اقتصادی بحران کے درمیان سری لنکا میں کرفیو نافذ

کولمبو//خوراک اور ایندھن کی کمی کے خلاف پرتشدد مظاہروں کے درمیان سری لنکا کی حکومت نے ملک بھر میں 36 گھنٹے کا کرفیو نافذ کر دیا ہے کیونکہ ملک میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔
 
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق معاشی بحران کا سامنا کرنے والے سری لنکا کے صدر گوٹابایا راج پکسے نے ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں لوگوں پر حکام کی تحریری اجازت کے بغیر کسی بھی عوامی سڑکوں، پارکوں، ٹرینوں یا سمندر کے کنارے جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
 
بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کرفیو ہفتے کی شام سے شروع ہوا۔ حکومت نے فیس بک، واٹس ایپ اور ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا سائٹس کو بھی بند کر دیا ہے۔
 
لوگوں کو ان کے موبائل فون پر پیغامات موصول ہوئے کہ یہ اقدام "ٹیلی کام ریگولیٹری کمیشن کی ہدایت کے مطابق" کیا گیا ہے۔ ان نئی سخت پابندیوں کا مقصد جمعرات کو صدر راج پکسے کی نجی رہائش گاہ کے قریب پرتشدد مظاہروں جیسے اقدامات کو روکنا ہے۔
 
قابل ذکر ہے کہ مسٹر راج پکسے کی رہائش گاہ کے قریب مظاہرے کے دوران مشتعل ہجوم نے کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا تھا۔ اس کے بعد فوج کو تعینات کر کے لوگوں کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
 
سری لنکا غیر ملکی کرنسی کی کمی کی وجہ سے اپنے بدترین معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ غیر ملکی کرنسی ایندھن کی درآمدات کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
 
سری لنکا میں لوگ اس وقت 12 گھنٹے اور اس سے زیادہ بجلی کی بندش کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایندھن، اشیائے ضروریہ اور ادویات کی عدم دستیابی کے باعث عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس دوران تشدد بھی ہوا ہے۔