پونچھ +راجوری//بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھو نے سابق حکومت میں اپنی اتحادی جماعت کی سربراہ و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کوتنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اقتدار ختم ہونے کے ساتھ ہی انہوںنے اپنا موقف بھی تبدیل کردیا۔راجوری اور پونچھ میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے رام مادھو نے کہاکہ پی ڈی پی صدر کا مخلوط حکومت میں ایک موقف تھا اور وہ فوجی ایکشن کی حامی تھیں لیکن اقتدار ختم ہونے کے ساتھ ہی انہوںنے اپنا موقف تبدیل کرلیا ۔ان کاکہناتھاکہ جب ریاست میں بھاجپا اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت تھی تو محبوبہ مفتی کے الگ بیان ہوا کرتے تھے لیکن اب جب انتخابی دور ہے تو وہ دہشت گردوں کی وکالت کر رہی ہیں۔انہوںنے اپنے خطاب میں پی ڈی پی،نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تینوںجماعتیں دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے تمام پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کو انتخابات میںکھڑا کرتی تھیں لیکن اب ان پرمودی کا خوف طاری ہے اور یہ جاننے پر کہ مودی کو ہرانا ناممکن ہے ،انہوںنے مہاگٹھ بندھن کاڈرامہ اختیا رکیاہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں ادھمپورمیں کانگریس نے اپنے نمائندہ کھڑے کئے ہیں اورنیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی اسے حمایت دے رہی ہیں لیکن ان دونوں نشستوںپربی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوں گے ۔انہوںنے سوالیہ انداز میں کہاکہ اگر جموں میں اتحاد کیاگیاتو کشمیر میں کیوں نہیں ۔رام مادھو کاکہناتھاکہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جانتی ہیں کہ بی جے پی کے نمائندہ جگل کشور کو اس طرح ہرانا ممکن ہے اسلئے انہوں نے کانگریس کے امیدوار کے حق میں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کئے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت سے قبل کالابازری تھی جسے مودی نے ختم کر دیا اس لئے ملک کو لوٹنے والے مل کر مودی کو ہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مودی حکومت سماج کے دبے کچلے اور غریب لوگوںکیلئے کام کررہی ہے نہ کہ تاجروں کیلئے ۔مادھو نے اپنے دورہ راجوری پونچھ کے دوران درہال، کوٹرنکہ ، گنڈااور پونچھ میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا اور پارٹی امیدوار جگل کشور کے حق میں ووٹ کی اپیل کی۔