گول//جہاں سرکار اور انتظامیہ بجلی کی سپلائی کو کو گھر گھر پہنچانے اور بہتر بنانے کا دعویٰ کر رہی ہیں وہیں دوسری جانب ابھی بھی زمینی سطح پر بجلی نظام بہتر نہیں بنا ہے جس وجہ سے لوگ کافی پریشان ہیں ۔ وہیں روز روز بجلی ٹرانسفار جلنے اور خراب ہونے کی وجہ لوگوں نے غیر قانونی طور پر کنکشن دینے اور محکمہ کے ملازمین پر ان غیر قانونی کنکشنوں پر ماہانہ نقد وصولی کا بھی الزام لگایا ہے ۔ نیابت اندھ گول کا ایک دور دراز علاقہ ہے جسے یہاں عرفِ عام میں پنجاب بھی کہتے ہیں اور اس خوبصورت علاقے کے ساتھ جہاں دوسرے محکمہ جات نے سوتیلا سلوک روا رکھا ہے وہیں محکمہ بجلی نے بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے اور گھرگھر بجلی کی سپلائی کے دعوے بھی قابل تشویش ہیں ۔ یہاں پر زیادہ تر سر سبز درختوں کے ساتھ ترسیلی لائنیں لٹکی ہوئی ہیں اور کسی بھی وقت جانی نقصان ہو سکتا ہے وہیں مقامی لوگوں نے کہا کہ انہوں نے تاروں کو خود خریدا ہے اور محکمہ یہاں پر بجلی کے کھمبے لگانے کے لئے بھی خوش نہیں ہے ۔عبدالرشید بٹ ریٹائرڈ لیکچرار نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی روز سے بجلی کی سپلائی بند پڑی ہوئی ہے اور لائن مین یہاں کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے جب کبھی تھوڑی تھوڑی بوندا باندی ہوتی ہے تو بجلی محکمہ کے اس ملازم نے علاقہ میں کئی ایسے لوگوں کو چنا ہے جواس کا کام کرتے ہیں اور بادل آتے ہی یہ لوگ بجلی کی سپلائی کاٹ دیتے ہیں جس وجہ سے لوگ شام کے بعد گھپ اندھیرے میں ڈوبے رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر بجلی ٹرانسفارمروں پر بہت ہی زیادہ لوڈ ہے کیونکہ محکمہ کے ملازمین نے جہاں دو سو لوگوں کو ایک ٹرانسفارمر پر رکھا ہے اُن میں صرف پچاس لوگ قانونی طور پر ہیں جو محکمہ کو کرایہ دیتے ہیں باقی لوگ ان محکمہ کے ملازمین کے جیبوں کو گرم کرتے ہیں اور اس کا براہ راست اثر اُن لوگوں پر پڑتا ہے جو کرایہ دیتے ہیں جو قابل تشویش بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو بہتر بجلی کی سپلائی فراہم کرے اور ملازمین اپنی ڈیٹی سے کوتاہی نہ برتیں جس سے لوگ کافی پریشان ہیں ۔