ماسکو //روس کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ہفتے کے روز شام کے ادلب شہر میں باغیوں کی جانب سے فائرنگ کے ذریعے جنگی طیارہ مار گرانے کے بعد روسی فوج نے کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 30 جنگجو ہلاک کردیے گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق باغیوں نے ہفتے کے روز ادلب شہر میں سوخوی 25 جنگی طیارے کو گرا دیا تھا جس کے بعد النصرہ فرنٹ کے متعدد مراکز پر بمباری کی گئی۔ جس کے نتیجے میں 30 جنگجو ہلاک ہوگئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مقتول جنگجوؤں کا تعلق النصرہ فرنٹ سے ہے۔خیال رہے کہ شامی اپوزیشن کارکنوں نے ہفتے کے روز شام کیشمال مغربی علاقے ادلب میں ایک جنگی طیارہ مار گرایا تھا۔انسانی حقوق آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ روسی جنگی طیارے’سوخوی 25‘ کو سراقب کیمقام پر معصران قصبے پر مار گرایا گیا۔دریں اثناء روس کی وزارت دفاع کے ایک اعلان کے مطابق ہفتے کے روز شامی مسلح گروپوں کی تنظیم ہیئہ تحریر الشام کے ہاتھوں روسی لڑاکا طیارہ گرائے جانے اور اور اس کے ہواباز کی ہلاکت کے بعد روس نے میزائل داغے جانے کے مقام کو بھرپور انداز سے نشانہ بنایا ہے۔ہفتے کی شام جوابی کارروائی میں روسی فضائیہ نے ایک "نئے ہتھیار" کے ساتھ حملہ کیا جس کے نتیجے میں النصرہ محاذ سے تعلق رکھنے والے 30 مسلح ارکان ہلاک ہو گئے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ مذکورہ ہتھیار انتہائی درست نشانے کا حامل اور مؤثر ہے تاہم استعمال کیے جانے والے ہتھیار کی نوعیت کا انکشاف نہیں کیا گیا۔ادھر شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ "المرصد" نے ہفتے کی شام بتایا ہے کہ روسی بحری جنگی جہازوں کی جانب سے اِدلِب کے نواح میں خان السبل قصبے پر کلسٹر ہیڈ کے حامل 4 میزائل داغے گئے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق کارروائی میں 10 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔المرصد کے مطابق دو قصبوں معصران اور خان السبل کی آبادی کو اصل قیمت چکانی پڑی جہاں بیرل بموں اور کلسٹر ہیڈ کے حامل میزائلوں سے حملوں کے نتیجے میں درجنوں شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔علاوہ ازیں روسی فوج نے سراقب کے علاقے اور اس کے نواح میں واقع دیہات کو شدید طریقے سے نشانہ بنایا۔ایسا نظر آ تا ہے کہ ماسکو کا غصّہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا ہے بالخصوص طیارے کے ہواباز کی ہلاکت کے اعتراف کے بعد.. ہواباز نے پیراشوٹ کے ساتھ طیارے سے چھلانگ لگا دی تھی۔