انیسویں صدی میں براعظموں کی حرکات اور علیحدگی سے منسلک ایک ’’مفروضہ‘‘ نے جنم لیا، جس کی بازگشت دنیا بھر کے سائنسی حلقوں میں سنائی دے رہی تھی۔ آواز کی اس گونج میں سب سے نمایاں آواز جرمنی کے ایک عظیم سائنسدان ’’الفرڈوینگر‘‘(Alfred Wegener) کو حاصل تھی،جس نے پہلی مرتبہ اس پوشیدہ حقیقت کو اجاگر کیا تھا کہ براعظم اور بحراعظم جو آج الگ الگ نظر آتے ہیں پیدائشی طور پر ایک تھے۔
اس خیال کو ایک ’’مفروضہ‘‘ (عملی طور پر غیر مستند) کے حوالے سے ایک عرصہ دراز تک ’’براعظمی علیحدگی‘‘ (Continental Drift) کے طور پر صرف قبول عام کی سند حاصل رہی، کیوں کہ عملی شواہد اور دلائل ناکافی تھیں لیکن سائنسی ’’جہدِ مسلسل‘‘ یعنی نت نئے تجربات ارضی نقشہ جات، اعداد وشمار، ارضی طبعی سروے اور میدانی مشاہدات کی بنیاد پر اہل سائنس نے انیسویں صدی کے پیش کردہ ’’مفروضہ‘‘ کو 1960ء کے عشرے میں ایک انقلاب آفریں دریافت قراردے کر) ’’نظریہ‘‘ عملی طور پر مستند)کے درجہ پر فائز کردیا۔
جسے جدید ارضی علوم نسبتاً جدید نظریہ ’’پلیٹ ٹیکٹونکس‘‘ یا ’’متحرک پلیٹس‘‘ کے نام سے مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس ہمہ گیر نظریہ نے زلزلے، آتش فشاں اور دیگر اراضیاتی سرگرمیوں کے بارے میں زمانہ قبل از تاریخ سے جو خیالات، مفروضے اور ابہام پائے جاتے تھے وہ ریت کی دیوار کی طرح ڈھیر ہوگئے۔ یہاں پلیٹ سے مراد یہ ہے کہ زمین کے نیچے تقریباً تیس یا چالیس مجموعی طور پر 100کلو میٹر کی گہرائی (لیتھوسفیر) میں ایسی چٹانی بلاکس موجود ہیں جو ایک مسلّم چٹانی اکائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ٹھوس سخت ’’حرکی سِل‘‘ سے مشابہت رکھتی ہیں، جس کے اطراف دراڑ زدہ حاشیہ ہوتے ہیں ٹھیک اسی طرح جیسا کہ ایک اُبلے ہوئے انڈے کے خول میں پیدا ہوجاتے ہیں ۔
طبقات الارض کے ماہرین کے مطابق اب تک آٹھ بڑی پلیٹیں بشمول کچھ درجنوں چھوٹی پلیٹ دریافت ہوئی ہیں جن کی اجزاء ترکیبی یا تو پوری طور پر بحری (سمندری) فرش پر مشتمل ہوتی ہیں۔ مثلاً نازکا پلیٹ(Nazca Plate)یا پھر بری اور بحری چٹانی بلاک پر مثلاً شمالی امریکا پلیٹ اس پلیٹ کا مغربی حصہ براعظم شمالی امریکا جب کہ مشرقی نصف حصہ بحراوقیانوس کی ترائی پر مشتمل ہے لیکن بحرالکاہل پلیٹ پوری کی پوری سمندری (بحری) ہے۔ یاد رہے کہ سمندری پلیٹ سنگ سیاہ (بسالٹ) بھاری کثافت والی پلیٹ ہوتی ہے جب کہ بری پلیٹ سنگ صوان (گرینائٹ) ہلکی کثافت کی حامل ہوتی ہے۔
سنگ صوان، سنگ سیاہ کے اوپر ہے دونوں ٹھوس حالت میں ہوتی ہے جب کہ سنگ سیاہ کا زیریں حصہ گہرائی (استھینو سفر) میں پگھلے ہوئے گرم سیال (میگما) کی نوعیت کا ہے چوں کہ یہ سیال بھی بلند کثافت والی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اس کے اوپر موجود دونوں ٹھوس چٹانی پلیٹ نہیں سنگ صواں اور سنگ سیاہ قالون غوتِ اچھال(bouncing effect)کے تابع ارتعاش میں ہوتی ہیں،جس طرح درخت کے تنے یا برف پانی پر تیرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ ان کی تیز ترین حرکت تقریباً 15سینٹی میٹر یعنی 6انچ اور سست ترین حرکت تقریباً 2.5سینٹی میٹر یعنی ایک انچ سالانہ کے قریب ہوتی ہے۔
جب کہ سمندری پلیٹ کی حرکت براعظمی پلیٹوں کی حرکت سے کوئی چھ گنا زیادہ ہوتی ہے۔ جن جن علاقوں میں پلیٹو ں کی حرکت ہوتی ہیں کوئی نا کوئی ارضی ساخت یا غیر معمولی زمینی سرگرمیاں وجود میں آتی ہیں، جس کا تعلق ’’ٹیکٹونکس‘‘ سے ہے، جس سے مراد پلیٹوں کی حرکات سے خارج ہونے والی توانائی سے پیدا ہونے والی بگاڑ (Deformation)اور ترتیب سے وابستہ بڑے اور چھوٹے سائنسی خدوخالی اور بعض ارضی سرگرمیاں مثلاً حمیدگی (Folding)،رخنہ زدگی(Faulting)، کوہ سازلی، چٹانی پٹی اور سلسلے براعظمی اور بحراعظمی زلزلے،آتش فشانی سرحدیں اور معدن و کچدھاتی سازی کا عملی مظاہرہ شامل ہیں،جس کی اصل وجہ ’’کنویکشن کرنٹ‘‘ کے ماتحت پیدا ہونے والی ’’پھندے‘‘ (Plume) اورگرم مقام (Hot spot)ہوتے ہیں۔ ’’پھندے‘‘ دراصل وہ سیال ہوتے ہیں جو بسالٹک پلیٹ کے ایک مرکز سے پگھلنے اور باقی جانب ٹھوس پلیٹ میں داخل ہونے کے لئے کھائی دراڑ یا شگاف کی تلاش میں اوپر آنے کا نام ہے۔
یہ عام طور پر مرکز سے اوپر کی جانب 500سے 1000کلو میٹر موٹائی تک ہوتی ہے۔ جب یہ اوپر کی جانب حرکت کرتے ہیں تو ایک وسیع علاقوں میں تپشی خانوں(Thermal cells) کی صورت میں مرکوز ہو جاتی ہیں۔ یہ گرم مقام (Hot spot) کہلاتی ہیں۔ اس کے اوپر سے جب بھی کوئی براعظمی پلیٹ سرکتی ہے تو آتش فشانی ایک طویل پٹی تشکیل پاتی ہے۔ مثلاً ’’ہوانی‘‘ کے مقام پر موجود ’’گرم مقام‘‘ یعنی ہاٹ اسپاٹ تقریباً 70ملین سال سے متحرک ہے۔
یہ شمالی مغربی بحرالکاہل کے اطراف 3750میل یعنی کوئی 600کلو میٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے آتش فشاں سلسلوں کا ایک حیران کن مظاہرہ ہے۔ یہ معلومات تصدیق شدہ ہے کہ کرئہ ارض پر جو ارضی سرگرمیاں ہوتی تھیں اور جو دور حاضر میں ہو رہی ہیں وہ دو پلیٹوں کے باہم قریب آنے سے (Convergence of Plate) یعنی باہمی تصادم (Collision) یا دو پلیٹوں کے ایک دوسرے سے دور جانے (Divergent of Plate) یا پھر ایک دوسرے کے متوازی حرکت کرنے کی وجہ سے معروضِ وجود میں آتی ہیں۔
چنانچہ ’’قوت دب ‘‘ کے ماتحت جب ’’سمندری پلیٹ‘‘ اور ’’بری پلیٹ‘‘ ایک دوسرے کے قریب آتی اور ان کے درمیان تصادم ہوتا ہے جو ایک پلیٹ اوپر اوردوسری نیچے چلی جاتی ہے۔ سنگ صوان (Granite)چونکہ کم کثافت (3.5)کی حامل پلیٹ ہوتی ہے جب کہ سنگ سیاہ (Basalt)بلند کثافت (5.5) والی پلیٹ کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’بحری پلیٹ‘‘ ، ’’بری پلیٹ‘‘ کے نیچے دھنس جاتی ہے، جس سے ایک ’’منہائی علاقہ‘‘ (Subduction Zone) کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔
یہ گہرائی میں پگھلائووالے حدود میں پہنچ کر اس میں ضم ہو کر اپنے حصے کے وجود کو کھو بیٹھتی ہیں۔ اس کی ایک مثال ’’آریگان‘‘کے ساحلوں نیز واشنگٹن اور الاسکا میں موجود آتش فشانی سلسلے ہیں جو ’’الاسکا‘‘ کی ایک چھوٹی پلیٹ کے براعظم شمالی امریکاکی بڑی پلیٹ کے نیچے کی جانب گھسنے کی وجہ سے وجود میں آئے تھے۔ اس قسم کی پلیٹوں کے تصادم، تصادم سے بننے والی سرحد کو ’’منہائی علاقہ‘‘ کہلاتی ہیں اور اس کی پہچان عموماً انتہائی شدت کے حامل زلزلے کی وجہ سے ہو جاتی ہے۔
جب دو ’’سمندری پلیٹ‘‘ ایک دوسرے کے مدِمقابل آتی ہیں اور ان کے درمیان تصادم ہوتا ہے تو دونوں پلیٹیں چونکہ نرم اور بلند کثافت کی حامل ہوتی ہیں۔ اس لئے ان میں سے زیادہ پرانی چٹانی پلیٹ زیادہ کثیف ہونے کی وجہ سے نسبتاً کم کثیف پلیٹ کے نیچے دھنس جاتی ہے اور اس مرحلہ پر بھی ’’منہائی علاقہ‘‘ بنتے ہیں اور ساتھ ہی آتش فشاں پہاڑیوں کے سلسلے زیر ِ آب وجود میں آتی ہیں۔ ایسے پہاڑی سلسلوں میں نئے جزائر وجود میں آتے ہیں۔ ’’جزیرہ نفوس‘‘(جاپان) اس کی ایک مثال ہے۔
تازہ ترین تحقیق (نیشنل جغرافیہ، میگزین2002) کے مطابق’’ فلپائن ‘‘سمندری پلیٹ کا حصہ ہے اور یہاں موجود 7000جزیرے دو سمندری پلیٹوں کے تصادم کے نتیجے میں معروضِ وجود میں آئی ہیں۔ ’’آلاسکا‘‘ میں جزیرہ الیوٹین(Aleution Pcnensuler) نامی انتہائی متحرک آتش فشانی سلسلے جزیرہ محراب (Psland Ares)کی بہترین مثال ہے۔ بعض اوقات بحری اور بری پلیٹس نہ تو ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں اور نہ ہی دور جاتی ہیں بلکہ ایک دوسرے کو کناروں سے رگڑتے ہوئے متوازی پہلو بہ پہلو سرکتی یا پھسل جاتی ہیں،جس کا عملی مظاہرہ براعظم شمالی امریکا میں ’’سان آنڈریاس‘‘ (San Anders) پہاڑی کے اطراف کیا جاسکتا ہے۔ ’’سان آنڈریس‘‘ ارضیاتی پلیٹو ں کی حرکت کے نتیجے میں سطح زمین پر پیدا ہونے والی رخنہ(Fault) ہے جو1100کلو میٹر طویل شگاف ہے جوکیلیفورنیامیں بحرالکاہل اور شمالی امریکن پلیٹ کے درمیان حد بندی کرتی ہے۔
’’ٹیکٹونکس‘‘پلیٹ ناصرف ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں بلکہ یہ ایک دوسرے سے دور بھی جاتی ہیں۔ اس قسم کی حرکت میں’’سمندری فرشی پھیلائو‘‘ یعنی افقی دوری پیدا ہوتی ہے۔ اگردیکھا جائے تو افریقن پلیٹ اور شمالی امریکن پلیٹ ایک دوسرے سے پرے ہوتی ہوئی نظرآتی ہیں۔ شمالی امریکن پلیٹ کے حرکت کرنے کی وجہ سے ’’نازکا‘‘ (Nazca) اور’’کوکس‘‘ (Cocos) پلیٹ متاثر ہورہی ہے، جس کی ایک مثال ’’بوگوٹا‘‘ کا آتش فشاں ہے جو جنوبی امریکا کے دارالحکومت ’’کولمبیا‘‘ میں موجود ہے۔
ان تمام پلیٹوں کی حرکات کی اہمیت اپنی جگہ لیکن مجموعی طور پر کرئہ ارض کی تخلیق کے بعد جو ارضیاتی صورتِ حال نظرآتی ہے وہ ’’دوبراعظمی پلیٹوں‘‘کے تصادم کا ایک یقینی اور عملی مظاہرہ ہے۔
(مضمون جاری ہے، اگلی سوموار کو ملاخطہ فرمائیں)