عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// بھارت نے خلیجی خطے میں سکیورٹی کی سنگین صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے جہازوں کے مالکان، شپ مینیجرز اور بھرتی و تعیناتی کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھارتی ملاحوں کو تعینات کرنے سے گریز کریں۔ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میرین ایڈمنسٹریشن (ڈی جی ایم اے) نے بدھ کی رات دیر گئے جاری کردہ ایک سرکاری سرکلر میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد تنازع سے متاثرہ خطے میں تجارتی جہازوں پر جاری حملوں کے درمیان بھارتی ملاحوں کے تحفظ، سکیورٹی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔قابل ذکر ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے بیچ حملوں کا تبادلہ جاری ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان جون سال 2026 میں طے پانے والی مفاہمت (ایم او یو) مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔رواں سال 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک آبنائے ہرمز میں چلنے والے بحری جہاز مسلسل حملوں کی زد میں ہیں جس کی وجہ سے متعدد ملاحوں کی جان جا چکی ہے۔واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ کے اوائل میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ایرانی حکومت کی کئی دیگر سرکردہ شخصیات جاں بحق ہو گئے۔
وہیں ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیج میں امریکی اڈوں پر حملے کیے اور آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر دیا۔اس دوران ایران نے ان بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جنہوں نے اس کی ہدایات پر عمل نہیں کیا، جس کے نتیجے میں کئی ملاح ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، اس تنازع میں اب تک 13 بھارتی ملاح ہلاک ہو چکے ہیں اور تین لاپتہ ہیں۔ڈی جی ایم اے نے اپنے سرکلر میں کہا کہ تجارتی جہازوں—بشمول ممباسا بی، البہیہ، جی ایف ایس گیلکسی، ایم ٹی ودیان اور الرقیات (AL REKAYYAT) پر ہونے والے حالیہ حملوں نے اس علاقے میں کام کرنے والے ملاحوں اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرات کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔سرکلر میں خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور اس سے متصل پانیوں میں چلنے والے بحری جہازوں کے کپتانوں (ماسٹرس) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی چوکنا رہیں، جہاز رانی سے متعلق وارننگز اور سکیورٹی ایڈوائزریوں پر مسلسل نظر رکھیں، اور ‘انٹرنیشنل شپ اینڈ پورٹ فیسیلٹی سکیورٹی’ (آئی ایس پی ایس) کوڈ کے تحت جہاز کے سکیورٹی پلانز اور دیگر اقدامات کو سختی سے نافذ کریں۔تاہم، جہاز کے مالکان، شپ مینیجرز اور آر پی ایس ایل کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے احکامات تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھارتی ملاحوں کو تعینات نہ کریں۔ڈی جی ایم اے نے ہنگامی امداد کے لیے ملاحوں اور بحری جہازوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر ڈی جی کمیونیکیشن سینٹر یا انڈین نیوی کے انفارمیشن فیوژن سینٹر-انڈین اوشن ریجن (IFC-IOR) سے رابطہ کریں۔