اننت ناگ//اننت ناگ کے لال چوک علاقہ میں سپورٹس اسٹیڈیم کے قریب جنگجوئوں نے بی جے پی سرپنچ اور اس کی اہلیہ پر فائرنگ کر کے انہیں ہلاک کردیا۔جنگجو اُس مکان میں دن دھاڑے داخل ہوئے جہاں میاں بیوی کرایہ پر رہتے تھے۔پولیس نے مذکورین کی ذاتی محافظ پر تعینات ایک پی ایس او کو فوری طور پر معطل کردیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ غلام رسول ڈار بھاجپا کسان مورچہ کولگام کا صدر بھی تھا۔پولیس نے کہا کہ یہ واقعہ سوموار سہ پہر4 بجے کے قریب اسپورٹس اسٹیڈیم کے نزدیک مہمان گلی میں پیش آیا جہاں دونوں میاں بیوی عارضی طور پر رہائش پذیر تھے۔مہلوکین کی شناخت ریڈونی کولگام کے رہنے والے غلام رسول ڈار اور ان کی اہلیہ جواہرہ بانو کے طور پر ہوئی ہے۔ معلوم ہواکہ بی جے پی سے وابستہ سرپنچ غلام رسول ڈار اپنی اہلیہ جواہرہ بیگم(پنچ) کیساتھ گھرمیں موجودتھے ،تو مشتبہ جنگجو اندرداخل ہوگئے اورانہوں نے سرپنچ اوراسکی اہلیہ کوگولیوں کانشانہ بنایا ۔دونوں شدیدزخمی میاں بیوی کوخون میں لت پت جی ایم سی اسپتال اننت ناگ منتقل کیاگیا ،تاہم یہاں موجودڈاکٹروںنے دونوں کومردہ قرار دے دیا۔پولیس نے بتایاکہ سرپنچ غلام رسول ڈار اپنے اہل خانہ کے ہمراہ لالچوک اننت ناگ میں رہائش پذیرتھا۔ مہمندمحلہ میں واقع شیخ العالم مسجد کے نزدیک مکان میں کچھ نامعلوم جنگجو داخل ہوگئے اورانہوںنے مکینوں پر بے تحاشہ گولیاں چلائیں ۔ادھرآئی جی پی کشمیر وجے کمارنے بتایاکہ دونوں مہلوک میاں بیوی پہلے ایک محفوظ ہوٹل میں مقیم تھے ،اوروہ حال ہی میں ہوٹل سے اس مکان میں منتقل ہوئے تھے ۔انہوںنے بتایاکہ پنچایتی انتخابات میں جیت حاصل کرنے کے بعددونوں سرپنچ شوہراورپنچ بیوی کواننت ناگ میں واقع ایک محفوظ ہوٹل میں قیام کی سہولیات فراہم کی گئی تھیں ،تاہم انہوں نے حال ہی میں نجی رہائش مکان میں منتقل ہونے کی خواہش ظاہر کی ،جسکی اجازت اُنھیں دی گئی تھی ۔پولیس کے صوبائی سربراہ نے کہا کہ ان ہلاکوں میں لشکر طیبہ کاہاتھ ہے۔
منوج سنہا ،جتندر سنگھ ، رویندر رینہ کی مذمت
نیوز ڈیسک
سرینگر// بھارتیہ جنتا پاٹی کے کسان مورچہ صدر اور انکی اہلیہ کی ہلاکت پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا ، ڈاکٹر جتندر سنگھ ،روندر رینہ ،بھارتیہ جنتا پارٹی کے جموں و کشمیر ترجمان الطاف ٹھا کر نے شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ایل جی منوج سنہا ،ڈاکٹر جتندر سنگھ ،روندر رینہ نے اسے بزدلانہ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ غلام رسول ڈار ’کسان مورچہ بی جے پی‘ کا ضلع صدر برائے کولگام اور سرپنچ تھا۔انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیاں قابل مذمت ہیں خاص طور پر ایک خاتون کو قتل کرنا نا قابل معافی جرم ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ایل جی نے غم زدہ لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعہ نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ تشدد سے کسی کا بھلا ہونے والا نہیں ہے اور کس طرح کشمیری نوجوانوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔