امام بارگاہ پونچھ میں عشرہ محرم الحرام کی چوتھی مجلس عزامنعقد

پونچھ// امام بارگاہ عالیہ پونچھ میں عشرہ محرم الحرام کی چوتھی مجلس عزا کا اہتمام کیا گیا جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد نعت، منقبت، قصیدہ ، سلا م و نوحہ کا نذرانہ عاشقان محمد و آل محمد نے پیش کیا ۔اس دوران بیرون ریاست سے خصوصی طور پر تشریف فرما مولانا تصدیق حسین زیدپوری نے شب جمع کی فضیلت اور اس شب میں کئے جانے والے اعمال کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ اس شب میں دعائے کمیل کی تلاوت کی خاص طور پر معصومین نے ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں شب جمع میںدعا کا حکم ہے وہی دعا کی قبولیت کا خدا وند کریم کے یہاں سے پوری پوری یقین دہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شب جمع میں انسان کو اپنے گناہوں کی بخشش کی دعا کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا خدا کے یہاں عدل ہے یا فضل ہے۔وہ رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ انہوں نے انسان کوتوبہ کرنے کا حکم دیاگیا ہے تاہم توبہ کان پکڑنے یا گالوں پر تماچے لگانے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے پرودگار کی طرف لوٹنے کا نام ہے، انہوں نے کہاتوبہ شرمندگی کا نام ہے۔ انہوں نے کہا دنیا کے جج کے سامنے کوئی مجرم اقبال جرم کرتا ہے تو وہ اسے سزا دیتا ہے لیکن اگر خدا وند کریم کے سامنے کو ئی خطاکار اپنا جرم کا اقرار کرتا ہے تو پروردگار اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ انہوں کہا اللہ ہمیں اور ہماری نسلوں کے تمام گناہوں کو بخش دے۔انہوں نے کہا اللہ نے انسانوں کو بڑی نعمتوں سے نوازا ہے ان کو صحیح استعمال کرنا شکران نعمت ہے۔انہوں نے کہا اگر ہماری دعا قبول نہیں ہوتی ہیں تو ہمیں اپنے گریبان میں جانکنا چاہئے کہ کیا کہیں اس کے قبول نہ ہونے کا سبب ہم خود تو نہیں نا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ انسان کو رو رو کر دعا کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا امام حسین کے غم کے ایام یہاں جب آپ گریہ کرتے ہیں تو دعاکر لیا کریں ضرور قبول ہوں گی۔ انہوں کا جس طرح دنیا کی کوئی بھی کتاب ہو اس کا ایک مضمون ضرور ہوتا ہے۔اسی طرح قرآن کا بھی ایک مضموں ہے وہ مضمون ہدایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن میں جو قصے بیان ہوئے ہیں وہ سب انسان کی ہدایت کے لئے بیان ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا قرآن کریم میں سورہ حمد میں ایک دعا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اے اللہ میں سراط مستقیم پر رکھ اس دعا کو تمام مسلمان پانچ وقت کی نمازوں میں کم سے کم دس بار پڑھتے۔ انہوں نے جوانوں کو ہدایت کی کہ یہ دور فتنوں کا دور ہے اس لئے وہ فتنوں سے دور رہنے کے لئے اپنے دشمن کو پہچان لیں اور کھلم کھلا گناہ نہ کریں۔ کیونکہ کھلم کھلا گناہ کرنیوالوں سے اللہ اپنے فضل سے نہیں بلکہ اپنے عدل سے کام لے گا۔ انہوں نے کہا کربلا درس گاہ ہے، کربلا درد کا درماں ہے کربلا کا تقدس ہماری زمہ داری ہے۔ انہوں  نے کہا مدینہ سے نکلتے ہوئے امام حسین نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے نا نا کی امت کی اصلاح کے لئے نکلا  ہوں۔ انہوں نے کہا کہ امام کے مقصد کو سمجھنا ہماری زمہ داری ہے۔ مجلس کے اختتام پر کشمیر مرثیہ پڑھا گیا اور نوجوانوں نے ماتم بھی کیا اور عالم انسانت کے لئے دعائیں طلب کی گئی۔