آج پھر دل کو ہم نے سمجھایا۔۔۔۔

وہ جمی ہوئی کلفی کی طرح ایک جگہ جیسے جم گیا تھا اور اُس کی بہن اُسے ہر آن یہ احساس دلاتی تھی کہ اُسے ابھی سب کے لیے جینا ہوگا ۔اپنے تئیں بہن کی اس طرح کی محبت دیکھ کر عدنا ن کو ایک بار خیال تو ضرور آتا ہوگا کہ وہ دوسرے بھائیوں کی طرح صادیہ کے سر پہ ہاتھ رکھ کر اُسے تسلی دیتا کہ ’’میں ہوں نا! تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔صادیہ ہر آن،ہر لمحہ اپنے بھائی کی پرچھائی بنی رہتی،یہ مصیبتیں بھی جیسے ایک ساتھ قطار میں ہی کھڑی رہتی ہے ۔
’’مما کب ہمارے بھیا ٹھیک ہوجائیں گے‘‘۔َ
’’کب یہ پھر سے ہمارے گھر کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔‘‘
’’صادیہ تو پرواہ نہ کر، اللہ نے ہم سب کے لیے کچھ بہتر سوچو ہوگا۔صادیہ کی عمر اکتیس سال کی تھی لیکن اس کی ماں کو کبھی بھی اپنی بیٹی کے اکیلے پن سے خوف نہیں آتا تھا ۔
’’ماں کی خود کی شادی تو چودہ برس کی عمر میں ہوئی تھی لیکن اُسے میں ابھی بھی بچی کیوں لگتی ہوں‘‘۔صادیہ ہر  رات سونے سے پہلے یہ بات ضرور سوچ لیتی۔صادیہ کے لیے جب بھی کوئی اچھا رشتہ آتا تو صادیہ کی والدہ یہ کہہ کر رشتہ ٹال دیتی کہ’’ابھی صادیہ کو خود کچھ کمانا ہے ،پھر ہم اُس کی شادی کریں گے ‘‘یہ سب باتیں سُن کر صادیہ کی سمجھ نہ آتا تھا کہ وہ روئے یا ہنسے۔’’کیا ماں کو میرا اکیلا پن دکھائی نہیں دیتا ،جو وہ مجھے گھر پر بغیر شادی کے بٹھانا چاہتی ہے یا شاید انہیں اس بات کا خوف ہے کہ میرے جانے کے بعد اُسے بھائی کی خدمت خود ہی کرنی پڑے گی لیکن دوسرے بھائی اور بھابی بھی تو ہے نا ،پھر کیوں ماں میری زندگی برباد کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔‘‘کمر ے میں داخل ہو کر ماں نے پھر صادیہ کی ساری سوچ کو جیسے عُریاں کر دیا ۔’’یہ تم اپنے آپ میں ہی ہر وقت کیوں گُم رہتی ہو۔
’’کچھ نہیں ماں آپ آئیں اور بتائے کوئی کام تھا مجھ سے ‘‘۔’’وہ کل تمہیں لڑکا دیکھنے آرہا ہے ،دراصل پڑوس کی آنٹی نے کب سے میرے کان کھائے ،میں نے یوں تو کئی بار اُسے منع کیا لیکن وہ جیسے پیچھا ہی نہیں چھوڑتی ‘‘۔
،میںماں کو بولنا چاہ رہی تھی کہ آخر وہ میرے لیے آئے رشتوں میں کیوں دلچسپی نہیں لے رہی،کیا وہ میری آنکھوں میں چھپی تنہائی کو محسوس نہیں کر پارہی۔خیر یہ اس طرح کی باتیں سوچنے کا وقت نہیں ہے۔صادیہ نے ان سوچوں سے خود کو آزاد کرتے ہوئے من ہی من میں کہا۔اب کل دو بجے تیار رہنا ۔۔۔ماں پھر سے ایک بار یہ کہہ کر کمرے سے رخصت ہوگئیں۔
ماں کے جانے کے بعد صادیہ ہر لڑکی کی طرح اس سوچ میں پڑ گئی کہ کل وہ کیا پہنے گی۔کس طرح ایک اجنبی شخص سے گویا ہوجائے گی۔پوری رات صادیہ انہی خیالوں میں کھوئی رہی ۔وہ کبھی ایک سوٹ نکال کر دیکھتی کو کبھی دوسرا سوٹ،آخر پر اُس نے اپنے من پسند کالے رنگ کا سوٹ پہننے کے لیے نکال لیا۔وقت کتنی تیزی سے نکل گیا ۔دو بجنے میں صرف آدھا گھنٹہ رہ گیا ہے۔صادیہ کا دل ز ور زور سے دھڑکنے لگا۔خیر تیار ہو کے صادیہ گھر سے نکل گئی اور آنٹی کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گئی ۔آپ دونوں بات کریں آنٹی نے صادیہ کو کہا۔آپ کا کیا نام ہے؟ ویسے تو آنٹی نے مجھے بتایا تھا لیکن آپ اگر پھر سے بتاتیں تو ٹھیک رہتا،اجنبی شخص نے صادیہ سے مخاطب ہو کر پوچھا۔۔۔جی میں صادیہ ،صادیہ نے نظریں جھکاتے ہوئے جواب دیا۔خیر دونوں میں کئی طرح کی باتیں ہوئیں اور کسی حد تک دونوں ایک دوسرے سے کافی متاثر نظر آئے۔
صادیہ کی زندگی میں اس طرح کا یہ پہلا واقعہ تھا ،اُسے گھر جا کر ایک عجیب طرح کی راحت محسوس ہونے لگی ۔اُسے سجاد کے ساتھ پہلی ملاقات میں کی گئی ساری باتیں رہ رہ کے یاد آنے لگی۔اسی اثنا میں  دن گزرتے گئے لیکن ایک عجیب بات یہ ہوگئی کہ سجاد کی طرف سے کوئی بھی جواب آنٹی کو نہیں ملا۔’’آخر کیابات ہو سکتی ہے سجادکویوں تو میں پسند آگئی تھی تو پھر اُس کی تاخیر کی وجہ، یا پھر شاید سجاد کو میں پسند ہی نہیں آئی تھی،ورنہ وہ کب کا ہاں کہہ چکا ہوتا۔‘‘
اسی طرح دیکھتے ہی دیکھتے مہینے گزر گئے ۔ صادیہ اس رشتے کو جو اس کی زندگی میں مذاق کی مانندداخل ہوا  تھا کافی حد تک اب بھول بھی گئی تھی ،لیکن کہاں وقت اس قدر رحم دل ہے جو انسان کے زخم اس قدر بھرنے میں مدد کرتا ہے ۔واقعی کچھ چیزیں ہمارے اختیار میں نہیں ہوتیں اور کچھ معاملات انسان کی زندگی میں اس طرح درپیش آتے ہیں کہ انسان نہ ہی انہیں سمجھ پاتا ہے اور نا ہی انسان کا ا ن پہ اختیار ہوتا ہے۔پورے چھ ماہ گزرنے کے بعد صادیہ پر کو اپنے گھر والوں سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ سجاد کا رشتہ، جو چھ ماہ سے التوا میں پڑا تھا، اب طے ہوگا اور سجاد نے اُس رشتے کے لیے اقرا کیا ہے ۔’’ہا ہا ہا ہا ۔۔۔۔اچھا مذاق ہے ماں ،میں کیا کوئی کھلونا ہوں ،اب آپ انہیں بتایئے کہ ہماری لڑکی اس رشتے کے لیے نہیں مان رہی۔ آج نہ جانے پہلی بار ماں کیوں اس رشتے کے لیے صادیہ کو مجبور کرنے لگی،’’صادیہ میرا خیال ہے کہ تمہیں پھر سے ایک بار سوچنا چاہیے،تم اپنی کسی دوست سے مشورہ کر لو۔آنٹی کہہ رہی تھی کہ انہیں گھر میں کوئی مسئلہ درپیش آیا تھا جبھی اتنی تاخیر ہوئی۔صادیہ نہ جانے کیوں پھر سے اس رشتے کے بارے میں سوچنے لگی۔ پوری رات پھر سے اسی رشتے کے بارے میں سوچ کر صبح صادیہ نے اپنی سب سے اچھی دوست عالیہ کو فون کیا ’’عالیہ مجھے سمجھ نہیںآرہا کہ اتنے مہینو ں کے بعد سجاد کو کیا یاد آگیا پھر سے ‘‘۔مجھے لگتا ہے صادیہ تو سوچ پھر سے اس رشتے کے بارے میں سوچ لے۔ کیا پتہ اللہ نے تمہیں ایک دوسرے کے لیے ہی بنایا ہو،لیکن وہ اتنے مہینوں کہاں تھا ،کیا اُسے ہمارے گھر والوں کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے شرم نہیں آئی۔ہر بار کی طرح عالیہ نے صادیہ کے سارے سوالات کے جوابات دے کر اُسے تقریباََ اس رشتے کے لیے راضی کر ہی لیا۔چلو عالیہ تم کہتی ہو تو میںسجاد کو ایک اور موقع دینے کے لیے تیار ہوں ۔میں مما کو کہہ کر کل ہی آنٹی سے اس رشتے کی رضا مندی کے لے حامی بھرتی ہوں۔۔
صادیہ اب پھر سے ہر لمحہ جیسے سجاد کی محبت میں گرفتار ہونے لگی۔دراصل یہ دل بھی بڑ ا بے وقوف ہوتا ہے، کتنی جلدی باتوں میں آجاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا ۔صادیہ ایک بار پھر سے اپنے خیالوں کی دنیا میں ہی کھونے والی تھی کہ عالیہ کا فون بے وقت بج گیا۔۔۔۔ا’’آخر کیا بات ہوگی جو اس وقت عالہ کا فون آیا ۔ہیلو۔۔۔ صادیہ نے وقت گنوائے بغیر ہی بات شروع کی ،کیا بات ہے عالیہ سب خیریت تو ہے۔ پتہ ہے تجھے آج میری کزن آئی تھی جو سجاد اور اُس کے گھر والوں کو جانتی ہے اور پتہ ہے تجھے اُس سے مجھے سجاد سے متعلق اس طرح کی باتوں کا انکشاف ہوا کہ کیا بتاؤں،سجاد کی ایک بار سگائی کہیں پہ ہوگئی تھی۔کیا؟ صادیہ نے اونچی آواز میں پوچھا۔لیکن اُس نے بتایا کیوں نہیں،اس کے علاوہ بھی کئی اور باتیں ہیں جن کو سن کر تیرے رونگھٹے کھڑ ے ہوجائیں گے ۔اس لیے میرا اب یہی مشورہ ہے تو اس رشتے کے لیے انکار کر دے۔
’’آخر مجھ سے میرا اللہ یہ کس طرح کے کھیل کھیل رہا ہے ،کبھی میرے دل کو سجاد کی محبت سے لبریز کرتا ہے تو کبھی مجھے اُس سے نفرت ہوجاتی ہے۔چلو خیر اب اس میں بھی ر ب کا شکر کہ حقیقت کا پتہ پہلے ہی چلا ۔دوسرے دن صادیہ نے گھر میں یہ سب باتیں کہہ کر اس رشتے سے انکار کر دیا اور کچھ دن سجاد سے باتیں کرنے کی جو عادت صادیہ کو لگی تھی اُسے نظر انداز کر کے صادیہ نے سارے نمر بلاک کر دیے ۔لیکن قدرت کو کہاں ابھی یہ کہانی ختم کرنی تھی۔’’صادیہ تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی۔ میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ،ٹھیک ہے اگر تم شادی نا بھی کرو لیکن خدارا مجھے بلاک بھی تو مت رکھو،یہ میری بہن کا نمبر ہے ،پلیز پلیز مجھے انبلاک کروــ‘‘۔نیند سے بیدار ہو کر صادیہ نے جوں ہی یہ مسیج پڑھا تو اُس کی ہوائیاں اُڑ گئیں۔
’’آخر کیوں میںنے سجاد سے فون پہ بات کی تھی،چلو اُسے انبلاک کر کے ایک دوست کی طرح سمجھانے کی کوشش کروں گی ،صادیہ نے دل ہی دل میں یہ بات سوچی‘‘
کچھ دن بعد سجاد پھر سے صادیہ کو ویسے ہی شادی کے لیے منانے کی کوشش کرنے لگا ،پلیز صادیہ میری  غلطیاں معاف کر دو ،لیکن مجھے صرف ایک موقع دو‘‘دیکھو سجاد ضروری نہیں کہ جو کسی سے رشتے کے سلسلے میں ایک بار ملے تو اُن کا رشتہ برحق ہوجائے گا،جوڑیاں آسمانوں میں بنتی ہیں ،اس لیے تم دوبارہ اس طرح کی باتیں نہ کیا کرو۔
’’اللہ نے آپ کے لیے مجھ سے کوئی بہتر رکھا ہوگا،ہر دن باتیںکر کے صادیہ پر سجاد نے جیسے ایک جادوسا کر دیا ۔اُسے اس حد تک اب سجاد سے گفتگو کی عادت ہوگئی کہ جب تک نہ وہ شام کو سجاد سے باتیں کرتی اُسے نیند نہ آتی۔یہاں تک کہ سجاد نے ایک اور بار ان کے یہاں رشتہ بھیجااور سجاد نے اس بار صادیہ کو اس بات کے لیے بھی مجبور کیا کہ صرف ایک بار اُس کے گھر والے سجاد کو دیکھنے آئیں،صادیہ کے گھر والے دیکھنے بھی گئے اور اب اس بار اُن کو سجاد پسند آیا۔ اس سے پہلے انہوں نے صرف اُس کے بارے میں سُنا ہی تھا ۔صادیہ کے گھر والے بھی سجاد کی باتوں میں کافی حد تک آگئے ،سجاد نے کئی باتوں کے لیے معافی بھی مانگی۔
اب تقریباََ سب ٹھیک ہونے لگا اور پھر سے جواب کا لمحہ آگیا ،’’مجھے نہ جانے کیوں ایک عجیب سا ڈرپھر سے لگنے لگا،کہیں اُس دن کی طرح۔۔۔۔ارے نہیں نہیں۔۔۔۔اب ویسا نہیں ہوگا ،اب تو سب ٹھیک ہوجائے گا صادیہ نے خود کو تسلی دیتے ہوئے کہا‘‘۔اب کل سب اچھا ہوگا ،سبھی گھر والوں نے اب تقریباََ اس رشتے کے لیے حامی بھر لی۔ابھی صادیہ کا بھائی گھرنہیں آیا تھا۔ جوں ہی وہ شام گھر آیا تو اُس نے کچھ اس طرح کی باتوں کا انکشاف کیا کہ صادیہ کی خوشیاں ایک پل میں پھر سے کھو گئیں۔’’دیکھو مما میں آج بازار میں اپنے ایک دوست سے ملا اور اُس نے سجاد سے متعلق کچھ ایسی باتیں کہیں کہ میں کیا بتاؤں’’آپ کو اپنی بہن کے لیے اور کوئی رشتہ نہیں ملا سجاد ہر روز کسی نہ کسی لڑکی کو دیکھنے جاتا ہے اور تمہاری بہن کی نوکری لگنے کے انتظار میں ہے، اور تو اور سب سے بڑی بات اُس کا کردار ٹھیک نہیں‘‘۔
یہ سب باتیں سن کے صادیہ کے پیروں تلے جیسے زمین ہی نکل گئی ۔آخر مما آپ ہی بولو اتنے سارے لوگ کیوں جھوٹ بولیں گے۔مجھے لگتا ہے سجادصادیہ کے لیے ٹھیک نہیںہے۔ایک بار پھر راتوں رات ہی فیصلہ بدل گیا،اور ہاں کو نا میں بدل دیا گیا۔۔۔۔صادیہ نے گھر والوں کے سامنے خاصی ہمت کا مظاہرہ تو کیا لیکن جوں ہی وہ کمرے میں چلی گئی تو اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی قطاریں جاری ہوگئیں،آخر میرا قصور کیا تھا ؟کیوں مجھے سجاد کے ساتھ اتنی دیر منسوب رکھا گیا جب کہ حقیقت میں مجھے اُس سے دور کرنا تھا؟صادیہ اپنے رب سے شکایتوں کی گوہار لگاتی رہی۔آج پھر سے ایک بار صادیہ فون بند کر کے سو گئی۔
صبح بیدار ہو کر سجاد کا فون سب سے پہلے آگیا ’’آخر تم نے کل سے میرے فون کا جواب کیوں نہیں دیا ،میں نے اتنی سارے مسیجز ،کیں آخر بات کیا ہے؟ ۔سجاد مجھے معاف کرو ہم دونوں شاید ایک دوسرے کے لیے نہیں بنے ہیں۔بس وہی پھر سے قسمت آڑے آگئی، اب مہربانی کرکے مجھے بھول جائو ۔۔۔میرا ارادہ تمہارا دل دُکھانانہیں تھا لیکن کچھ ایسے مسئلے درمیان میں آئے کہ میں چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کر سکی۔۔۔۔صادیہ نے پھر سے ایک بار سجاد کے سارے نمبر بلاک کئے اور پھر وہی گانا سننے لگی جو اس سے پہلے بھی وہ اکثر اوقات سنا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔آج پھر دل نے ایک تمنا کی۔۔۔۔آج پھر دل کو میں نے سمجھایا۔۔۔۔۔
���
ریسرچ اسکالر شعبہ اردو سینٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر 
ای میل:۔[email protected]