یو این آئی
لندن// انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان روایتی ایشز سیریز کے 73 ویں ایڈیشن کا آغاز ایجسٹن برمنگھم سے ہوا۔ سیریز پانچ میچز پر مشتمل ہے ۔ یہ سیریز کا 73 واں ایڈیشن ہے ۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے مطابق تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں دونوں ٹیموں کے درمیان پانچ میچز کھیلے جائیں گے ۔شیڈول کے مطابق پانچ ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ کل ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ برمنگھم میں شروع ہوا۔ دوسرا ٹیسٹ 28 جون سے 2 جولائی تک لارڈز لندن، تیسرا میچ 6 سے 10 جولائی ہیڈنگلے لیڈز میں ہوگا، چوتھا ٹیسٹ میچ 19 سے 23 جولائی تک ایمرٹس اولڈ ٹریفورڈ مانچسٹر جبکہ سیریز کا پانچواں اور آخری ٹیسٹ میچ 27 سے 31 جولائی تک اوول کرکٹ گراؤنڈ لندن میں کھیلا جائے گا۔اس سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان 72 ایشز سیریز ہوچکی ہیں جن میں سے 34 میں آسٹریلیا نے فتح حاصل کی جبکہ 32 سیریز انگلینڈ کے نام رہیں جب کہ 6 ایشز سیریز بے نتیجہ رہیں۔ گزشتہ ایشز سیریز میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو چار صفر سے شکست دی تھی۔
انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی تاریخ ڈیڑھ صدی پرانی ہے لیکن ان روایتی حریفوں کے مابین ایشز سیریز کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے ۔جس طرح ہندوستان اور پاکستان کرکٹ کی دنیا کے دو روایتی حریف ہیں اسی طرح آسٹریلیا اور انگلینڈ بھی اس مقبول عام کھیل کے دو روایتی حریف مانے جاتے ہیں جن کے مابین ایشز سیریز 140 سال سے زائد عرصے سے کھیلی جا رہی ہے ۔ اس کا نام ایشز کیوں اور کیسے پڑا اس کی بھی ایک دلچسپ تاریخ ہے جس پر نظر ڈالنے کے لیے ہمیں 142 سال پیچھے سفر کرنا پڑے گا۔یہ 1882 کا سن ہے ۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ کا آخری روز، جب اوول کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ صرف 7 رنز سے ٹیسٹ ہاری تو اس وقت کے مقبول اخبار نے اسپورٹنگ ٹائمز نے اس خبر کو ‘‘انگلش کرکٹ کی موت واقع ہوگئی’’ کہ شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا اور آگے لکھا کہ تدفین انگلینڈ میں ہوگی جب کہ راکھ آسٹریلیا جائے گی۔اگلے سال جب انگلینڈ نے آسٹریلیا کو ان کے گھر جاکر پچھاڑا تو انگلش کپتان کو ایک نمائشی میچ کے بعد کچھ خواتین شائقین کرکٹ نے بیلز کی راکھ دی تھی۔یہ راکھ (ایش) کو چھوٹے سے آتش دان میں رکھ کر 100 کیوبک انچ کی ٹرافی بنائی گئی تھی اور اب اسی ٹرافی کے حصول کے لیے لگ بھگ ڈیڑھ صدی سے دنیائے کرکٹ کی دو ٹیمیں ہر سال صف آرا ہوتی ہیں اور اس جنگ کو ‘‘ایشز سیریز’’ کا نام دیا گیا ہے ۔