اقوام متحدہ// اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی معروف پاکستانی ماہر قانون عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا ایک بہت بڑی شخصیت سے محروم ہو گئی ہے۔انٹونیو گوٹیرش نے پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عشروں تک انتھک محنت کرنے والی ’عظیم القامت کارکن‘ عاصمہ جہانگیر کی موت پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ساری عمر ’ہر کسی کے لیے انصاف اور مساوات کی جنگ‘ بڑی ہمت سے لڑی اور کبھی حوصلہ نہ ہارا۔عالمی ادارے کے سربراہ نے 66 سالہ عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس ’بہادر خاتون‘ کے انتقال پر گہرا صدمہ ہوا ہے اور وہ ان تمام انسانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، جو عاصمہ جہانگیر کی موت سے اپنے حق میں بولنے والی ایک مؤثر اور نڈر آواز سے محروم ہو گئے ہیں۔عاصمہ جہانگیر کو گزشتہ ویک اینڈ پر پاکستانی شہر لاہور میں دماغ کی شریان پھٹ جانے کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں بعد ازاں حرکت قلب بند ہو جانے سے ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر نہ صرف پاکستان میں غیر سرکاری سطح پر کام کرنے والے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی شریک بانی تھیں بلکہ وہ ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کار بھی رہی تھیں۔اس بہت معروف اور احترام کی نگاہ سے دیکھی جانے والی پاکستانی خاتون وکیل کے انتقال کے بعد انٹونیو گوٹیرش کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’وہ ایک انتھک وکیل تھیں، تمام انسانوں کے جملہ بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم، جو نہ صرف پاکستانی نظام عدل میں ایک محترم ماہر قانون کے طور پر جانی جاتی تھیں بلکہ انہوں نے عالمی سطح پر بھی سول سوسائٹی کی ایک سرکردہ کارکن کے طور پر اپنی جگہ بنا رکھی تھی۔