انڈونیشیا میں سیلاب نے تباہی مچادی، 59 افراد ہلاک 25 لاپتہ

جکارتہ //انڈونیشیا کے علاقے سیلوویسی میں شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 59 افراد ہلاک جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا کے صوبے جنوی سیلوویسی میں ہونے والی شدید بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب نے تباہی مچا دی۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سیلاب اور لینڈ سلائنڈنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 59 تک پہنچ گئی ہیں جبکہ دو درجن سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جنہیں ریسکیو حکام تلاش کررہے ہیں۔ ریسکیو ذرائع کاکہنا ہے کہ سیلابی ریلوں سے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 34 ہزار افراد کو شدید بارشوں اور تیز ہواؤں میں گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جارہا ہے۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث 5 ہزار گھر، 12 ہزار ایکٹر چاولوں کی فصل زیر آب آگئی ہے۔ سیلوویسی کے ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث صوبے کے 100 گاؤں زیر آب آئے ہیں، جمعرات کی شام تک ہلاکتوں کی تعداد 30 تھی۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں گوا ڈسٹرکٹ میں ہوئی ہیں جہاں 44 افراد کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں جانے والا اہم ہائی وے بند ہوگیا ریسکیو ادارے ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرین کو امداد فراہم کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر کے اختتام پر انڈونیشیا کے آبنائے سنڈا میں سونامی کی لہریں ساحل سے ٹکرا گئیں جس کے نتیجے میں 429 افراد ہلاک اور 1600 زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ خبر رساں اداروں سے موصول ہونے والی ابتک کی اطلاعات کے مطابق 150 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اس سے قبل 2004 میں آنے والے سونامی کے باعث ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔