پو ِتر استھان
رشید پروینؔ
57روزہ شری امر ناتھ یاترا اگرچہ ۳ جولائی سے پہلگام اور بال تل دونوں راستوں سے شروع ہوکر 28اگست کو اختتام تک پہنچ جائے گی لیکن پچھلے مہینے سے ہی سرکاری مشینری اس یاترا کا جائزہ ہر پہلو سے لے رہی ہے اور تمام وہ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جو اس یاترا کو بغیر کسی خلل یا کسی ناخوشگوار واقعے کے اپنے انجام تک پہنچا سکیں، یہ یاترامحض ایک رسم نہیں بلکہ سنجیدگی سے دیکھا جائے تو اس کی اہمیت اور افادیت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے کہ یہ شکتی پیٹھ اس سر زمین میں واقع ہے جو صدیوں سے ہی امن ، شانتی ، بھائی چارے اور روحانی اقدار کی حامل رہی ہے اور یہاں عوام نے اپنے اشتراک ، اپنی خدمت اور یاتریوں کی سہو لیات کے لئے بے مثال خدمات انجام دی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اس کا اعتراف حال ہی میں لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے بڑے شاندار اور خوبصورت الفاظ میں گورنمنٹ وومنز ڈگری کالج اننت ناگ میں کیا ہے جہاں شری امرناتھ یاترا پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا ، ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ امر ناتھ یاترا بھارت کے روحانی شعور ، ثقافتی ورثے اور انسانی اقدار کی زندہ علامت ہے ، جس سے زندہ رکھنا ، فروغ دینا اور نئی نسلوں تک منتقل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ مزید یہ بھی کہا کہ یہ مقدس یاترا سماجی اتحاد ، باہمی احترام اور باطنی تزکیئے کا پیغام دیتی ہے اور یہ صبر عبادت ا ور خالق سے روحانی تعلق کا سفر ہے جو انسان کو اپنے باطن کی روشنی تلاش کرنیکی تر غیب دیتا ہے۔اس سفر میں یہاں کے مقامی کئی خاندان اور برادریاں صدیوں سے یاتریوں کی خدمت کرتی آئی ہیں اور یہ اس مشترک انسانی شعور کی عکاس ہیں جو مذہب ،زبان اور برادری کی سرحدوں سے بالاتر ہیں ، اس یاترا کی یہ بھی اہمیت ہے کہ مختلف حصوں سے آنے والے زائرین اپنی اپنی زبانیں، ثقافت اور روایات بھی ساتھ لاتے ہیں، جس سے باہمی احترام ، محبت اور قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے اور اہم بات یہ کہ تنوع ، میں اتحاد ہی ’’ ہندوستانی تہذیب کی اصل روح ہے ‘‘ یہ بہت ہی حسین اور دلنشین الفاظ ہیں اور ہر دور اور زمانے کے لئے حقیقت کے عکاس ہیں ، کیا یہ گنگا جمنی تہذیب و تمدن کے جسم میں چھپی ہوئی روح کا ادراک نہیں؟ کشمیر کے جسم میں تو یہ روح ہزاروں برس سے موجود بھی ہے اور آگے بھی رہے گی، لیکن ہمیں سارے بھارت میں اسی ادراک اور فہم و شعور کو فروغ دینے اور پروان چڑھانے کی اشد ضرورت ہے ؟اس شعور اور فہم و ادراک کی مثالیں ہمیں نظام الدینؒ، اجمیر شر یف اور دوسرے اولیا اللہ کے آستانوں پر بھی روزز روشن کی طرح صاف نظر آتی ہیں ۔ جہاں ہر روز ہندو مسلم اور دوسرے مذ اہب اور الگ الگ کلچروں، تمدنوں اور تہذیبوں سے وابستہ ہزاروں لوگ ان نور کی آماجگاہوں پر حاضری دیتے ہیں ،جہاں ہمیں عقیدت ، احترام اور انسانیت سے پیا رکی اعلیٰ اقدار درخشاں نظر آتی ہیں ،واقعی بھارت کی اصل روح اسی تنوع میں زندہ رہ کر ساری دنیا کے لئے امن و چین کی پیغام بن سکتی ہے ، لیکن اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔ امر ناتھ غار کی تاریخ سے شاید بہت کم لوگ واقف ہیں ،یہاں ایک مختصر سا منظر اور پسِ منظر عوام کی واقفیت کے لئے دینا مطلوب ہے ، کسی قسم کا تجزیہ یا تبصرہ نہیں ۔
اس گپھا کی اہمیت ہندو عقائد اور میتھالوجی میں کیا ہے اور اس میں وہ کیا چیز ہے جس کی بِنا پر برصغیر کے شکتی پیٹھ مقامات میںاس کا نمبر ۵۱ ہے، یہ بھی ایک اہم تیرتھ یاترا کے طور پر جانا جاتا ہے۔امرناتھ گپھا ڈسڑکٹ اننت ناگ ، لدر وادی میں واقع ہے اور یہ ۸۸۸۳میٹر یعنی ۷۵۶،۱۲فٹ کی بلندی پر اسلام آباد سے ۱۶۸ کلومیٹر کے فاصلے پرواقع ہے ،پہلگام کے بارے میں اکثر و بیشتر لوگ جانتے ہیں کہ خوابوں کی سر زمین ہے اور کشمیر آنے والے لوگ لازمی طور پر یہا ںآکر ابدی اور ازلی حسن کا ادراک کر لیتے ہیں یہاں سے ہی اصل میں امر ناتھ کا سفر شروع ہوتا ہے اور ایک طرح سے یہ حسین سر زمین امرناتھ کے لئے بیس کیمپ مانا جاتا ہے ، یہ ہندوؤں کا تیرتھ استھان اور پِوتر غار گلیشروں کی کوکھ میں ہے، چاروں طرف گلیشروں کا حصار ہے اور راستہ بھی دشوار گذار ہے۔ لیکن درشن کی چاہت اور آرزو کشاں کشاں اطراف اکناف اوردور دراز کے بھارت واسیوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے ، یہ برف پوش پہاڑ اور ہزاروں برس کے گلیشر انسانی سوچوں کو دستک بھی دیتے ہیں اور اس گپھا کا یہاں ہونا قدرت کی نشانیوں میں ہی ایک نشانی سمجھی جاسکتی ہے ، گلیشروں سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کے بیچ میں یہ ایک وسیع غار ہے۔ اس میں داخل ہونے کا دروازہ لگ بھگ چالیس گز اور اس کی بلندی ۷۵ فیٹ ہے اور یہ گپھا پہاڑکے اندر نیچے ۸۰ فیٹ ہے ۔ظاہر ہے کہ یہ گپھا حیران کن ہے ، جس کی اہمیت شیو لَنگھم سے بنتی ہے اور اسی شیو لنگھم کی وجہ سے یہ تیرتھ استھان بھی ہے اور مشہور و معروف بھی ہے ۔
یہ شیولنگھم کیا ہے اور اس کے ساتھ کئی کہانیاں بھی جڑی ہیں ،لیکن سب سے پہلے یہ بات کہ لِنگھم اس غار کی چھت سے سے جون جولائی میں ٹپکنے والے پانی کے قطروں سے وہ شکل اختیار کرتا ہے جس سے لِنگھم کہا جاتا ہے۔ یہ پانی کے قطرے چھت سے فرش پر آتے ہیں ،جم جاتے ہیں اور اس طرح آہستہ آہستہ لنگھم کاروپ دھارلیتے ہیں اور جب مکمل ہوتا ہے تو یہی یاتریوں کے اصل درشن دن ہوتے ہیں، اس لنگھم کو شیواہ کی phsical manifestation تصور کیا جاتا ہے جس کے درشن کے لئے لاکھوں عقیدت مند یہاں آجاتے ہیں ، اس لنگھم کے ساتھ پاروتی اور گنیش بھی یہاں موجود رہتے ہیںاور ان کی ماہئت بھی اسی طرح icecle سے ہی وجود پاتی ہے ۔لنگھم ہندو عقائد کے مظابق چاندکے ساتھ ہی گھٹتا بڑھتا رہتا ہے ، لنگھم اگست تک آہستہ آہستہ پگھل کر معدوم ہوجاتا ہے۔ پاروتی نے کسی موڈ پر لارڈ شیواہ سے ابدی زندگی کا راز جاننا چاہا تھا ، شیواہ نے عرصے تک یہ بتانے سے گریز کیا لیکن آخر ایک دن یہ راز اس پر منکشف کرنے کا فیصلہ کیا ۔ شیواہ مانتے تھے کہ یہ راز بتانے کے لئے ایسی جگہ تلاش کی جائے جہاں ان دو کے سوا کسی اور کے پہنچنے کا یا یہ راز ایکسپوز ہونے کا کوئی احتمال ہی نہ ہو، اس لئے شیواہ نے اس جگہ کا انتخاب کیا ، شیواہ کو یقین تھا کہ اس جگہ گلیشروں کے بیچ میں اتنی اونچائی پر صرف دیو ی دیو تا ہی پہنچ سکتے ہیں۔ اس لئے اس جگہ کے لئے سفر شروع ہوا اور دوران سفر وہ اپنے پیچھے اپنی ساری چیزیں مختلف مقامات پر چھوڑتے گئے ، جیسے انہوں نے ’’نندنی ‘‘میں اپنا بیل چھوڑا۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ تصویروں میں وہ ہمیشہ بیل پر ہی سوار دکھائی جاتے ہیں ۔ چندن واڑی میں شیواہ نے اپنے بالوں سے چاند کو خارج کیا اور آگے بڑھے تو شیش ناگ میں اپنے ناگ کو چھوڑ دیا جو تصویروں میں ان کے گلے میں ہمیشہ آویزاں دکھائی دیتا ہےاور پھر پنج ترنی میں اپنی زندگی کے وہ پانچ عناصر چھوڑ دئے جن سے زندگی کا وجود ہے، جیسے زمین ، پانی ، آگ ، ہوا اور آسماں۔ یہاں تک کہ اپنے بیٹے گنیش کو بھی[ مہاگنا ))چوٹی پر چھوڑ کر آگے بڑھے ۔ اس تیرتھ استھان کے یاتری ان جگہوں سے ہوکر ہی گپھا تک پہنچ جاتے ہیں۔
’’امر ناتھ ‘‘ کے مفہوم پر غور کیا جائے تو یہ دو لفظوں پر مشتمل ہے ، ’’امر ‘‘ جس کے معنی etenal یعنی لافانی بنتا ہے اور ناتھ کے معنی لارڈ یا دیوتا ہی ہوسکتے ہیں۔ ہندو عقائد کے مطابق شیواہ نے اپنی دیوی پاروتی کو یہاں تک اس لئے لایا تھا کہ وہ راز جو وہ منکشف کرنے والے تھے، کوئی تیسری شئے اس سے واقف نہ ہوسکے۔ایسا کہاجاتا ہے کہ شیواہ نے ان سب چیزوں سے جو انہوں نے مختلف جگہوں پر چھوڑی تھیں ، چھٹکارہ پایا تو سب سے پہلے دونوں نے ’’تانڈو ‘‘ناچا تھا۔
اور اس کے بعد پاروتی کو راز بتانے سے پہلے مزید احتیاط کے طور پر کال اگنی کو پیدا کرکے اس سے آس پاس کی ہر چیز کو بھسم کرنے کا حکم دیا ، لیکن خود شیواہ کے تخت کے نیچے کبوتروں کے دو انڈے کسی طرح موجود رہے ،جن سے بعد میں کبوتروں کی جوڑی نکلی ، جنہوں نے یہ راز جان لیا تھا اور ہندو عقائد کے مطابق یہ کبوتروں کی جوڑی بھی امر ہوچکی تھی ، خیال رہے کہ میں کسی بات پر کوئی رائے زنی یا تبصرہ نہیں کر رہا ہوں۔بہر حال شیواہ نے اسی جگہ اپنی دیوی پاروتی کو اس راز سے آگاہ کیا ، ظاہر ہے کہ یہاں لارڈ شیواہ اور پاروتی نے قیام کیا ہے اور شیو لنگھم جو کہ شیواہ کی نمائندگی کرتا ہے، اگر اس انداز میں نہیں بھی بنتا تب بھی یہ جگہ مقدس ہی رہتی اور تب بھی اس جگہ کو پوِتراستھان کا مقام حاصل رہتا۔ ایک سنسکرت کتاب ’برنگی شا سمہیتا ‘‘میں اس یاترا کی اوریجن سے متعلق یہ درج ہے کہ یہ ایک سادھو تھا، جس نے اپنے چیلوں کو اس استھان کی طرف پہلے توجہ مبذول کروائی اور انہیں لنگھم کے درشن کرنے کی ہدایت کی۔اس کے چیلے جب اس سفر پر روانہ ہوئے تو یہاں راستوں کے راکشسوں نے انہیں پریشان کیا اور آگے بڑھنے سے روک دیا۔ یہ چیلے واپس برنگی شا کے پاس فریاد لے کر آئے تو برنگی شا نے شیواہ کی پراتھنا کی اور لارڈ شیواہ نے انہیں ایک تبرک عطا کیا۔ جس سے ’چھڑی مبارک ‘‘کا نام دیا گیا اور تب سے ہی یاتریوں کا سب سے بڑا جتھ منظم طور پر اس چھڑی مبارک کے ساتھ سفر کرتا ہے ۔ایک اور فوک کہانی کی رو سے یہ غار ۱۸۵۰ میں بوٹا ملک ایک مسلم گڈرئے نے دریافت کیا تھا ، اس کی بھی ایک تحیر آمیز کہانی بتلائی جاتی ہے کہ اس بوٹا ملک کو یہاں پر ایک سادھو ملا تھا، جس نے اس سے کوئلے کا ایک تھیلہ تھما دیا اور جب گڈریا گھر پہنچا تو کوئلہ سونے میں تبدیل ہوچکاتھا ، گڈریا اس سادھو کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہاں تک آپہنچا اور سادھو کے بجائے اس سے یہ گپھا نظر آئی اور اس طرح باہری دنیا کو اس گپھا کے بارے میں معلوم ہوا ، کہا جاتا ہے کہ بوٹا ملک کی فیملی ا یک عرصے تک اس غار کی ا نچارج یا منتظم رہی ہے ، لیکن ۲۰۰۰ سے شرائن بورڈ نے سارا انتظام سنبھال لیا ہے ۔
رابطہ۔ 7006410532
[email protected]