امام آیت اللہ روح اللہ خمینیؒ

بیسویں صدی کے عظیم قائد و رہنما اور سب سے بڑھ کر بانی انقلابِ ایران مرحوم و مغفور حضرت آیت اللہ روح اللہ امام خمینیؒ کی روحانی اور ولولہ انگیز قیادت میں جو تاریخ ساز انقلابِ ایران فروری 1979 ء کو سرزمین ایران میں رونما ہوا ،وہ معاصر تاریخ میںاپنی مثال آپ ہے۔ آپؒ کے تاریخ ساز انقلاب سے قبل ایران میں پہلوی شہنشاہیت کے نام سے مطلق العنان حکومت قائم تھی۔ اِس آمرانہ ، ظالمانہ، جابرانہ اور غیر جمہوری حکومت کا خاتمہ اِمام خمینیؒ کے والہانہ سربراہی میں اور روحانی قیادت میں 1979 ء میں تکمیل کو پہنچا۔ اپنے مثالی انقلاب کی تقدیر ساز کامیابی کے سلسلے میں اپنی تحریر کردہ کتاب میں مرحوم و مغفور بانی انقلابِ ایران امام خمینیؒ ، جس کی 4 ؍جون کو 28 ویں برسی جمہوری اِسلامی ایران کے علاوہ تقریباً دنیا کے تمام ممالک میں پورے عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے۔ مرحوم اپنی تحریرکردہ کتاب میں رقمطراز ہیںـــ’’ہم تمام اسلامی ممالک کو اپنا سمجھتے ہیں، تمام اسلامی ممالک اپنی اپنی جگہ پر ہیں۔۔۔۔۔۔ہماری یہ خواہش ہے کہ تمام قوتوں اور اسلامی ممالک میں ایسا ہی انقلاب اسلامی برپا ہوجائے اور قرآن و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و ٰالہٖ واصحابہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق حکومتیں قائم ہوجائیں۔ ہمارے انقلاب صادر کرنے کا مطلب و مقصد یہ ہے کہ تمام قومیں بالخصوص امت مسلمہ بیدار ہوجائیں اور خود کو مشکلات اور غلامی کی زنجیروں سے نجات دلائیں‘‘۔ آگے چل کر امام خمینیؒ رقمطراز ہیں ’’مادی نظریات کے حامیوں نے جو حساب و کتاب کر رکھا تھا اس کی بناء پر ممکن ہی نہیں کہ اتنی بڑی طاقت جس کی پشت پناہی تمام طاغوتی طاقتیں کررہی تھیں، حتیٰ کہ مسلم حکومتیں بھی اِس کی ممدو مددگار تھیں۔ آج بھی یہ طاغوتی اور صہیونی طاقتیں اس بے نظیر اور تاریخ ساز انقلاب اِسلامی ایران کو درہم برہم کرنے کی ناپاک سازشیں کررہی ہیں ، اُن کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔’’اگر ہم لوگ صحیح و نیک انسان ہوتے اور خدا کے حکم پر قیام کرتے تو دیکھئے کہ امور و معاملات کا عمل و دخل تم سے متعلق ہوجاتا۔ اگر وہ حکومت وجود میں آئی جو اسلام چاہتا ہے تو دنیا کو موجودہ حکومتیں اس کے آگے ٹِک نہیں سکتی اور وہ کسی کے سامنے غیراللہ کے نہیں جھکتی‘‘۔ 
یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ جب فروری 1979 ء میں انقلابِ ایران کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہوا تو مرحوم و مغفور اِمام خمینیؒ نے اپنے اولین فرصت میں عوام سے رجوع کرکے ایران میں ریفرنڈم کروایا کہ ملک ایران میں اسلامی جمہوری نظام کا قیام ہو ۔98% فیصد آراء یا ووٹ اسلامی جمہوریہ نظام حکومت کے حق میں آئے۔ اس طرح مملکت ایران ملوکیت و بادشاہت سے نکل کر جمہوری اسلامی ایران قرار پایا۔ اس کے فوراً بعد صدارتی اور پارلیمنٹ (مجلس) کے انتخابات شیڈول کے مطابق عمل میں لائے گئے۔ انقلابِ ایران کی کامیابی کے فوراً بعد ستمبر 1981 ء کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ایماء پر عراق کی جانب سے تہران پر جنگ مسلط کردی گئی جو پورے آٹھ سال تک جاری رہی ۔ افسوس کا مقام ہے کہ اس آٹھ سالہ تباہ کُن اور خون ریز جنگ میں دونوں جانب (ایران و عراق) میں سے لاکھوں افراد جان بحق ہوگئے اور اَربوں ڈالروں کا نقصان ہوا۔ 
بانی انقلاب ایران اِمام خمینیؒ عالمی صہیونیت اور طاغوتی قوتوں کے خلاف مسلم اتحاد و اتفاق اور یکجہتی کی دعوت دیتے رہے۔ آج بھی جمہوری اِسلامی ایران دنیا کا واحد اِسلامی ملک ہے جو ڈنکے چوٹ پر عالمی صہیونیت یعنی امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی دینی حمیت و غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظلومین و مستضعفین کے حق میں صدائے احتجاج بلند کرتا رہتا ہے۔ ایران کا اصولی موقف ہے کہ کلمہ توحید کا برملا اور پورے یقین و اعتقاد کے ساتھ اظہار کرنا، اللہ و رسول ؐکے بتائے ہوئے راستہ پر پوری طرح عمل کرنا ، اتحاد و اتفاق کی شاہراہ پر استقامت اور خلوص کے ساتھ پیوستہ اور گامزن رہنا و ہونا، عقل سلیم، حلم و علم ، عمل و بردباری سے دشمنان اِسلام کا بھر پور مقابلہ کرنا اور ان کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف آراء ہونا۔ یہ سب ملت اِسلامیہ کے واسطے وقت کی اہم ضرورتیں ہیں۔ میرے ناچیز کے خیال میں 28؍ ویں برسی کے تئیں بانی ٔانقلابِ ایران امام خمینیؒ کے تئیں سب سے بڑا خراج عقیدت یہی ہوگا کہ اگر ان اہداف کو حاصل کیا جائے جو اِمام خمینیؒ نے بیش بہا و گرانقدر سرمایہ فکر ہمارے لئے چھوڑا ہے۔ اللہ کرے ہم اِس پر نیک نیتی اور صدق دلی سے عمل کریں ۔ دنیا ایک دن ضرور دیکھے گا جب عالم انسانیت کے دشمن اور دشمنان اِسلام چھوٹے بڑے شیطانوں کے تمام ناپاک عزائم اور ناجائز و بزدلانہ منصوبے اور سازشیں ، خداوند عالم کی مشیت سے ناکام و نامراد رہ جائیں گی اور اسلام کا پرچم سارے دنیا میں لہرایا جائے گا، بشرطیکہ ہم صحیح معنوں میں وحدت اسلامی ، اخوت اور یکجہتی ، اسلامی اقدار اور اصولوں کے مطابق عمل کریں۔ واقعی اس وقت جو عوارض و امراض امت مسلمہ کو دنیا بھر میں لاحق ہیں ان کے لئے موثر دوا وحدت بین المسلمین ہے۔ آج مسلمانوں کی سب سے بڑی مشکل قرآن اور اسلامی تعلیمات سے دوری ہے ۔ ہم آج مغربی تہذیب و تمدن کے گرویدہ ہوگئے ہیں ۔بڑے دکھو وافسوس کے ساتھ یہ تذکرہ کرنا پڑتا ہے کہ ہماری نوخیز نسل دینی احکامات سے ناواقف رہ کر مغربیت کے رنگ میں بہ آسانی رنگ جاتی ہے۔ اس بارے میں کارگرو موثر اصلاحی و اسلامی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ نیز آج بھی اگر مسلمانان عالم خداوند تعالیٰ کے حکم ’’پکڑو اللہ کی رسی سب مل کراور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘پر پورے صدق دلی اور نیک نیتی سے عمل کرلیں تو ہماری تمام سیاسی ، اجتماعی ، سماجی ، اقتصادی و معاشی مشکلات ایک ایک کرکے ازالہ ہوگا کہ پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمارا مقابلہ نہیں کرپائے گی۔ آخر پر اللہ تعالیٰ سے دست بدعا ہوں کہ ہم سب کو عقل سلیم ، علم و حلم اور بردباری سے سرفراز کریں اور وحدت اِسلامی اور اخوت اسلامی سے نوازے ۔ آمین
کشمیر کے مشہور و معروف صحافی و کالم نگار و تجزیہ کار ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے ایک مقالہ میں تحریر کیا ہے کہ اِمام خمینیؒ نے فرمایا ہے کہ ’’آنحضور ؐ ’’ایشان نہ سنی بود نہ شیعہ‘‘ یعنی حضور اکرمؐ نہ سنی تھے نہ شیعہ۔ یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ ہمارا ایک دین ہے،ہمارا قرآن ایک ہے، ہمارا کعبہ ایک ہے، ہمارا رسولؐ ایک ہے۔ حضورؐ نے پورے امت مسلمہ جسد و احد قرار دیا ہے، پھر ہمارے لئے فرقہ بندی کا کیا جواز ہے؟ آخرہم کیوں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ اے اللہ ہم سب مسلمانوں کو اس حکم الٰہی کے تحت ’’اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ سب مل کر پکڑنے کی توفیق عطا کرے۔ آخر پر ایرانی بہادر اور غیور قوم و ملت کو بالخصوص رہبر معظم جمہوری اسلامی ایران آیت اللہ العظمیٰ سید علی الحسینی خامنہ ای مدظلہ کو، امت اسلامیہ اور غیور ملت ایران کو مرحوم و مغفور بانی انقلاب ِ ایران حضرت اِمام خمینیؒ کے 28؍ ویں برسی کے موقع پر تسلیت و تہنیت دل کی گہرائیوں سے پیش کرتے ہیں اور اللہ سے نیز یہ بھی دعا ہے کہ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کا یہ خواب پورا ہوجائے   ؎ 
تہران گر ہو عالم مشرق کا جنیوا
شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
 
(9906574725 )