انسانی ہمدردی ! دردِ دل کے امتحاںکاقوم کو ہے سامنا

گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے بالعموم اور 2008 ء سے بالخصوص متنازعہ جموں و کشمیر کے عوام کو جنگی صورت حال کا سامنا ہے۔ وار زون میں رہنے والے عوام کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہاں سماج کے اندر کون کون سے مسائل جنم لیتے ہیں، وہاں انسانیت کس درد و کرب میں مبتلا ہوجاتی ہے، وہاں سماج کے اندرونی تانے بانے کس طرح بکھر جاتے ہیں ،اس کااندازہ شام ، عراق اور افغانستان کے پناہ گزینوں کی حالت زار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔متنازعہ جموں وکشمیر ایک مسلمہ conflict zone ہونے کے ناطے یہاںوقت وقت پر ایسے حالات ضرور پیدا ہوئے اور ہوتے رہے ہیں جہاں آبادی کے لیے ہجرت کرنے کے سوا باقی کوئی دوسرا راستہ بچتا ہی نہیں لیکن خطہ کے جغرافیائی حالات نے یہاں کے لوگوں کی حالت پنجرے میں بنداُن مرغوں جیسے کردی جن پر چھرا چلانے کے لیے جب قصائی ہاتھ ڈال دیتا ہے تو وہ پھڑ پھڑاتے تو ضرور ہیں لیکن پنجرے کے حدود و قیود سے باہر نکل کر اپنی جان بچانے کا اُن کے لیے کوئی راستہ دستیاب نہیں ہوتا ہے۔ کشمیر کے جغرافیائی حالات، تار بند سرحدوں اور حکومت ہند کی جانب سے سخت ترین سفری قوانین نے اس قوم کو اپنی ہی سرزمین پر اپنے لخت جگروں کا قتل عام ہوتا ہوا دیکھنے پر مجبور کردیا ہے۔گزشتہ تین دہائیوں سے یہاں قبرستانوں کے قبرستان آباد ہوئے ہیں۔ 500 سو سے زائد ایسے نئے قبرستان وجود میں آئے جن پر ’’مزار شہداء‘‘ کے سائن بورڈ چڑھ گئے اور جن میں ہماری ایک پوری نسل دفن ہے۔ ہر شہر اور قصبے میں یتیم خانوں کا جال پھیل گیاجہاں حالات کی وجہ سے یتیم ہوئے معصوم بچوں کی اگر چہ خوب کفالت کی جارہی ہے لیکن جب یتیموں کی تعداد ہی زیادہ ہو تو پھر ان بڑے بڑے یتیم خانوں کے دامن بھی کم پڑ جاتے ہیں۔ ماؤں کی کوکھ اُجاڑی گئیں۔ بیواؤں کا نالہ و فغاں آسمان تک کو خون کے آنسوں رُلا دیتا ہے۔ جواں سال نیم بیوائیں اپنے جیون ساتھیوں کی راہ تکتے تکتے بوڑھی ہوچکی ہیں۔جیل کی کال کوٹھریوں میں معصوم انسانوں کی جوانیاں لٹ رہی ہیں۔ ہندوستان کا شاید ہی ایسا کوئی قید خانہ ہو جہاں کشمیری قیدی جرم بے گناہی میں سزائیں نہ کاٹ رہے ہوں گے۔ گویا گزشتہ تین دہائیوں کے زمانے میں ہر وقت یہاں ہنگامی صورت حال قائم رہی۔ عام لوگ سخت ترین مشکلات میں مبتلا رہے۔ عوام کی مالی و اقتصادی حالت خستہ ہوچکی ہے، یہ الگ بات ہے کہ کشمیری زندہ دل قوم ہے، یہ ہر حال میں توکل کا عظیم مظاہرہ کرنے والے لوگ ہیں، اپنے سینوں کے دُکھ درد چھپا کر کھل کر جینے والی قوم ہے، اسی لیے شاید بھارتی ٹی وی چینلوں پر گوروساونت جیسے لوگ چلّاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’کشمیر میں بیشتر وقت ہڑتال اور سنگ بازی کے نذر ہوجاتا ہے، بندکال کی وجہ سے وہاں کام نہیں ہوتا ہے اس کے باوجود وہاں کوئی کسان ومزدور باقی ہندوستانیوں کی طرح خود کشی نہیں کرتا ہے، وہاں کوئی فاقہ کشی کا شکار نہیں ہوتا ہے،وہاں کے لوگ کمزور اور لاغر ہونے کے بجائے تندرست اور صحت مند ہیں، اُن کے چہرے لال لال ہیں۔‘‘اس قوم کی زندہ دلی اور اِن کے ایثار نے جس طرح سے گزشتہ تین دہائیوں میں اپنی کی بنیادوں کو قائم رکھا اُس کی کہیں اور مثال ملنا ناممکن ہے۔ ہماری اس چیز نے حریف قوم کو سوچ اور فکر میں مبتلا کررکھا ہے۔ اُن کے بے خبر ’’ماہرین ‘‘رات دیر گئے تک ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر مغز ماری کرکے کشمیریوں کی ثابت قدمی اور زندہ دلی کی وجوہات ڈھونڈنے یا اس بارے زمین و آسمان کے قلانے ملانے میں لگے ہوئے ہیں۔
بھلے ہی ہم اپنی مجبوریوں کو ظاہر نہ ہونے دیں، ہم اپنے اندر کے حالات کی پردہ پوشی کریں، حالات کی وجہ سے پیدہ شدہ صورت حال کو نظر انداز کریں لیکن حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کشمیری سماج میں آبادی کا ایک بہت ہی بڑا حصہ نامساعد حالات کی مار سے بری طرح سے متاثر ہے۔ حالات کے ستائے ہوئے لوگ اپنی ضروریات پوری نہیں کرپاتے ہیں۔ کہیں یتیم بچے پریشان ہیں تو کہیں بیوائیں روز مرہ کی ضروریات کے لیے سڑکوں پر بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، کسی جگہ تحریک کے لیے اپنی اولاد کو قربان کرنے والے بوڑھے والدین دو وقت کی روٹی اور علاج ومعالجے کے لیے ترس رہے ہیں ، تو کسی جگہ قیدیو ں کے بچے اسکولی فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے اسکول سے نکالے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال کی عوامی ایجی ٹیشن میں وردی پوشوں نے پیلٹ گن کا بے تحاشا استعمال کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد معصوم نوجوانوں کی آنکھیں بینائی سے یا تو مکمل یا جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ ان پیلٹ متاثرین میں قوم کشمیر کی60 بیٹیاں بھی شامل ہیں۔ یہ ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی مالی حالت ابتر ہے ، جن کے والدین اُن کا علاج و معالجہ نہیں کرپاتے ہیں۔ قومی و ملی کاز کے لیے اپنی بصارت کی قربانی دیکھنے والے یہ نوجوان ہمارے ہیروز ہیں۔ اپنے ہیرو ز کو حالت کے رحم کرم پر چھوڑ دینا کشمیر کے مقدس کاز کے ساتھ دغا قرارپائے گا، جس کا خمیازہ ہمیں ناکامی کی صورت میں بھی اُٹھنا پڑسکتا ہے اور روز محشر میں رب العزت کے دربار میں بھی جواب دہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تارزو سوپور سے تعلق رکھنے والا 18 برس کی عمر کا امتیاز احمد صوفی13 ستمبر 2016 کو عید کے دن پیلٹ کے چھروں کا شکار بن گیا۔ اُن کی پے در پے پانچ سرجریاں ہوئی ہیں لیکن دونوں آنکھیں بری طرح سے متاثر ہوئی ہیں۔ وہ اپنے غریب والدین کا واحد کمانے والا بیٹا تھا۔ ایک مقامی ورک شاپ پر کام کرکے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کا پیٹ پالتا تھا لیکن اب زندگی بھر کے لیے چند قدم اُٹھانے کے لیے بھی دوسروں کا محتاج ہوگیا۔ماز بُگ سوپور سے تعلق رکھنے والے 26 ؍برس کے فردوس احمد کی کہانی بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ فردوس کے والد صاحب کا 1997 میں فورسز اہلکاروں نے شدید ٹارچر کیا جس کی وجہ سے وہ اپاہچ ہوگیا اور کام کاج کرنے کے قابل نہ رہا۔ اُس کے بعد فردوس کو اپنی تعلیم کو خیر باد کہنا پڑا اور اپنے گھریلو ذمہ داریوں کو کندھا دینا پڑا۔ چھوٹے بہن بھائیوں کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام اخراجات پورے کرنے کے لیے فردوس نے آٹو رکشہ چلانے کا پیشہ اختیارکیا۔ ستمبر2016میں ہڑتال اور جمعہ کے دن گھر سے سبزی لانے کے لیے بازار چلا گیا۔ وہاں کوئی احتجاج نہیں تھا نہ ہی کوئی سنگ بازی، فردوس سبزی لے کر واپس گھر آہی رہا تھا کہ وہاں سے چند پولیس گاڑیوں کا گزر ہوا، جس میں سے ایک گاڑی فردوس کو دیکھ کر رُک گئی، گاڑی میں موجود اہلکار نیچے اُتر جاتے ہیں اور راہ چلتے فردوس پر نزدیک سے پیلٹ گن کا فائر کردیتے ہیں۔ فردوس دونوں آنکھیں کی بصارت سے بر سر موقع محروم ہوگیا۔ اُن کی اس حالت کی وجہ سے اُن کے ساتھ ساتھ اُن کا پورا گھر عوامی سہارے کا محتاج ہوگیا۔2010 ء کی عوامی ایجی ٹیشن میں جان کی قربانی دینے والے افراد میں شامل ایک منظور احمد لون ساکن برتھنہ قمرواری بھی تھا۔ وہ اپنے پیچھے ۲۲؍برس کی بیوہ، سات مہینے کا بیٹا، اپاہیچ باپ، ذہنی طور مفلوج والدہ چھوڑ گیا۔ اُن کے گھر کی تمام تر ذمہ داری اُن کی جواں سال بیوہ پر آن پڑی ہے۔ اُن کے سسر کے علاج پر ماہانہ دو ہزار کا مستقل خرچہ آتا تھا، پھر گھر چلانا اور اپنے کمسن بیٹے کی کفالت اور تعلیم جیسے مسائل کے لیے اُن کی بیوہ کو کیا کیا جھیلنا پڑا اور ابھی بھی وہ زندگی کے شب و روز گزار کے لیے کیا کیا سہہ رہی ہیں، اُس کا تصور بھی عام حالات میں نہیں کیا جاسکتا ہے۔
یہ صرف چند مثالیں نمونے مشتے از خروارے ہیں ، ورنہ یہاں کی کوئی بھی ایسی بستی نہ ہوگی جہاں حالات کا مارا اللہ کا کوئی بندہ نہ رہتا ہو۔ گزشتہ 28 برس کے دوران کتنے ہی خوشحال گھرانے کسمپرسی کی زندگی جینے پر مجبور ہوئے، کتنے ہی خاندان ایسے ہیں جہاں مشکل سے ہی چولہا جلتا ہے۔ سینکڑوں باصلاحیت بچوں کو اس لیے اپنے اسکول کو چھوڑ دینا پڑا کیونکہ وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے نہیں کرپائے تھے۔جب پوری قوم اس طرح کے حالات کی لپیٹ میں آچکی ہو، جب ہر سو متاثرین ہی متاثرین ہو تو پھر بیرونی امداد سے ہی انسانیت کو درپیش حالات کا مقابلہ کیا جاسکتا تھا مگر المیہ یہ ہے کہ حکومت ہند نے یہاں عالمی رضاکار تنظیموں اور امدادی کارروائیوں کی کبھی اجازت ہی نہیں دی۔ اُنہوں نے دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی جانب سے اپنے دُکھ زدہ عوام کی مالی مدد کو غیر قانونی قرا ردیا ،بلکہ اب تو باضابطہ طور این آئی اے کو بغیر کسی قانونی وآئینی جواز کے میدان میں جھونک کر یہاں کی مزاحمتی قیادت کے ساتھ ساتھ کاروباری شخصیات کو بھی ہراساں کر نے میں لگی ہے تاکہ کشمیر کی مزاحمت و معیشت کو زک پہنچائی جائے۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں تمام تر بوجھ اندرون خانہ ستم رسیدہ عوام پر ہی آن پڑا ہے۔یہاں کشمیری لوگ خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے بد سے بدتر حالات میں بھی انفاق کا عظیم تر مظاہرہ کیا اور اپنے سماج میں انسانیت کو درپیش مسائل کو بڑی حد تک قابو میں رکھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ظلم و جبر کے نتیجے میں پید ا شدہ صورتحال پریشان کن بن رہی ہے۔آئے روز کہیں نہ کہیں کسی غریب کے زندگی بھر کی جمع پونجی سے تعمیر کیے گئے مکان کو بارود سے اُڑایا جاتا ہے، آئے روز بستیوں میں توڑپھوڑ کی جاتی ہے، 2016 کی عوامی ایجی ٹیشن میں وردی پوشوں نے جنوبی کشمیر میں دھان کی فصلیں تک جلا کر راکھ کردی اور سیب کی فصل کا اربوں او رکھربوں روپے مالیت کا نقصان بھی جان بوجھ کر کیا گیا، یہ ایک نئی حکمت عملی ہے جس کو وردی پوش مستقبل میں بھی اپنا سکتے ہیں۔ہر ہفتے کہیں نہ کہیں کسی ماں کا بیٹا پیلٹ (چھروں) کا شکار ہوجاتا ہے۔ آنے والے وقت میں کشمیریوں کے لیے حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں کیونکہ جس طرح سے ہندوستانی سرکاری کارندے اورفوجی آفسران مشترکہ طور دھمکیاں دے رہے ہیں ،اُن سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ظلم و جبر کی رواں روش میں مزید سختی پیدا کریں گے اور انسانیت کو تڑپانے اور رُلانے کو ہی اپنی جیت تعبیر کریں گے۔ اس لیے ہمارا ذہنی اور عملی طور پر تیار رہنا ضروری بن جاتا ہے۔ 
رمضان کا مہینہ ہمارے اوپر سایہ فگن ہے، یہ شہر الموسات یعنی باہمہ ہمدردی کا مہینہ کہلاتا ہے۔ اس ماہ انفاق فی سبیل اللہ یعنی ا للہ کی راہ میں خرچ کرنے کے نیک جذبے میں صد فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ مقدس ماہ اصحاب خیر کے لیے زکوٰۃ دینے کا مہینہ ہوتا ہے۔ بحیثیت مجموعی ہم سب کی یہ منصبی ذمہ داری ہے کہ روایتی طریقوں پر انفاق کرنے کے بجائے ہم سوچیں، منصوبہ بندی کریں۔ بے شک ہمارے لیے حالات ابتر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں ایسی کوئی بستی نہیں رکھی جہاں اصحاب خیر لوگ نہ رہتے ہوں۔ اس لیے جہاں کوئی بیوہ ، یتیم اور پیلٹ متاثرہ رہتا ہے وہاں کوئی بڑا بزنس مین، اچھی خاصی تنخواہ پانے والا سرکاری ملازم، فروٹ گرور بھی رہتا ہے۔ اگر ہم قصد کریں کہ اپنی زکوٰہ، صدقات اور عطیات کی رقومات میں سے سال بھر کے لیے کسی ایک متاثر گھرانے کی ضروریات پوری کریں گے، کسی یتیم بچے کی اسکولی اخراجات ادا کریں گے، کسی پریشان مریض کے علاج کا خرچہ برداشت کریں گے، کسی مقید فرد کی رہائی تک اُن کا چولہا جلائیں گے تو خدانخواستہ حالات کتنے بھی ابتر کیوں نہ ہوجائیں، ہم مجموعی طور پر اُن کا مردانہ وار مقابلہ کرسکتے ہیں۔یہاں پرائیوٹ اسکولوں کا جال بچھا ہوا ہے، اکثر اسکولی مالکان ہمارے ہی سماج کا حصہ ہیں۔ اُنہیں اپنے اسکولوں میں یتیموں کے لیے زیادہ سے زیادہ نشستیں مفت رکھنی چاہیے، صرف اسکولی فیس ہی معاف نہیں کرنا چاہیے بلکہ اُن بچوں کے تمام اخراجات برداشت کرکے وہ عظیم ذمہ داری انجام دے سکتے ہیں۔اس ماہ میں پروفیشنل گداگر بھی متحرک وفعال ہوجاتے ہیں جو فریب دے کر لوگوں سے زکوٰۃ و صدقات وغیرہ حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے سماج کی اکثریت بھی بغیر کسی تحقیق و سوچ بچار کے شکل و صورت سے دین دار دکھنے والے لوگوں کو خلوص کے ساتھ پیسہ دیتے ہیں۔ یہ طریقہ کارصحیح نہیں ہے بلکہ اس طرح کی غفلت سے زکوٰۃ ، صدقات اور عطیات کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ زکوٰۃ دینے والے کو دور دراز کے لوگوں تک اپنی رقم پہنچانے کے بجائے اپنی رشتہ داری اور ہمسائیگی میں حقداروں کو ڈھونڈ نکالنا چاہیے۔ اُمید قوی ہے کہ اس رمضان میں اصحاب خیر حضرات اور متوسط طبقوں شامل لوگ بھی ایک ایک دو دو مل کر کم از کم ایک ایک متاثرہ فیملی کی ہر طرح کی ضروریات کو سال بھر کے لیے پورا کرنے کا عہد کرلیں گے۔ اگر ہم صحیح سسٹم اور حکمت عملی قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے تو باوجودیکہ دشمن اپنے تمام لا ؤ لشکر اور ادارے لے کر ہمارے درپئے آزار رہے مگر اس کی لاکھ کوششیں بھی ہمارے چہروں سے مسکراہٹیں  چھین سکتی ہیں نہ ہماری غیرت وحمیت اور جذبہ ٔاخوت ومزاحمت کوسردکرسکتی ہیں۔ 
رابطہ9797761908