قرآن کریم کا ایک اعجازیہ بھی ہے کہ وہ ہر دور کے لئے ہے۔زمانے کا’بہائو‘اس کے رموز،اسرار،نکات وحِکم کوکبھی ختم نہ کرسکے گا۔ہرزماں اہل علم نے کتاب اللہ میںغوطہ زنی کی اورجوفہم،حکمت وہدایت انہیںہاتھ لگی وہ عام لوگوں کوسمجھانے کی کوششیں کی ہے۔اس سلسلے میں جہاں علماء کرام نے تفسیریں لکھی وہی بہت سے افراد نے دروس قرآن کا سلسلہ جاری کیا۔بعض اہلِ علم نے منتخب آیات کو مرتب بھی کیا ۔اس سلسلے میں بہت سے خیر خواہانِ امت نے لوگوں کوقرآن کریم کی روشنی میں اسلام کی بنیادی تعلیم سمجھانے کے لیے ایک نصاب بھی مرتب کیا۔’العروۃالوثقیٰ‘ (مضبوط سہارا) جناب محمد عبداللہ جاوید صاحب کی ۵۷۰صفحات پرمشتمل کتاب ہے؛ جس میں مصنف نے ۴۵تفاسیر کی روشنی میں منتخب موضوعات کے تحت قرآنی آیات کی تفسیر بیان کی ہے۔ آسان اسلوب میں امت مسلمہ کو قرآن کریم سے جوڑنے کی یہ بہت اچھی کوشش ہے ۔عبداللہ جاوید صاحب لکھتے ہیں "جس طرح انسان کی مادی ضرورتوں کے لیے یہ دنیا بلکہ ساری کائنات ہم آہنگ ہے، اسی طرح قرآن مجید کی تعلیمات انسانی ضمیر، اس کی نفسیات اور اس کے تمام افعال کے لیے بالکل ہم آہنگ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جس طرز پر انسان کی تخلیق فرمائی وہ دراصل قرآن کے مزاج سے ہم آہنگی کا احسن ذریعہ ہے۔ انسان جس طرح اپنے اطراف کی دنیا سے استفادہ کر رہا ہے بالکل اسی طرح وہ اللہ کی اس آخری کتاب سے خوب مستفید ہو سکتا ہے۔ "(صفحہ ۹)
نوجوانوں کو قرآن کریم سے جوڑنے کے لیے ایک نصاب ترتیب دیا گیا؛ جس میں اسلام کے بنیادی عقائد، اخلاقیات، سماجیات، جنت، جہنم اوردعائوں سے متعلق منتخب نصاب ترتیب دیا گیا، تاکہ نوجوان طبقہ مختلف تفاسیرکانچوڑایک ہی کتاب سے پڑھ کرمستفیدہوں۔ ڈاکٹر رضی الا سلام ندوی لکھتے ہیں:’’زیر نظر کتاب قرآن مجید کے منتخب مقامات کا اجتماعی مطالعہ کی روداد پیش کرتی ہے۔اس میں پچپن اسباق ہیں۔جن آیات کا انتخاب کیا گیا ان میں اسلام کے بنیادی عقائد (توحید، رسالت، آخرت) معاشرت، اخلاقیات، جنت، جہنم اور دعا کے مضامین آئے ہیں۔پہلے ان آیات کا اجتماعی مطالعہ کروایا گیا، پھر شرکا کو فالواپ کا خاکہ دیا گیا، جس کے تحت چالیس(۴۰) عربی اور پانچ (۵)اردو تفاسیر کا مطالعہ کروایا گیا اور ان کے ضروری نوٹس تیار کروائے گئے اور ان ضروری نوٹس کو اس کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔ "(ص ۱۴)
مصنف نے تشریح سے پہلے’ طریقہ استفادہ‘ پربحث کی ہے؛ جس میں انہوں نے کتاب سے’ استفادہ کیسے کریں ؟‘پر اہم نکات رقم طرازکئے ہیں۔ بعدازاںاقسامِ تفاسیر میں چار قسم کی تفاسیر؛تفسیر بالماثورہ، تفسیر بالرائے، تفسیر الصوفیہ اور تفسیر الفقہ کا مختصر مگر جامع تعارف کرایا ہے۔
زیرتبصرہ کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ مصنف نے قدیم و جدید تفاسیر سے استفادہ کیا گیا ہے۔اس کتاب میں شامل قدیم تفسیر ۱۰۵ھ کی ہے اور جدید تفسیر جس سے استفادہ کیا گیا ہے ۱۴۳۱ھ کی ہے اس طرح تقریباً سواہزار سال کے دورانیہ سے متعلق تفاسیر یہاں شامل کی گئی ہیں۔
عقیدہ توحید کے تحت ۷منتخب آیات کا مطالعہ کیا گیا ہے، رسالت کے تحت۴،عقیدہ آخرت کے تحت ۸، اخلاقیات کے تحت ۱۲، معاشرت کے تحت۶جہنم کے تحت ۴، جنت کے تحت ۶،دعا کے متعلق ۶منتخب آیات کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔
ہر باب کے شروع میں اس موضوع کی اہمیت بیان کی گئی؛مثلا اخلاقیات کے تحت جب مختلف آیات کا انتخاب کرتے ہیں تو پہلے موضوع کی اہمیت کے تحت لکھتے ہیں:
’دنیا میں رہ کر انسان اپنے اعضا و جوارح سے جو اعمال انجام دے گا، ان کے صحیح یا غلط ہونے اور خیر یا شر ہونے میں اخلاقی اقدار کا ہی نمایاں کردار ہوتا ہے، بنیادی انسانی اخلاق سے عاری ہر عمل، چاہے فرد کرے یا معاشرہ ،برا ہی مانا جاتا ہے جب کہ اچھے اخلاق سے مزین چھوٹے سے چھوٹا کام انسانی دلوں میں اپنا گھر بنا لیتا ہے۔دنیائے انسانیت کو اسی اخلاق کا درس دینے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارک ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔" (البیہقی) اخلاقیات کی اسی اہمیت کے پیش نظر قران مجید کی منتخب آیات کی روشنی میں تصور اخلاق اور عملی جہتیں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ‘
کسی بھی موضوع کے تحت قرآنی تعلیمات معلوم کرنے کے لیے ایک ترتیب سے مختلف سورتوں کی منتخب آیات کا مطالعہ کیا گیا تاکہ اس موضوع کے اہم نکات کی وضاحت ہو۔ ہر باب کے آخر میں ان آیات یا سورتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس باب سے متعلق ہے؛ مثلاً آخرت کے باب کے اختتام میں ۲۷آیات اور سورتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پہلے منتخب آیات یا منتخب سورہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔’آیت الکرسی‘ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ’ سید آیات‘ ہے یعنی وہ آیت جو تمام آیات کی سردار ہے،" ایک روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھا "ابو المنذر کیا تم جانتے ہو کہ قرآن کریم کی کونسی آیت سب سے عظیم ہے؟ وہ کہتے ہیں :میں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔آپ نے پھر پوچھا، ابو المنذر کیا تم جانتے ہو کہ قرآن کریم کی کونسی آیت سب سے عظیم ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ آیت الکرسی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا، ابو المنذر تمہیں علم مبارک ہو۔‘(مسلم) مزید لکھتے ہیں :’شرح صحیح مسلم میں امام نووی نے فرمایا :آیت الکرسی دوسری آیتوں سے ممتاز اس لیے ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے سات بنیادی اصولوں پر مشتمل ہے :۱۔ الوہیت، ۲۔ وحدانیت،۳۔ حیات، ۴۔علم ۵۔ملک ۶۔قدرت ۷۔ارادہ ۔‘(صفحہ ۴۷)
منتخب آیات کے تحت اہم الفاظ کی وضاحت کی گئی ہے، مصنف جب ’یتلو علیھم آیاتہ‘ کی شرح لکھتے ہیں تو ’یتلو ‘کے بارے میں لکھتے ہیں :’یتلو… تلو سے ہے جس کے معنی ہیں مکمل یکسوئی اور دل جمعی کے ساتھ کسی چیز کے پیچھے چلنا اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو حائل ہونے نہ دینا، جب تلاوت آیات کہتے ہیں تو اس میں قرات کے ساتھ غور و فکر اور عمل شامل ہو جاتا ہے۔تلاوت اصل میں دوہرا عمل ہے، اس سے نہ صرف آیت پڑھنا مطلوب ہے بلکہ اس کے معنی و مطالب کے پیچھے پیچھے چلنا بھی اس کا عین تقاضہ ہے۔چنانچہ لفظ تلاوت صرف قرآن کے ساتھ بولا جاتا ہے کسی اور کے ساتھ نہیں کیوں کہ قرآن پڑھنے سے اس پر عمل بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ "(صفحہ ۷۸)
چونکہ مصنف نے قدیم و جدید علوم حاصل کیے ہیں لہذا ان کے سمجھانے کا انداز بھی انوکھا ہے۔زبان بھی عمدہ ہے اور روانی کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔موضوع کے اہم نکات بیان کیے گئے ہیں؛ وہ بھی پوائنٹ وائز، کہی بھی غیر ضروری طوالت کا احساس نہیں ہوتا۔صیح احادیث کی کثرت ہے جس سے آیات سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ آیات کی تشریح میں کافی حوالے دیے گئے ہیں جنت کے حوالے سے سورہ دھر کی آیت ۵تا ۲۲ میں ۱۲۴ریفرنسز ہے۔(صفحہ ۴۲۴)
آیت کو پوائنٹ وائز لایاگیاہے تاکہ قابلِ فہم ہو۔ سورہ عبس آیات ۳۳کو اس طرح بیان کیا گیا۔ا۔آخر کار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز بلند ہوگی ۔۲۔اس روز آدمی بھاگے اپنے بھائی ۔۳۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ ۔۴۔اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے ۔
کتاب میں سائنسی معلومات بھی ہے؛لکھتے ہیں: "زمین کے اوپر ہمہ اقسام کے پھلوں کا اگنا اور ہر ایک پھل کی کئی کئی قسمیں ہونا، اپنے اندر بے شمار پہلو رکھتا ہے۔’رایل باٹینک گارڈن ‘کے سروے کے مطابق ساری دنیا میں ایک ہزار سے لے کر دو ہزار تک کھانے والے پھلوں اور ترکاریوں کے درخت اور بیلیں پائی جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کثرت سے زمین سے پھل پیدا فرمایا کہ صرف سیب کی ۷۵۰۰قسمیں اور کیلے کی تقریباً ۱۶۰۰قسمیں ہیں۔ " (صفحہ ۱۳۰)کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ ہر درس کے اختتام پر پر نکات برائے غور و فکر اور نکات برائے عمل بھی بتایا گیا ہے۔سورہ النبا آیت ۲۱ تا ۲۶کے حاصل مطالعہ میں جہنم کے حوالے سے نکات برائے غور و فکر کے تحت لکھتے ہیں :
۱۔جہنم میں مدتوں پڑے رہنے کا عذاب کیسا ہو سکتا ہے؟ جب کہ ہر وقت بلکہ پل پل شدت کی گرمی اور آگ ہوگی
۲۔ایک انتہائی لمبی مدت کے لئے جہنم میں شدید بھوک اور پیاس کی حالت میں رہنے کا مستحق آخر انسان کیوں ہو جاتا ہے؟
۳۔جہنم سے بچنے کی صورتیں کیا ہو سکتی ہیں؟ وہ کون سے گناہ ہے جن سے بچنے کی شعوری کوشش کرنی چاہیے؟؟
اس کے بعد مصنف ہر درس کا اختتام نکات برائے عمل سے کرتا ہے۔ مذکورہ بالا درس کے تحت نکات برائے عمل کے تحت لکھتے ہیں:
۱۔عذاب جہنم سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کو مکمل طور پر چھوڑنے کی کوشش کیجئے
۲۔اللہ تعالیٰ کی گرفت بڑی سخت ہے، وہ ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب لے گا، اس بات کو اپنے دل میں بٹھا لیجیے
۳۔قرآن و حدیث کے مطالعہ سے یہ معلوم کیجئے کہ کون سے نیک اعمال جہنم سے نجات دیتے ہیں اور کون سے برے اعمال جہنم کا مستحق بناتے ہیں؟
مبصر کا ماننا ہے کہ یہ کتاب قرآن فہمی میں نمایاں رول ادا کرے گی۔ہرخاص وعام کواس سے استفادہ کی کوشش کرنی چاہیے ۔مصنف کی محنت کو وائٹ ڈاٹ پبلشرز نئی دھلی نے خوبصورت گیٹ اپ پر شائع کیا ہے۔
مبصر کا واٹس اپ : 9906653927