اقلیتی تعلیمی اداروں سے سوتیلا سلوک

سال 2014 میں سے ملک میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ ناانصافی اور سوتیلا سلوک مختلف سطحوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔ انہی میں ایک تعلیمی اداروں میں ہونے والی ناانصافی بھی ہے۔ حالانکہ ہندوستانی آئین نے اکثریت کی مانند اقلیتوں کو بھی ہر میدان میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی آزادی دی ہے۔ دستور کی دفعہ تیس نے اقلیتوں کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے طور پر تعلیمی ادارے قائم کر یں اور خود ان کا انتظام سنبھالیں۔ اقلیتوں کے قائم کردہ جن تعلیمی اداروں کو حکومت کی جانب سے اقلیتی ادارے کا سرٹی فکیٹ ملتا ہے ،ان کو بہت کچھ سہولتیں بھی ملتی ہیں۔ اس حوالے سے حکومت نے 2004 میں ’’اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کمیشن‘‘ قائم کیا تھا۔ جس کا ایک کام اقلیتوں یا ان کی تنظیموں کی جانب سے قائم کیے جانے والے تعلیمی اداروں کو اقلیتی ادارے کا درجہ دینا بھی ہے۔ لیکن کلکتہ کے روزنامہ ’’ڈیلی ٹیلی گراف‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی ہے اقلیتوں کی جانب سے قائم کیے جانے والے تعلیمی اداروں کو اقلیتی اداروں کا درجہ دینے میں کافی گراوٹ آئی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق پہلے جہاں ایک سال میں پندرہ سولہ سو اداروں کو اقلیتی اداروں کا درجہ دیا جاتا تھا وہیں اب اس میں بہت زیادہ کمی آگئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2017 میں گیارہ سو اداروں کو اقلیتی درجہ دیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد تیز رفتار گراوٹ درج کی گئی اور 2019 میں دس کو، 2020 میں گیارہ کو اور 2021 میں اب تک صرف چھ اداروں کو اقلیتی درجہ تفویض کیا گیا ہے۔ وزارت تعلیم کے ایک اہلکار کے مطابق اس سلسلے میں دی جانے والی درخواستوں کو منظور کیے جانے سے متعلق ضابطے میں ترمیم کی وجہ سے یہ گراوٹ آئی ہے۔ کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق اگست 2017 سے مارچ 2021 کے درمیان 522 اداروں کو ہی اقلیتی درجہ دیا گیا۔ جن میں عیسائیوں کے 245 ، مسلمانوں کے 185 ، جین برادری کے 70 ، بودھ کے ایک اور سکھوں کے 21 ادارے شامل ہیں۔ وزارت تعلیم کے اہلکاروں کے مطابق درخواستوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ جہاں پہلے دو ہزار درخواستیں سالانہ آتی تھیں وہیں اب ان کی تعداد گھٹ کر 600 تک آگئی ہے۔ اہلکار کا کہنا ہے کہ ضابطے میں تبدیلی کی وجہ سے بھی اقلیتی درجہ دینے کا سلسلہ گرا ہے۔ یاد رہے کہ 2018 میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ اداروں کو اپنی درخواست کے ساتھ ریاستی حکومت کی طرف سے جاری نو آبجکشن سرٹی فکیٹ بھی منسلک کرنا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ریاستی حکومتیں این او سی دینے میں تاخیر کرتی ہیں۔ ایک اہلکار نے اپنی شناخت راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا کہ جان بوجھ کر تاخیر کی جاتی ہے جس کی وجہ سے دفتر میں درخواستوں کا ڈھیر لگ گیا ہے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ 2017 اور 2019 کے درمیان کمیشن میں درخواست کا فارمیٹ تین بار بدلا جا چکا ہے۔ ہر بار نئے نئے مطالبے کیے گئے۔ اس سلسلے میں جب ہم نے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کمیشن کے سابق چیئرمین جسٹس سہیل اعجاز صدیقی سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ کمیشن کے ایکٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی اور یہ کہ دستور کی دفعہ تیس اقلیتوں کو اپنے تعلیمی اداروں کے قیام اور انھیں چلانے کے اختیارات دیتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی ادارے کے قیام کے لیے ریاستی حکومت سے کسی این او سی کی کوئی ضرورت نہیں۔ البتہ پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں جیسے کہ میڈیکل یا انجینئرنگ کے اداروں کے قیام کے لیے این او سی کی ضرورت پڑتی ہے۔ خیال رہے کہ جسٹس سہیل اعجاز صدیقی کے دس سالہ دور میں غالباً سب سے زیادہ 13000 سرٹی فکیٹ جاری کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 2013 میں 1900 اداروں کو اقلیتی درجہ تفویض کیا تھا۔ انہوں نے ہی فروری 2011 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی تعلیمی ادارہ کا سرٹی فکیٹ دیا تھا ،جسے دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ سابقہ یو پی اے حکومت میں انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر کپل سبل کے زمانے میں عدالت میں حلف نامہ داخل کرکے کہا گیا تھا کہ حکومت اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کمیشن کے اس فیصلے کا احترام کرتی ہے۔ لیکن جب مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تو اس نے عدالت میں اس کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی تعلیمی ادارے کا سرٹی فکیٹ دینے کی مخالف ہے۔ حکومت علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بھی عدالت میں مخالفت کر رہی ہے۔ 
سابق کمشنر برائے لسانی اقلیات پروفیسر اختر الواسع نے فارمیٹ میں بار بار کی ترمیم پر اظہار تشویش کیا اور کہا کہ اس کی کوئی وجہ نہیں کہ ضابطے کو بار بار بدلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی فارمیٹ بنانا ہے ،ایک بار ہی بنانا چاہیے۔ بار بار بدلنے سے تعلیمی اداروں کو پریشانی ہوتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دستور کی دفعہ 29 اور 30 پر صحیح طریقے سے عمل درآمد ہونا چاہیے۔ وہ تعلیمی ترقی کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک میں لوگ تعلیم یافتہ ہوں گے تو ملک کی ہی ترقی ہوگی۔ لوگوں میں روشن خیالی آئے گی جس کے نتیجے میں تعصب و تنگ نظری پر ضرب لگے گی۔ لوگوں کے رویے میں بھی تبدیلی آئے گی۔ اس لیے ملک کے عوام کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ذمہ داروں اور نئے وزیر تعلیم کو بھی اس معاملے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے ذمہ داران اور منتظمین اس پریشانی سے بچ سکیں۔تاہم بعض ماہرین تعلیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صورت حال کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہرحال یہ ایک تشویش ناک بات ہے اور اس سے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ لہٰذا وزارت تعلیم کو چاہیے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو اقلیتی سرٹی فکیٹ تفویض کرنے میں جو اڑچنیں پیدا کی گئی ہیں ان کو دور کرے تاکہ اقلیت بھی تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں اور ملک کی ترقی و تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں۔ اگر کسی ملک میں اقلیتیں پسماندہ ہیں یا ان کے حقوق چھینے جا رہے ہیں تو اس سے پوری دنیا میں اس ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کرے اور ملک کو بدنام ہونے سے بچائے۔
موبائل : 9818195929 
������