کشتواڑ//انجمن ء ترقی گوجری ادب ڈوڈہ کی جانب سے پاشالہ بونجواہ ضلع کشتواڑ میں گوجری مشاعرہ اور گوجری لوک گیت کا پروگرام منعقد کیا گیا۔مشاعرے کی صدارت ایک نامور گوجری شاعر جان محمد حکیم نے کی۔پروگرام کا آغاز مولا نا عبدل کریم کی جان بسے تلاوت قران سے کیا گیا ۔محمد یاسن شاد نے خُطبہ استقبالیہ پیش کیا اور عبدل کریم بے تاب نے پیپرس پڑھے۔اپنے خطاب میں جان محمد حکیم نے کہا کہ سرکار کی جانب سے طبقہ کو فراموش کرنے کے سلسلہ میں ایسے پروگرام منعقد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اُنہوں نے گوجری کو ثناوی سطح تک کے سکولوں میںلاگو کرنے کا مطالبہ کیا ۔اُںہوں نے گوجری زبان کو آئین ہند کے 8ویں شیڈول میں شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔بشارت احمد نازک نے بور سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دئے۔جبکہ ایک نامور مصنف حاجی کھاکن سُجاد نے شکریہ کا ووٹ پیش کیا ۔اُنہوں نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لوگوں سے لڑکیوں کو تعلیم دلانے کی اپیل کی تاکہ ایک خوشحال سماج بن جائے۔جن شعرا حضرات نے اپنا کلام سُنایا اُن میںشفت احمد شاہین، طالب حُسین زاہد، محمد شریف آفتاب، یاسن بڑھانا ، رفیق مسروف، صابر حُسین صابری ،باگھ حُسین شبنم، نثار احمد نثار، محمد یاسین باگدیر، جمات علی سلانی،جمات علی دانش، محمد حسین ملانگ، سلیم اقبال بڑھانا ، محمد شفیع گلشن، شفیعہ بانو، علی محمد آفتاب، اور عبدل رشید بھی شامل تھے۔لوک گیت سنانے والوں میںشبینہ بانو، نور محمد کسانہ، بشیر احمد دھادیر، محمد سائین گاگی،بشیر زخمی، شاہ ولی گاگی، صادق ندیم ، محمد عارف، عبدل قیوم ، شفیعہ بانو ۔زلیخابانو وغیرہ شامل تھے۔اس موقعہ پر شرکت کرنے والوں میں چودھری اسحاق گاگی، مولانا محمد علی، عبدل کریم گورسی ، مولوی عبدل کریم و غیرہ بھی موجود تھے۔