اننت ناگ پارلیمانی حلقے میں کروڑپتیوں کا مقابلہ

سرینگر// جنوبی کشمیر میں منعقد ہونے والے انتخابات میں بھی کروڑ پتی سیاست دانوں کا ہی بول بالا ہے۔انتخابات میں حصہ لینے والے  سیاست دانوں میں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جائیداد ایک کروڑ سے کم ہے،تاہم کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر سب سے امیر امیدوار ہیں،اور انکی جائیداد قریب 20کروڈ روپے ہے۔جنوبی کشمیر کی نشست پر جہاں دو پارٹیوں کے صدور آپس میں نبرد آزما ہیں،وہی کروڑ پتی امیدواروں کے درمیان انتخابی دنگل قابل دید ہوگی۔سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ،کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر اور نیشنل کانفرنس کے جسٹس(ر) حسنین مسعودی اور بھاجپا کے صوفی یوسف سمیت ایک خاتون امیدوار ڈاکٹر رضوانہ سمیت 17امیدوار میدان میں ہیں۔ کانگریس کے امیدوار غلام احمد میر نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جو بیان حلفی پیش کیا ہے،اس میں انکی جائیداد کی تفصیل بھی درج ہیں۔جس میں منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کروڑوں میں ظاہر کی گئی ہے۔ بیان حلفی کے مطابق میر کے پاس فی الوقت ایک لاکھ روپے جبکہ انکی اہلیہ کے پاس50ہزار روپے نقد ہیں،جبکہ مختلف بنک کھاتوں اور اسکیموں میں غلام احمد میر کے پاس67لاکھ66ہزار روپے،اور انکی اہلیہ کے پاس14لاکھ روپے جمع ہیں۔بیان حلفی میں درج تفصیلات کے مطابق غلام احمد میر کے پاس440گرام سونا ،جس کی قیمت13لاکھ20ہزار،جبکہ انکی اہلیہ کے پاس ایک کلو320گرام زیورات ہے،جس کی قیمت39لاکھ60ہزار روپے ہیں۔کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمدمیر کے پاس بھی440گرام کے سونا ہے۔اس کے علاوہ کانگریس کے ریاستی صدر کے پاس ایک جیپ اور جپسی ہے،جو انہوں نے فوجی بولی کے دوران ایک لاکھ50ہزار روپے میں خریدی تھی۔ میر نے اپنی جائیداد کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دمحال میں انکی خاندانی75کنال اراضی ہیں،جن میں انکا ایک تہائی حصہ ہے،اور اس کی قیمت4کرور روپے کی ہے،جبکہ سرینگر کے برین نشاط میں انہوں نے جو اراضی خریدی ہے،اس کی موجودہ قیمت35لاکھ روپے ہیں۔غلام احمد میر کے اسلام آباد(اننت ناگ) میں میر فلنگ اسٹیشن نامی پیٹرول پمپ میں ایک چوتھائی،جبکہ جموں میں ایشاں فلنگ اسٹیشن نامی پیٹرول پمپ میں نصف حصہ ہیں،جبکہ میر ایک چاول مل میں بھی نصف کے شریک ہیں۔ بیان حلفی کے مطابق اس جائیداد کی قیمت قریب7کروڑ روپے ہیں۔دمحال میں انکے دو مکان ہے،جس میں انہیں ایک تہائی حصہ ہے،جبکہ جموں اور دہلی کے علاوہ ویری ناگ میں بھی مکانات ہیں،جن کی قیمت12کروڑ65لاکھ روپے کی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی تاہم،بھاجپا،کانگریس،پیپلز کانفرنس اور نیشنل کانفرنس امیدواروں سے مالی طور پر کمزور ہیں۔محبوبہ مفتی نے بیان حلفی میں جائیداد کی تفصیل فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی میں سنسد بھون جموں کشمیر بنک شاخ میں انکے کھاتے میں8لاکھ45ہزار562روپے جمع ہیں،جبکہ سول سیکریٹریٹ برانچ میں24لاکھ57ہزار945اور ایل آئی سی پالیسی میں90ہزار 349 روپے جمع ہیں،جبکہ مجموعی طور پر34لاکھ3ہزار875روپے کی مالکن ہیں۔محبوبہ مفتی نے سال2018-19میں انکم ٹیکس میں اپنی سالانہ آمدنی8لاکھ63ہزار928روپے ظاہر کی ہے۔محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ انکے پاس کوئی بھی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد نہیں ہے،تاہم بجبہاڑہ میں انکی ایک کنال خاندانی اراضی ہے،جس کی قمیت25لاکھ روپے ہیں،جبکہ بجبہاڑہ میں خاندانی مکان بھی ہیں،جس کی قمیت30لاکھ روپے کی ہے۔ بی جے پی کے امیدوار صوفی محمد یوسف نے بیان حلفی میں اپنی جائیداد ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکے پاس50ہزار،جبکہ اہلیہ کے پاس ایک لاکھ روپے نقد ہیں۔تفصیلات کے مطابق صوفی محمد یوسف کے پاس5لاکھ روپے،جبکہ انکی اہلیہ کے پاس4لاکھ روپے کے ایف ڈی آر ہیں۔بیان حلفی کے مطابق صوفی محمد یوسف کے پاس12لاکھ روپے کی سکارپیو گاڑی،جبکہ انکی اہلیہ کے پاس3لاکھ50ہزار روپے کی اگنیس گاڑی کے علاوہ10گرام سونا بھی ہیں،جس کی قیمت2لاکھ روپے ہیں۔ بھاجپا امیداوار کا کہنا ہے کہ انہوں نے ضلع میں جو اراضی خریدی ہے،اس کی قیمت40لاکھ روپے ہیں،جبکہ ایک مکان بھی ہے،جو انہیں تحفہ میں ملا تھا،اور اس کی قیمت50لاکھ روپے ہیں,جبکہ اراضی کی قیمت40لاکھ روپے ہیں۔نیشنل کانفرنس کے امیدوار اور سابق جج جسٹس(ر) حسنین مسعودی بھی کسی سے کم نہیں ہے۔بیان حلفی میں جسٹس(ر) حسنین مسعودی نے اپنی جائیداد کی تفصیلات کو منظر عام پر لاتے ہوئے کہا ہے کہ انکے بنک کھاتوں میں88لاکھ450،جبکہ انکی اہلیہ کے بنک کھاتوں میں38لاکھ20ہزار222روپے جمع ہیں،جن میں سونا اور گاڑی بھی شامل ہیں۔ بیان حلفی کے مطابق حسنین مسعودی کی اہلیہ کے  پاس14لاکھ روپے کی ٹاٹا سفاری گاڑی اور 7لاکھ50ہزار روپے کے زیوارات بھی ہیں۔بیان حلفی کے مطابق حسنین مسعودی کے پاس کھریو میں10کنال خاندانی اراضی،جس کی قیمت2کروڑ45لاکھ روپے ہیں۔بیان حلفی میں مزید کہا گیا ہے کہ پانپور ،کھریو میں مزید2 کنال خاندانی اراضی موجود ہیں،جبکہ صنعت نگر میں ایک مکان ،جس کی قیمت2کروڑ60لاکھ روپے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے جنوبی کشمیر سے امیدوار کی اہلیہ کے پاس جموں کے سدھرہ علاقے میں ایک کنال کی ارضی بھی ہیں،جس کی قیمت ایک کروڑ روپے ہیں۔ بیان حلفی کے مطابق جسٹس مسعود حسینن اورانکی اہلیہ کے پاس کھریو اور جموں کے علاوہ صنعت نگر میں رہائشی مکانات کی قیمت7کروڑ50لاکھ روپے ہیں۔اس نشست پر ایک اور خاتون آزاد امیدوار ڈاکٹر رضوانہ صنم کادہلی میں42لاکھ روپے کا ایک فلیٹ ہے جبکہ انہوں نے اپنی آمدنی ایک لاکھ روپے ماہانہ ظاہر کی ہے۔ بیان حلفی میں انہوں نے کہا ہے کہ انکے پاس کوئی بھی خاندانی جائیداد موجود نہیں ہے۔اسی نشست پر جنتا دل یونائیٹیڈ کے امیدوار مرزا سجاد بیگ کا کہنا ہے کہ انکے پاس صرف60ہزار روپے ہیں۔پیپلز کانفرنس کے امیدوار چودھری ظفر علی کا کہنا ہے کہ انکے پاس ایک لاکھ50ہزار روپے نقد جبکہ انکی اہلیہ کے پاس50ہزار روپے نقد رقم ہے۔ بیان حلفی کے مطابق انکے بنک کھاتے میں15ہزار892جبکہ اہلیہ  پاس قریب2لاکھ روپے کے زیورات موجود ہیں۔چودھری کے پاس15کنال16مرلہ اراضی بھی ہیں،جس کی قیمت ایک کروڑ50لاکھ روپے سے کم ہیں۔ کوکر ناگ کے بڈی ہار مین پیپلز کانفرنس کے امیدوار کے پاس ایک مکان بھی ہیں،جس کی قمیت80لاکھ روپے کے قریب ہیں،تاہم انہوں نے2لاکھ2ہزار روپے کا کے سی سی قرضہ بھی بنک سے ھاصل کیا ہے۔پنتھرس پارٹی کے نثار احمد وانی نے بیان حلفی میں کہا ہے کہ انکے پاس30ہزار روپے کی رقم ہے،جبکہ کوئی بھی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد نہیں ہے۔