مارچ 1944کی بات ہے۔ امریکی ریاست کیرولائنا میں دو کمسن سفید فام بہنیں ( عمر 7 اور 11 سال ) اپنے سائیکلوں پر گھر سے مقامی جنگل کی طرف نکلیں۔ اس موسم میں یہاں ایک مشہور قسم کے پھول (Maypop) کھلتے ہیں۔ یہی پھول لانے کی غرض سے یہ دو بہنیں اپنے گھر سے روانہ ہوئیں لیکن انہیں پتہ نہیں تھا کہ یہ پھول جنگل کی کس طرف ہیں۔ راستے میں ان کی ملاقات ایک چودہ سالہ سیاہ فام لڑکے جارج سٹینی اور ان کی چھوٹی بہن سے ہوئی۔ بہنوں نے سٹینی سے اس پھول کے بارے میں پوچھا کہ انہیں یہ پھول کہاں ملیں گے۔ سٹینی نے کہا کہ انہیں خود بھی پتہ نہیں ہے اور یہ بہنیں پھولوں کی تلاش میں آ گے بڑھیں۔ بظاہر یہ قصہ یہاں ہی ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن نہیں۔ یہاں سے ایک درد ناک کہانی کا آ غا ز ہوتا ہے۔
شام ہوئی لیکن بہنیں گھر واپس نہیں آئیں۔ گھر والے پریشان ہوئے۔ بسیار تلاش کے بعد بھی انہیں آ س پاس کوئی اتہ پتہ نہیں چلا۔ بالآخر اگلے روز ان کی لاشیں دور ایک کھائی میں پائی گئیں۔ اب مسئلہ تھا قاتل کو ڈھونڈ نکالنے کا۔ امریکی قانون کے مطابق پولیس کسی سفید فام کو ٹھوس ثبوت کے بغیر گرفتار نہیں کر سکتی۔ پولیس پر دباؤ بڑھا کہ جلد سے جلد قاتل کا پتہ لگائیں۔ پولیس جب ناکام ہو جاتی ہے تو اپنا وقار برقرار رکھنے کے لیے کسی نہ کسی کو پھنسا ہی دیتی ہے۔ جیسے ہمارے ہاں یہ معمول کی بات ہے۔ بالآخر پولیس کا قہر معصوم سیاہ فام چودہ سالہ جارج سٹینی پر پڑا۔ اسے گرفتار کیا گیا۔ تھرڈ ڈگری ٹارچر کر کے اقبال جرم کروایا گیا۔ یہ کیس امریکی عدالت کے حوالے ہو گیا۔ اسی سال کیرولائنا میں الیکشن بھی ہونے تھے۔ ابھی سیاہ فاموں کو سیاسی حقوق نہیں ملے تھے۔ لیکن گورے سیاسی بازی گروں نے اس واقع سے خوب نفع حاصل کی۔ گورنر صاحب کو دربارہ منتخب ہونا تھا۔ اس کے حریف بھی اقتدار کی دورڑ میں تھے۔ اس مقدمہ کا فیصلہ سیاسی جیوری کوکرنا تھا۔ جس میں سب سفید فام تھے۔ سٹینی کا وکیل چارلس پلوڈن بھی ایک سفید فام تھا۔ وہ بھی الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔ مقدمہ کی سماعت جب شروع ہوئی تو سٹینی کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت ودلایل پیش نہیں کیے گئے اور نا ہی وکیل صاحب نے اس پر کوئی بحث کرنے کی زحمت گوارا کی۔صرف دس منٹ میں جوری نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ سٹینی کو قاتل ٹھہرایا گیا۔ 16 جون 1944 شام کے 07:30بجے سٹینی کو الیکٹرک چیئر پر بٹھایا گیا، پھر 2400 واٹ کی تیز طرار کرنٹ کے ذریعے اسے زندگی سے آ زاد کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ کرسی پر نہیں سما سکا۔ پھر بائبل مقدس کو سٹینی کے نیچے بطور support رکھا گیا۔ موت سے قبل سٹینی کی کوئی آ خری خواہش نہیں تھی البتہ ان کی آ نکھوں میں صرف آ نسو تھے اور لمبی لمبی سانسیں۔
اس واقع کے بعد امریکی حکام اور قوانین ہدفِ تنقید بنے۔ 2004 عیسوی میں یہ کیس Reopen کیا گیا۔ دس سال کی طویل سماعت کے بعد 2014 میں عدالت نے سٹینی کو 70 سال کے بعد بے قصور قرار دیا۔ لیکن صرف ریکارڈ کی درستگی کے لیے۔ سٹینی کی بے رحم موت اور نا انصافی آ ج بھی امریکی ضمیر پر کلنک ہے۔
حسب و نسب کی برتری پر تکبر وغرور کل یا پرسوں کی بات نہیں ہے۔ اس کی جڑیں تخلیق آ دم کے وقت سے ملتی ہیں۔ ابلیس نے تو اسی بنا پر حکم خداوندی کو ٹھکرایا کیونکہ اسے آ دم سے اعلیٰ مخلوق اور اعلیٰ نسب سے ہونے کا دعویٰ و غرور تھا۔ یہی صفت ابلیس کے کارندوں نے جن وانس میں خوب پھیلائی۔ پھر ہزار ہا برسوں تک ہم نے اسے عرب ، یورپ ، امریک ، ہندوستان غرض دنیا کے تمام خطوں میں پایا لیکن اسلام کی آفاقی تعلیمات نے برسوں کی ان گتھیوں کو صرف چند فقروں میں حل کردیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آفاقی تربیت نے اس کی جڑیں کھوکھلی کردیں۔ صرف 23 برس کی قلیل مدت میں عرب وعجم میں اس ابلیسی خصلت کے خلاف ایسی تحریر برپا کی کہ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں رہی۔ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف ایک خدا کی بندگی میں دیا۔ لیکن جوں جوں ا نسانیت ان اصولوں سے بیگانہ ہوتی گئی ، توں توں اس خصلت نے پھر سے جنم لیا۔ ایک طرف مسولینی ، ہٹلر اور ان کے فاشٹ نظریات کے حامل لوگ پیدا ہوتے گئے۔ جنہوں نے تاریخ کو خونی بابوں سے تحریر کیا۔ مگر دوسری طرف ان کے مدمقابل مارٹن لوتھر کنگ جونیئر، نیلسن منڈیلا ، بی آر ، امبیڈکر جیسے مرد آ ہن بھی پیدا ہوئے جنہوں نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ آج دنیا میں ایک طرف کرونا کی مہا ماری ہے۔ دوسری طرف نسلی تعصب و تشدد کے واقعات کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی جاتی ہیں۔ امریکہ سے ہندوستان تک اس کے خلاف صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ یہاں بے ساختہ اقبال رحمہ اللہ علیہ یاد آگئے ؎
جو کرے گا امتیازِ رنگ و خوں، مٹ جائے گا
تُرکِ خرگاہی ہو یا اعرابیِ والا گُہر
کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آ پ کو دوہرا تی ہیں۔ پچھلے دنوں جارج فلائیڈکے واقعہ نے ایک بار پھر سٹینی کی یاد تازہ کی۔ امریکہ جو دنیا کو انسانیت اور امن کا درس دیتا ہے، اس واقعہ سے ان کا منافقانہ چہرہ کھل کر سامنے آیا۔ سٹینی موت سے قبل لمبی سانسیں لے تو سکا ، لیکن فلائیڈ سانس نہ لیکر ہی چیختے چلاتے دم روڈ بیٹھا۔1944 میں بھی وہاں الیکشن تھے جو دو پھولوں (دو بہنوں ) اور اس معصوم لڑکے ( سٹینی ) کی زندگی پر منتج ہوا۔ اس سال کے اواخر میں بھی الیکشن ہونے ہیں۔ اس پر ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے حریف خوب اپنی دال گرمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ؎
ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا