امریکا کی پولیٹیکل سیکیورٹی سینیٹر کا اخوان کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ

واشنگٹن // امریکا کی پولیٹیکل سیکیورٹی سینیٹر کی جانب سے ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئیے ٹرمپ سے اخوان المسلمون کو بھی دہشت گرد قرار دینیکا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایران اور اخوان کے بدترین دشمن سمجھے جانے والے فرانک گیونی کے مرکز کی طرف سے کہا گیا کہ ایران کی مذہبی رجیم کا راستہ بند کرنے کے لیے امریکی صدر کا فیصلہ خاصہ اہمیت کا حامل ہے۔ پولیٹیکل سیکیورٹی سینٹر کے مطابق امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کا مقصد عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی ریاست کو مالی وسائل سے روکنا ہے۔ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ایرانی فوج کی سمندر پار دہشت گردی میں ملوث فیلق القدس کے ہاتھوں پر 600 امریکیوں کا خون ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس اگست میں سعودی وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر شیخ عبد الطیف نے کہا تھا کہ اخوان المسلمون نے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا تھا، دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، ڈاکٹر شیخ عبد الطیف کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون نے سعودی عرب میں بھی بغاوت کے بیج بونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے خلاف ثبوت موجود ہے کہ یہ کس طرح دوسرے ممالک میں تخریبی کارروائیاں کرتے تھے۔ یاد رہے کہ دسمبر 2013 میں مصری کی عبوری حکومت نے سابق صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا، عبوری حکومت کی جانب سے اخوان المسلمون کو حکومت مخالف مظاہروں، بم دھماکوں اور دیگر تشدد کے واقعات کے بعد دہشت گرد جماعت قرار دیا گیا تھا۔