اللہ تبارک و تعالی نے انسانوں کی تخلیق نہایت ہی بہترین طریقے سے کی ہے ۔ انسان کو کو اشرف المخلوقات کا تاج پہنا کراعزاز و اکرام سے خوب نوازا ۔ انسان کو صحیح اور غلط راستے کی پہچان دی ۔ انسان کے اندر خیر و شر یعنی بھلائی و برائی کا مادہ موجود ہے ۔ اگر انسان نے خیر اور بھلائی کا راستہ اختیار کیا تو وہ چمکتے ہوئے ستارے کی مانند تابناک ہوگا۔ لیکن اگر اس نے برائی یعنی شر کا راستہ اختیار کیا تو اس کی زندگی میں اندھیرا ہی اندھیرا نظر آئے گا ۔ پھر وہ انسان ضلالت اور گمراہی کی تاریکیوں میں پھنس جائے گا ۔ خیر اور بھلائی کے لئے انسان کو سعی کرنی پڑتی ہے۔ شر اور برائی کے لئے انسان کو کو اپنے درجہ افضلیت سے نیچے اترنا پڑتا ہے۔ ہدایت نور یعنی تابناک روشنی ہے۔ گمراہی تاریکی یعنی گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ جذبہ خیر کی ہمیشہ پرورش کرے اور شر کے مادہ کو ہرگز بھی پنپنے نہ دے ۔ ایک دوسرے کے لئے خیر اور ہمدردی کا جذبہ رکھنا انسانیت کا اعلی درجہ ہے۔
بہترین سماج وہ ہے جس میں کمزور و حاجت مندوں کی دیکھ بھال کی جائے۔ معاشرہ وہی حسین و جمیل ہے جس میں ہر طبقہ کا خیال رکھا جائے۔ انسان جب کبھی کسی نیک اور اچھے کام کی ابتدا کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے اپنی مدد سے نوازتا ہے۔ نیت میں خلوص اور اپنے مالک حقیقی پر مکمل توکل اور اعتماد کرکے انسان جب بھی کسی اچھے کام کو شروع کرتا ہے تو اسے پائے تکمیل تک پہنچانے میں اللہ تعالیٰ اسکی مدد کرتا ہے۔ کسی شخص نے کیا ہی بہترین کہا ہےکہ ’’ہمت مردان مدد خدا‘‘۔ کسی کی بہتری اور بہبودی کی طرف بڑھایا ہوا قدم کبھی ڈگمگاتا نہیں ہے۔ اسے ثابت قدمی اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔ حاجت مندوں، بے بسوں، لاچاروں ، مسکینوں ، غریبوں اور محتاجوں کی زندگی میں راحت و سکون اور خوشی لانے کی کوئی بھی سعی کرنا اللہ تعالی کے ہاں کتنی محبوب و مقبول عمل ہوگی ۔ اللہ تعالی جو خالق کائنات ہے ، اپنے بندوں کی اس نے خود تخلیق کی ہے اور اپنی تخلیق سے کسے محبت نہیں ہوگی ۔ہمارے ایک عزیز نوجوان،جوکہ اچھے اور نیک کاموں میں بہت دلچسپی رکھتے ہیںاور پچھلے قریباً دو سال سے اپنے گاؤں کے صدر اوقاف بھی ہیں۔ نہ صرف مسجد شریف کی دیکھ بھال کرتےہیںبلکہ چندباشعورو حوصلہ مند نوجوانوںکے ساتھ شانہ بشانہ کام کرکےجہاں ایک نئی شاندار مسجد کی تعمیر کا عزم و اعادہ کئے ہوئے ہیں ،وہیں سماجی فلاحی کاموں کے لئے کمر بستہ ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایک قابلِ تذکرہ اور قابلِ ستائش کام بھی انجام دیا ہے۔ ایک ایسے شخص کی مدد کی درخواست پر ،جو طویل عرصےسے مقروض و مفلوک الحال زندگی بسر کر رہا تھا، تپتی دھوپ اور شدید سردیوں میں اپنے نونہال اولاد کے ساتھ محنت و مزدوری کر کے اپنے حالات کو درست نہیں کرپارہا تھا، قرض کے بوجھ تلے دب کر اس کی عزت نفس مجروح ہوتی جارہی تھی،تو یہ مبارک نوجوان اس مقروض شخص کی حالت ِ زار پر بے قرار ہوا اور کسی بھی طرح اس کی حالت بدلنے کا اعادہ کیا ۔اس نے اُسے تسلی بخش کلمات سے رخصت کیا مگر سوچتا رہا کہ ایک دو شخص کی مالی معاونت سے اسکا بوجھ ہلکا نہیں ہو سکتا،تو اپنے دوستوں سے مشورہ کرکے گاؤں کے ذی شعور افراد سے ملاقی ہوکرایک لائحہ عمل ترتیب دیا۔لوگوں کے ہمدردانہ رویے اور مخلصانہ معاونت سےاس کی کوششیں رنگ لائیںاور مختصر عرصےمیں اس مقروض شخص کا سارا قرضہ ادا کیا گیا۔ اللہ کی قدرت بھی عجیب وغریب کمالات سے پُر ہے وہ جو شخص اپنی حالت کو کئی برسوں سےٹھیک اور درست نہیں کرپارہا تھا۔ ایک نوجوان کی کوشش اور چند مخلص افراد کی معاونت سے اس غریب شخص کی زندگی میں بہار آ گیا۔ وہ اس طرح دکھائی دینے لگا جیسے اس کے بدن میں نئی روح پھونک دی گئی ہو۔ ظاہر ہے کہ اس کے اداس چہرے پر خوشی کے اثرات نمایاں ضرور ہوں گے۔کیونکہ اس کا دماغ جو منفی اور نا امیدی کے خیالات کا مسکن بنا تھا ، اب اس میں مثبت سوچ آئے گی۔ اس نے مایوسی و تنگدستی کے ایام بہت ہی کرب و الم میں گذارے تھےاور نااُمیدی نے اس قدر گھیرا تھا کہ اسے کہیں سے کوئی روشن کرن نظر نہیں آ رہی تھی۔اُس کایہی خیال تھا کہ اسے ایسے ہی اپنے اہل وعیال کے ساتھ مفلوک الحال زندگی گزارنی پڑے گی ،حالانکہ اس نے خود بھی بہت زیادہ محنت و مشقت کی تھی۔لیکن قدرت کا کرنا کچھ اور ہی تھا۔چند نیک نوجوانوں کی کوشش سے اس کی زندگی بدل گئیاور وہ پریشانیوں سے آزاد ہوگیا۔ اس نیک عمل میں ان حوصلہ مند نوجوانوں نے کی بظاہر کوئی بڑا تھکا دینے والا کام نہیں کیا۔ دن رات محنت و مشقت نہیں کرنا پڑی۔بس ایک دوسرے کو ملے، چند لمحے باہم گفت ہوئے، کسی محتاج کی معاونت کی درخواست کی۔گویا چند قدم ہی انہوں نے کسی کی بہتری کے لیے اٹھائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے ایک غمزدہ پریشان شخص کے غموں اور پریشانیوں کا خاتمہ کیا ۔ غم خوشی میں اور تکلیفیں راحتوں میں تبدیل ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے ایسے بندوںکس قدر خوش اور راضی ہوئے ہونگے جو اسکی مخلوق کی تکلیفوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بقول شاعر ؎
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
دین اسلام کی تعلیم میں غریب ، محتاج، مسکین، یتیم، قرضدار غرض حاجت مند طبقے کی اعانت کا درس روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ بلکہ اسلامی تعلیمات ایک انسان کو ایسے نیک کاموں کی طرف رہبری کرتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے (اس لیے) نہ تو خوداس پر ظلم و زیادتی کرے نہ دوسروں کا مظلوم بننے کے لیے اسے بے یارومددگار چھوڑ دے۔ اور جو کوئی اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا اللہ تعالی اس کی حاجت روائی کرے گا اور جو کسی مسلمان کی تکلیف اور مصیبت کو دور کرے گا اللہ تعالی قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے اس کی کسی مصیبت کو دور کرے گا اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ داری کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ داری کرے گا (صحیح بخاری و مسلم)
ایک دوسری حدیث پاک میں ارشاد فرمایا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کسی مسلمان کی کوئی دنیاوی تکلیف اور پریشانی دور کرے گا اللہ تعالی(اس کے عوض)قیامت کے دن کی تکلیف اور پریشانی سے اس کو نجات دے گا اور جو (قرض خواہ اپنے )کسی تنگدست مقروض کو (اپنے قرض کی وصولی کے سلسلے میں) سہولت دے گا تو اللہ تعالی اس کو دنیا و آخرت میں سہولت دیگا اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالی دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو کوئی بندہ جب تک اپنے کسی بھائی کی امداد و اعانت کرتا رہے گا اللہ تعالی اس کی مدد کرتا رہے گا ۔(سنن ابی داؤد و جامع ترمذی)
غرض ہمارا اسلام ہمیں اس بات پر اُبھارتا ہے کہ دوسروں کے دکھ، درد ، پریشانی، مصیبت کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کسی حاجت مند کی ضرورت کو پورا کرنے سے جو خوشی محسوس ہوتی ہے اسکا اثر دیر پا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک کام کرنے کی اور حاجت مند طبقہ کی معاونت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
[email protected]> ( پاندوشن شوپیان)