اننت ناگ ضمنی چنائو کا معاملہ

 سرینگر//ریاستی ہائی کورٹ نے اننت ناگ پارلیمانی نشست پر ضمنی انتخاب منعقد کرانے کے سلسلے میں مرکزی وزارت داخلہ کو اپنا جواب دائر کرنے کیلئے دو ہفتوں کی مہلت دی ہے ۔گذشتہ برس اس نشست   پرہونے والے چنائو کو ملتوی کیا گیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ جب اس سیٹ پر الیکشن کرانے کا پروگرام مرتب کیا گیا تھا، تو اس وقت مجموعی طور7امیدواروں نے نامزدگی کے فارم جمع کرائے تھے لیکن اصل مقابلہ پی ڈی پی کے مفتی تصدق حسین اور کانگریس کے غلام احمد میر کے درمیان تھا۔امیدواروں میں پلوامہ سے تعلق رکھنے والے غلام محمدوانی بھی شامل تھے جو آل جے اینڈ کے کسان مزدور پارٹی کی ٹکٹ پر میدان میں اترے تھے۔الیکشن ملتوی ہونے کے بعد انہوں نے ریاستی عدالت عالیہ میں ایک پٹیشن دائر کی اور عدالت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اننت ناگ کی پارلیمانی سیٹ پر انتخاب منعقد کرانے کے احکامات صادر کرے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایک سال سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود اس نشست پر الیکشن نہیں کروائے جارہے ہیں جو کہ عوام کو حق رائے دہی کے اظہار سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔عدالت نے اس بارے میں مرکزی وزارت داخلہ سے جواب طلب کیا جو ابھی تک دائر نہیں کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ پٹیشن کی ایک اور سماعت جمعہ کو ریاستی ہائی کورٹ کے جسٹس، جسٹس تاشی ربستن کے سامنے ہوئی ۔اس موقعے پر مرکزی سرکار کی طرف سے اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل آف انڈیا(ASGI)طاہر مجید شمسی نے عدالت سے مرکزی وزارت داخلہ کو جواب دائر کرنے کیلئے مزید وقت مانگا۔چنانچہ جسٹس تاشی ربستن نے اس ضمن میں متعلقہ وزارت کو مزید دو ہفتوں کی مہلت دی ۔