افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی سے دشمن پریشان

واشنگٹن// امریکا کے آرمی چیف جنرل جوزیف ڈانفورڈ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی جنوبی ایشیا میں عدم استحکام اور  جنگجوئوں کو امریکا پر ایک اور حملے کی منصوبہ بندی کے لیے خلا فراہم کرسکتی ہے۔اس لیے انہوں نے افغانستان میں امریکی فوج کی طویل دورانیے کے لیے موجودگی کی تجویز دی، جو جنگ زدہ ملک میں استحکام کے لیے ہے۔ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کس صورت میں افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کی تجویز دے سکتے ہیں، جس پر امریکی آرمی کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے انٹرویو میں کہا کہ 'میں تجویز نہیں دوں گا کہ ہم افغانستان چھوڑ دیں، کیونکہ میرے مطابق افغانستان کو چھوڑنا نا صرف جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا باعث ہوگا بلکہ اس سیجنگجوئوں کو امریکی عوام، ان کی سرزمین اور ان کے اتحادیوں کے خلاف منصوبوں کے لیے خلا مل جائے گا (جیسا انہوں نے 11 ستمبر 2001 میں کیا تھا)'۔جب امریکی جنرل سے سوال کیا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران افغانستان میں 5 امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر امریکی عوام نے سوالات اٹھائیں ہیں، جسے تسیلم کرتے ہوئے امریکی جنرل نے کہا کہ 'میرے مطابق افغانستان میں ہماری موجودگی کی وجہ سے، دشمن پریشان ہے۔ جس سے ان کی امریکا کو دھمکانے کی پوزیشن بھی کمزرو ہے'۔انہوں نے افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کی مخالفت کرنے کی وجوہات بھی پیش کیں۔امریکی جنرل نے کہا کہ 'ان کی خواہش ہے، اور مستقبل میں وہ ایسا کچھ کرسکتے ہیں، جو ہم 11 ستمبر کو دیکھ چکے ہیں'۔امریکی جنرل نے انہیں یاد دہانی کروائی کہ وہ جو کہتے تھے ہیں کہ 'افغانستان پر توجہ مرکوز نہیں کرنی چاہیے' لیکن وہاں 20 تربیت یافتہ گروہ موجود ہیں، جو جنوبی علاقوں میں کارروائیاں کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں یقین رکھتا ہوں کہ جنوبی ایشیا میں ہمارے محتاط مفادات اور پائیدار معیشت جبکہ پائیدار جمہوریت ہماری موجودگی سے مشروت ہے۔