راجوری// سابق وزیر اعلی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کے روز کہا کہ کوئی بھی پارلیمنٹ جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 کو ختم نہیں کرسکتی تھی لیکن بی جے پی نے غیر آئینی طور پر ایساکیا ۔انہوںنے مزید کہاکہ بی جے پی حکومت سازی کے وقت پی ڈی پی کے ساتھ کئے گئے تمام وعدوں سے مکر گئی۔وہ پیر پنجال کے اپنے تین روزہ دورے کے آخری روز راجوری میںعوامی اجتماع سے خطاب کررہی تھیں۔محبوبہ مفتی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 نہ صرف جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت تھی بلکہ وہ عوام کے سرپر تاج تھا اور بی جے پی نے غیر آئینی طور پر اس کو ختم کردیا کیوں کہ دنیا کی کوئی پارلیمنٹ اس کو آئینی طور پر ختم نہیں کرسکتی تھی۔محبوبہ نے کہا"بی جے پی حکومت خود ہندوستان کے آئین کی سب سے بڑی خلاف ورزی کرنے والی ہے اور غیر آئینی طریقوں کے بعد پارلیمنٹ میں نئے قانون لا رہی ہے" ۔جموں وکشمیر میں پارٹی کی سابق حلیف جماعت پر مزید سختی کا نشانہ بناتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی نے حکومت سازی کے وقت پی ڈی پی سے کئی شرائط پر اتفاق کیا تھا جن میں آرٹیکل 370 کو ختم نہ کرنا ، قیام امن کے فورا ًبعد ہی افسپا کی منسوخی ، جموں و کشمیر کے بجلی منصوبوں کی واپسی اور کرگل اسکردو روٹ ، نوشہرہ بھمبر میر پور روٹ سمیت زیادہ سے زیادہ سرحدی راستوں کا کھولنا شامل تھا۔محبوبہ نے کہا "بعد میں ان تمام وعدوں سے وہ مکر گئے" ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی ہندوستان کی ایک قدآورسیاسی شخصیت تھیں ، جنھوں نے مرحوم مفتی محمد سعید کے کہنے پرکشمیریوں ، حریت اور پاکستان کے ساتھ بھی بات چیت کا ایک نیا باب کھولا اور یہاں تک کہ سرحدوں پر جنگ بندی نافذ کی اور جموں و کشمیر میں امن بحال کیا۔ محبوبہ نے مزید کہا"سابق ریاستی حکومت میں پی ڈی پی کے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے بعدہمارا ایک اہم مطالبہ مذاکرات کی بحالی کا تھا جہاں مسٹر واجپائی چھوڑ چکے تھے لیکن اس پہلو پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی" ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ راجوری کے تین بے گناہ لڑکے حال ہی میں کشمیر کے شوپیان میں ایک مقابلے میں مارے گئے تھے جوافسپاکے تحت اختیارات کے ناجائز استعمال کی واضح مثال ہے۔محبوبہ نے مزید کہا"ای ڈی جیسی متعدد سرکاری ایجنسیاں ہیں جن کا استعمال بی جے پی ان لوگوں کو پشت بہ دیوار کرنے کیلئے کررہی ہے جو حکومت کے خلاف بات کرتے ہیں" ۔سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی کہا کہ اقتدار میرا مقصد نہیں ہے اور میری جدوجہد وزیراعلیٰ بننابھی نہیں ہے بلکہ عزت اور وقار کی بحالی کے لئے جدوجہد کرنا میرا مقدہے جو ہم سے چھینا گیا ہے۔ان کا کہناتھا"اگر ضرورت پیش آتی ہے اور صورتحال تقاضا کرتی ہے تو پارٹی میں ہمارے پاس متعدد افراد موجود ہیں جو وزیر اعلی بننے کے اہل ہیں"۔پی ڈی پی کے دیگر رہنماؤں نے بھی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی نہ صرف ایک سیاسی جماعت ہے بلکہ اپنے طور پر ایک کنبہ ہے اور یہ تنوع کی مثال ہے کیونکہ معاشرے کے تمام طبقات کے لوگ اس کا حصہ ہیں۔