اقوام متحدہ میں چین وروسی مندوبین کا یکطرفہ پابندیاں تسلیم کرنے سے انکار

نیویارک//اقوام متحدہ میں چین اور روس کے مندوبین نے دنیا کے بڑے ممالک کی جانب سے یکطرفہ پابندیوں کو غیرقانونی قرار دے دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں چین اور روس کے مندوبین نے کہا کہ صرف اقوام متحدہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی ملک پر پابندی عائد کرے اور دونوں ممالک کے مندوبین نے یکطرفہ پابندیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔امن کی کوششوں سے متعلق روس اور چین نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کے باہر سے لگائی گئی یکطرفہ پابندیوں سے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پابندیوں کے اثرات، انسانی اور غیر ارادی نتائج پر تبادلہ خیال کیا۔اقوام متحدہ میں روس کے نائب مستقل نمائندے دمتری پولیانسکی نے اپنی تقریر میں کہا کہ محض اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پابندیوں کے فیصلے ہی قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ یکطرفہ پابندیاں شام، بیلاروس، کیوبا، وینزویلا، ایران، افغانستان اور میانمار جیسے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے ڑانگ جون نے کہا کہ یکطرفہ پابندیاں ایک گہرے خدشات پیدا کرتی ہیں اور انہیں ختم ہونا چاہیے۔ سلامتی کونسل کی پابندیوں کو حد سے زیادہ نہیں بڑھانا چاہیے۔ادھر اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق قرن افریقا کے خطے میں ایک کروڑ 30لاکھ انسانوں کو اس وقت خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اس عالمی پروگرام نے فوری طور پر امداد کی اپیل کی ہے، تا کہ خطے میں ایک دہائی پہلے کی اس قحط سالی جیسے حالات سے بچا جا سکے، جس میں ہزاروں انسان مارے گئے تھے۔ قرن افریقا کے مشرقی علاقوں کے لیے ورلڈ فوڈ پروگرام کے علاقائی ڈائریکٹر مائیکل ڈنفورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، مویشی مر رہے ہیں اور بھوک بڑھتی ہی جا رہی ہے۔