افغانستان میں قیام امن کیلئے فوجی سربراہ کا مشورہ

کہا جھوٹ پھیلا کر کشمیری نوجوانوں کو سخت گیر بنایا جارہا ہے 

 
نئی دہلی//بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ شدت پسندی جنگ کی ایک نئی صورت میں پیدا ہورہی ہے، لہٰذاسخت گیری روکنے کیلئے سوشل میڈ یا کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے اس بات کی وکالت کی کہ طالبان کیساتھ بلا شرط بات چیت کی جائے۔ ایک پینل مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے جنرل بپن رائوت نے کہا کہ شدت پسندی جنگ کی نئی صورت بن گئی ہے۔ انہوں نے پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ شدت پسندی اور سخت گیری لگاتار پھیل رہی ہے اور تب تک پھیلتی جائے گی جب تک ملک اس کو پالیسی کے طور استعمال کرتے رہیں گے۔ راوت نے کہا’ بھارت میں الگ قسم کی سخت گیری دیکھی جارہی ہے اور جموں کشمیر کے نوجوانوں کو غلط اطلاعات، غلط انفارمیشن اور مذہب کے بارے میں جھوٹ پھیلا کرسخت گیر بنایا جارہا ہے‘۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سخت گیری پھیلانے کا مؤجب بن رہا ہے۔ان کا کہناتھا ’یہی وجہ ہے کہ جموں کشمیر میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ تعلیم یافتہ نوجوان عسکریت میں شامل ہورہے ہیں‘۔ فوجی  سربراہ  نے مزید کہا ’ شدت پسندی جنگ کی نئی صورت بن گئی ہے، ایک کمزور ملک اس کا درپرہ استعمال کرکے دوسرے ملک کو اس کے ساتھ معاملات کرنے کیلئے دبائو ڈالتا ہے‘۔ انہوں نے افغانستان امن عمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے ساتھ کسی شرط کے بغیر بات چیت ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ طالبان کی پشت پنائی کی اور یہ قابل تشویش معاملہ ہے ۔