ سوسائٹی نے ۸۔۱۰۔۱۸۴۲، روپے دے کر کرکسٹوڈین سے خرید لیا۔ اب صورت یہ ہے کہ اس مکان کے کمرے اور دالان مسمار کرکے مزار کے سامنے ایک کشادہ صحن تیار کردیا گیا ہے۔ اس میں پتھر کا فرش لگ گیا ہے۔ سڑک کی طرف دیوار بن گئی ہے۔ لیکن تجویز یہ ہے کہ وہاں لوہے کی سلاخیں نصب کی جائیں تاکہ مزار باہر سے بھی نظر آئے۔ مگر آج کل لوہے کی اشیا آسانی سے مل نہیں رہی ہیں اس لیے یہ کام فی الحال ملتوی کردیا گیا ہے۔
سوسائٹی کا ارادہ تھا کہ غالبؔ کے نام پر ایک یادگار ہال تعمیر کیا جائے بلکہ شروع میں تجویز ہی یہ تھی۔ چونکہ روپیہ بہت کم جمع ہوا اس لیے مجوزین نے مقبرہ کی چوکھنڈی ہی پر قناعت کرلی۔ ہال پر کم و بیش دو ڈھائی لاکھ روپیہ خرچ ہوگا۔ لیکن سوسائٹی کی موجودہ مالی حالت اتنے کثیر اخراجات کی متحمل نہیں ہوسکتی، یا تو اس کے لیے مزید چندہ جمع ہو یا کوئی اور پبلک ادارہ اس کی ذمہ داری لے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ اس وقت تک جو کچھ جمع اور خرچ ہوا ہے اس میں حکومت سے ایک پائی نہیں لی گئی۔ ذیل میں بعض اہم چندہ دینے والوں کی مختصر فہرست دی جاتی ہے، مگر ایک بات یاد رہے کہ جو رقم جمع کی گئی ہے وہ بڑی حد تک چھوٹے چھوٹے چندوں پر مشتمل ہے:
سیٹھ گھنشام داس برلا صاحب، دہلی ۵۰۰۰
شنکر لال خیراتی ٹرٹسٹ، دہلی ۳۰۰۰
فرسا لال مان سنگھ گا صاحب، دہلی (بھلاوا، راجستھان) ۱۱۰۰
دہلی کلاتھ ملز، دہلی ۱۰۰۰
لالہ یودھ راج صاحب، دہلی، ۱۰۰۰
نواب صاحب لوہارو بالقابہم، دہلی ۵۰۱
لالہ بھرت رام صاحب، دہلی ۵۰۰
لالہ چرت رام صاحب، دہلی ۵۰۰
شیوراج بہادر صاحب، دہلی ۵۰۰
رام ناتھ چٹیار صاحب ۵۰۰
پی۔ سنگھانیا صاحب ۵۰۰
ایل۔ایم۔ چتالے صاحب ۵۰۰
ڈاکٹر شانتی سروپ بھٹناگر صاحب، دہلی ۵۰۰
نواب صاحب پالن پور بالقابہم ۵۰۰
بیگم صاحبہ پاٹودی، دہلی ۲۰۰
آر۔این۔ہکسر صاحب، دہلی ۲۰۰
شیام نندن سہائے صاحب ۱۵۱
رائے اُما ناتھ بالی صاحب، لکھنؤ ۱۰۱
ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب، دہلی ۱۰۰
پروفیسر محمد حبیب صاحب، علی گڑھ ۱۰۰
جناب سلطانہ آصف فیضی صاحبہ، بمبئی ۱۰۰
جناب آصف علی اصغر صاحب، بمبئی ۱۰۰
سجاد مرزا صاحب، حیدر آباد ۱۰۰
برج نرائن صاحب، دہلی ۱۰۰
مہارانی صاحبہ، جہانگیر آباد ۱۰۰
ہری چرن داس صاحب ۱۰۰
دنیائے علم و ادب ان سب اصحاب کی شکر گزار ہے کہ انھوں نے اس اہم قومی کام کی تکمیل کا سامان بہم پہنچایا۔ ’یادگارِ غالبؔ ہال‘ کا منصوبہ ابھی تک تشنۂ تکمیل ہے اور زبانِ حال سے دعوت دے رہا ہے   ع
کون ہوتا ہے حریفِ مئے مردا فگن عشق
غلام رسول مہر نے اطلاع دی ہے کہ ’’احاطہ مزار کے پاس ایک قطعہ زمین تھا، جسے حاجی حکیم عبدالحمید صاحب مالک ہمدرد دواخانہ دہلی (خازن غالبؔ سوسائٹی) نے اپنی گرہ سے متعدبہ رقم دے کر خریدا اور غالبؔ سوسائٹی کے حوالے کردیا۔ ایک اور قطعہ زمین بیگم حکیم محمد واصل خاں مرحوم (برادر کلاں مسیح الملک حکیم اجمل خاں مرحوم) نے حکیم احمد خاں مرحوم کی سفارش پر عطا فرمایا ہے۔ نواب ذوالقدر جنگ حیدر آبادی بھی مزار کی تعمیر کے آرزو مند ہیں۔ نواب صاحب ممدوح غالبؔ کے بھانجوں کی اولاد میں سے ہیں۔
غالبؔ کا مقبرہ ۱۹۵۵ یا ۱۹۵۶ء میں مکمل ہوا۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد سے لے کر اب تک انجمن ترقی اُردو (ہند) کی دہلی شاخ کی جنرل سکریٹری بیگم حمیدہ سلطان ہر سال ۱۵؍فروری یعنی غالبؔ کی یومِ وفات کے موقعے پر مزارِ غالبؔ پر جلسہ کرتی ہیں۔ اب جلسے کے منتظمین میں مرکزی انجمن ترقی اُردو (ہند) اور غالبؔ انسٹی ٹیوٹ بھی شامل ہوگئے ہیں اور اب یہ جلسہ خاصے بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔
اگرچہ غالبؔ کا مزار ایک پختہ احاطے میں ہے۔ مقبرہ سنگِ مرمر کا بنایا گیا ہے۔ لوہے کا دروازہ ہے، لیکن چونکہ کوئی ادارہ اس کی دیکھ بھال نہیں کررہا تھا، اس لیے حالت دن بدن خراب ہوتی گئی۔ احاطے کی جنوبی دیوار میں ایک راستہ تھا جو ایک تاریخی عمارت چونسٹھ کھمبے کو جاتا تھا۔ چونسٹھ کھمبے میں بھی جھگیاں پڑی ہوئی تھیں۔ یہاں چرس اور گانجا فروخت ہوتا تھا اور کوئی غلط اور غیر اخلاقی کام ایسا نہیں تھا جو یہاں نہ ہوتا ہو۔ ایم۔حبیب خاں مرحوم اسسٹنٹ سکریٹری انجمن ترقی اُردو (ہند) کا ’غالبؔ اور ذوقؔ کے مزار‘ کے عنوان سے ایک مضمون ہفت روزہ ’ہماری زبان‘ کے ۲۲؍ستمبر ۱۹۹۶ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں مزارِ غالبؔ کے بارے میں حبیب صاحب نے لکھا ہے:
’’غالبؔ سوسائٹی چاہتی تھی کہ مزارِ غالبؔ سے ملحق ایک یادگارہال بھی بنوائے لیکن روپیہ کم جمع ہونے کی وجہ سے ہال تو نہیں بن سکا، مزارِ غالبؔ پر سنگِ مرمر کی بہت خوبصورت چوکھنڈی اور مزار کے سامنے پتھر کے فرش کا ایک کشادہ صحن بنا دیا گیا۔ یہ کام ۱۹۵۵ء میں مکمل ہوگیا۔ کافی عرصے تک مزار کی حالت اچھی رہی لیکن چند برسوں میں مزار کے قریب جو خالی جگہ تھی، اس پر جھگیاں پڑگئیں۔ بستی کے لوگ صحن میں گھوڑے اور بھینسیں باندھنے لگے۔ مزارِ غالبؔ چرس اور کوکین بیچنے والوں کا اڈّہ بن گیا۔
انجمن ترقی اُردو (ہند) کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر خلیق انجم حکومت کے ذمہ داران سے درخواست کرتے رہے کہ مزار کو غیر قانونی قبضے سے آزاد کرایا جائے لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوتی تھی۔ لیفٹیننٹ گورنر سے لے کر پولیس ذمہ داران یا تو واقعی بے بس تھے یا جان بوجھ کر چشم پوشی کررہے تھے۔ ہندوستان کے مختلف اخباروں میں مزارِ غالبؔ کی اس حالت کے خلاف لکھا گیا لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
ہر سال ۱۵؍فروری کو انجمن ترقی اُردو (دہلی) مزارِ غالبؔ پر ایک تقریب کرتی ہے جس میں مزار پر چادر چڑھائی جاتی ہے، فاتحہ خوانی ہوتی ہے اور اُردو کے نقاد اور محقق غالبؔ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ۱۹۸۴ء میں چار بجے انجمن ترقی اُردو (دہلی) کا پروگرام تھا اور چھ بجے غالبؔ اکیڈمی میں غالبؔ پر تقریریں تھیں۔ چونکہ جلسے کے منتظم ڈاکٹر خلیق انجم تھے اور یہ جلسہ مزارِ غالبؔ پر ہونا ضروری تھا لیکن وہاں کے جھگی جھونپڑی والے کسی بھی قیمت پر مزار خالی کرنے پر تیار نہیں تھے۔ڈاکٹر خلیق انجم اور بیگم حمیدہ سلطان نے پولیس کو بلالیا۔ جھگی والے اس شرط پر ہٹے کہ جلسہ ختم ہوتے ہی واپس آجائیں گے۔
چار بجے جلسہ شروع ہوا، لوگ قوالیاں اور تقریریں سننے میں مصروف تھے، لیکن ڈاکٹر خلیق انجم اس فکر میں تھے کہ کسی طرح دو بارہ جھگیاں پڑنے سے روکی جائیں۔ ڈاکٹر صاحب قریبی تھانے گئے اور تھانے دار کو صورتِ حال سے آگاہ کیا لیکن اس نے کسی بھی طرح کی مدد دینے سے انکار کردیا۔ مشکل یہ تھی کہ مزارِ غالبؔ چونسٹھ کھمبے سے متصل ہے۔ چونسٹھ کھمبے سے ایک راستہ مزارِ غالبؔ کے احاطے میں آتا ہے جس میں دروازہ نہیں تھا۔ احاطے کا صدر دروازہ لوہے کا ہے لیکن اس پر تالا لگانے کا انتظام نہیں تھا۔ یہ ڈاکٹر خلیق انجم کی اردو سے والہانہ محبت اور فعال شخصیت کا کرشمہ ہے کہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ چونسٹھ کھمبے اور مزارِ غالبؔ کے احاطے کے درمیان جو راستہ ہے اس پر تیغہ لگا دیا جائے اور صدر دروازے پر تالا لگانے کا انتظام کیا جائے اور یہ سب کام چند گھنٹوں ہی میں کیا جائے۔
فون: 011-43559568
shahid_meyar[email protected]
باقی باقی