آج سے معمولات زندگی بحال:مشترکہ قیادت

 سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ندھ سے روز مرہ کے معمولات زندگی بحال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے سماج کے سبھی طبقوں سیاہ جھنڈے اور سیاہ پٹیاں چسپاں کرکے حالیہ ہلاکتوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کرنے کی اپیل کی ہے ۔منگل کی شام مشترکہ قیادت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ  جموںوکشمیر کی تازہ ترین سیاسی صورتحال من حیث القوم اہالیان کشمیر کیلئے از حد تکلیف دہ اور باعث اذیت ہے ۔مشترکہ قیادت نے عوام الناس سے 9 مئی 2018سے روز مرہ زندگی کی سرگرمیاں بحال کرنے کیلئے کہا ساتھ ہی سماج کے تمام طبقوں،ملازمین، وکلاء، اساتذہ، تاجر برداری ،ٹرانسپوٹرس پر زور دیا کہ وہ بطور احتجاج سیاہ جھنڈے اور بلے لگا کر اپنے دکھی جذبات اور احساسات کا اظہار کریں اور اس طرح تحریک مزاحمت کے ساتھ اپنی بھر پور وابستگی کا مظاہرہ کریں۔قائدین نے تمام ائمہ مساجد اور خطیبوں سے اپیل کی کہ وہ ۱۱؍ مئی ۲۰۱۸ء جمعتہ المبارک کو نماز جمعہ کے موقعہ پر مساجد ، خانقاہوں، آستانوں اور امام باڑوں میں سرینگر اور شوپیاں میں جان بحق ہوئے افرادکی غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کریں اور پر امن احتجاج کے ساتھ ساتھ اس موقعہ پر متحدہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے مرتب کردہ قرارداد پیش کرکے عوام سے تائید حاصل کریں ۔قائدین نے کہا کہ موجودہ قتل و غارت گری اور جبر کے ضمن میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے مشاورت کے بعد مربوط لائحہ عمل بنایا جائیگا اور اس حوالے سے عوام کو آگاہ کیا جائیگا۔مشترکہ قیادت نے ۱۷ سالہ سفیل احمد بٹ ولد غلام حسن بٹ سکونت دچھو ناگہ بل شوپیاں جو زخموں کی تاب نہ لاکرآج ایس ایم ایچ ایس میں دم توڑ بیٹھاکو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ان معصوم شہیدوں کی بے لوث قربانیوں کو ناقابل فراموش قرار دیا ہے ۔