امریکی صدر کا سعودی فرمانروا پر بغیر ثبوت نازیبا الزام

واشنگٹن// امریکا صدر ٹرمپ نے میلانیا ٹرمپ سے متعلق سعودی فرمانروا پر مضحکہ خیز الزام عائد کرتے ہوئے مبینہ دعویٰ کیا جس کو امریکی مبصرین بھی سچا ماننے سے انکاری ہیں۔ امریکی میگزین کی رپورٹ مطابق رواں ہفتے شائع ہونے والی کتاب ’’دی ہل ڈائی آن : دی بیٹل فار کانگریس اینڈ دی فیوچر آف ٹرمپ امریکا‘‘ میں مصنف جیک شرمین اور انا پالمر نے لکھا کہ ٹرمپ نے مبینہ دعویٰ گزشتہ برس کے آخر میں ایک تقریب کے دوران کیا۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ رپبلکن نمائندہ گان کے اعزاز میں نجی ہوٹل میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں ٹرمپ نے مبینہ دعویٰ کیا کہ ’میلانیا ائیرپورٹ پر اترنے کے بعد ہاتھ بھی نہیں ملانا چاہتی تھی مگر شاہ سلمان نے زبردستی مصافحے کے لیے اْن کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پھر مجبورا میری اہلیہ کو ہاتھ ملانا پڑا‘۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ’امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شاہ سلمان نے میلانیا سے ہاتھ ملانے کے بعد اْس پر تین بار بوسہ دیا‘۔ دی ہل ڈائی آن میں لکھا گیا ہے کہ ٹرمپ نے جو تقریر وہاں بیان کی ، ایسا واقعہ کبھی بیان نہیں ہوا۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ میلانیا کی سیکریٹری نے انہیں آگاہ کیا تھا کہ اگر انہوں نے شاہ سلمان کی طرف مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو وہ اس عمل سے گریز کریں گے اس لیے میلانیا نے ہاتھ ہی نہیں بڑھایا۔ ٹرمپ نے بتایا کہ ’جب ہمارا طیارہ سعودی سرزمین پر اترا اور ہم باہر نکلے تو میں نے شاہ سلمان سے ہاتھ ملایا مگر اْن کی تعظیم میں جھکا نہیں، اس کے بعد انہوں نے میلانیا کی طرف بھی ہاتھ بڑھایا جس پر میری اہلیہ نے اْن سے ہاتھ ملایا’۔ یاد رہے کہ امریکی صدر کے دورہِ سعودی عرب کی ویڈیوز آن ریکارڈ موجود ہیں جس میں کہیں بھی بوسے کا منظر نہیں اور بالخصوص ٹرمپ جس بات کا حوالہ دے رہے ہیں وہ شواہد کہیں بھی موجود نہیں ہیں۔